نیا لاہور، نیا پاکستان

11 اپریل 2018

پاکستان کو ہر پانچ دس سال بعد نیا پاکستان بنا دیا جاتا ہے جبکہ اصل پاکستان کی صورت مزید دھندلا جاتی ہے۔ پاکستان کے ابتدائی چند سالوں میں جب اُس کی شکل و صورت واضح ہونی تھی وہ تو نہ ہوسکی۔ پے درپے حکومتوں کی تبدیلی کو پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاجامے کی تبدیلی سے منسوب کیا اور اُس کے بعد تو پھر نیا پاکستان بنانے والوںکی قطار لگ گئی۔ ایوب خاں نے کہ حاکم کُل تھے اپنا نیا پاکستان بنایا۔ ابھی وہ اپنے نئے پاکستان کا دس سالہ جشنِ ترقی منا رہے تھے کہ کتیا کتیا ہوگئی۔ اس کے بعد یحییٰ خان نے اپنا نیا پاکستان بنایا یعنی آدھا پاکستان غیروں کے حوالے کیا اور باقی آدھے کو ہی نیا پاکستان قرار دے دیا۔ بھٹو نے روٹی، کپڑا، مکان والا پاکستان بنانے کی بات کی مگر اپنی جاگیردارانہ ذہنیت کے باعث پوری نہ کی اور بات لوگوں کو زبان دینے کی حد تک محدود رہی۔ اس کے بعد جنرل ضیاءنے قیام پاکستان کے مقاصد میں سے کچھ مطلوبہ مقاصد الگ کیے اور اُن کی بنیاد پر پھر ایک بار نیا پاکستان بنانے کی کوشش کی۔ لوگ جو پہلے والے نئے پاکستان کے نعرے سے تنگ تھے۔ 11 سال ایک اور نئے پاکستان کو بھگتتے رہے اور پھر ساتھ ہی افغان مہاجروں، ہیروئین اور کلاشنکوف والے پاکستان کو ہی نیا پاکستان سمجھنے پر مجبور کردئیے گئے۔
اللہ اللہ کرکے طیارہ فضا میں”پھٹ گیا“ تو اس نئے پاکستان سے بھی جان تو چھوٹی مگر طویل مارشل لاءنے لوگوں کے اندر جمہوریت کی تڑپ کو اور اجاگر کیا۔اس کے بعد والا پاکستان، جمہوری پاکستان تھا مگر اس جمہوریت کو چلانے والے وہی لوگ تھے جو پہلے مارشل لاﺅں کے دست و بازو تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے صرف نعرہ تبدیل کیا سوچ میں تبدیلی کو قریب نہیں آنے دیا۔
سوچ میں تبدیلی دراصل تعلیم اور آگہی کی حامل ہوتی ہے مگر ان دونوں آلات کو اس قدر کند کرنا اُن کی مجبوری تھی کہ پھر اُن کو ”پرچی“ سے کون نوازتا۔ لہٰذا پاکستان کی صورت اور دھندلاتی گئی اور ہر الیکشن میں نئے نعرے کے ساتھ اصل نعرہ شور میں دبتا گیا۔ آج کا ”کرپشن فری پاکستان“ بھی اُسی سلسلے کی کڑی ہے مگر جو پاکستان عام پاکستانیوں کے خوابوں اور آدرشوں کا مرکز تھا کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہاں اُس کا نعرہ ہر پارٹی لیڈر کی زبان پر ہے۔ جو سوتے جاگتے لگاتا ہے اور لوگوں کو اپنے گرد جمع کرکے وہی بات کرتا ہے جو قائداعظم کی تقریروں میں تھی۔ اقبال کے خواب میں تھی ، نئے پاکستان کا جو حشر ہم نے کیا وہ تو سامنے ہے کہ آج کا پاکستان اپنے برباد شہروں سے بھی پہچانا جارہا ہے کراچی کوڑے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ لاہور گردبادِ حیات کا ڈھیر نظر آرہا ہے کہ ہر طرف خاکِ وطن اڑ رہی ہے جن لوگوں نے ستّر کا لاہور دیکھا ہے اُن کے لیے آج کے نئے لاہور کی زیارت کافی تکلیف دہ ہے کہ سارا منظر نامہ ہی بدل چکا ہے۔ میٹرو بس کے پل نے پرانے لاہور کے نقشے کو تبدیل کردیا ہے اب ایک طویل پل پر ایک بس چلتی ہے اور اس پل کے نیچے ایمبولینس اسی طرح چیخ و پکار کررہی ہوتی ہے جیسے باقی بڑی بڑی گاڑیاں جن کی رہنمائی کے لیے 64 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں موجود ہوتی ہیں جن پر 64 لاکھ سائیکل سوار اپنی سائیڈ پر یا ایک طرف چلنے کی بجائے عین گاڑی کے آگے کان میں موبائل فون کا گانا لگا کر چلتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی جتنی ورائٹی آف ٹریفک ہم نے اپنی مرکزی سڑکوں پر لاکھڑی کی ہے دنیا کے کسی مہذب ملک میں موجود نہ ہے کہ ایک ہی سڑک پر بڑی گاڑی بھی ہے چھوٹی گاڑی بھی بلکہ گدھا گاڑی بھی اس کے ساتھ سائیکل، ویگن، موٹرسائیکل اور پیدل بے چارے کو تو کوئی جگہ دینے کو تیار ہی نہیں کہ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اس کے بارے میں سوچے کہ سڑک کا اصل مالک تو وہ ہے مگر اس بے چارے کے پاس کوئی مہذب سواری خریدنے کے لیے رقم نہیں!!
یہ تو صرف سڑکوں کا حال ہے باقی نئے لاہور کے مسائل ابھی ایک طرف ہیں۔ ان میں بنیادی مسئلہ ایک ہی جگہ پر تمام ضروریاتِ زندگی کا ارتکاز ہے کہ جس نے اپنے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوانی ہے وہ بھی لاہور آئے جس نے بڑے ڈاکٹر سے علاج کرانا ہے وہ بھی اپنی زندگی کی جمع پونجی اکٹھی کرکے لاہور آئے۔ اگر ہم نے لاہور کو بار بار نیا کرنے کی بجائے چند نئے شہر بسا لیے ہوتے اور اُن میں وہی سہولتیں موجود ہوتیں جو صرف لاہور میں ہیں تو شاید صورتِ حال اتنی خراب نہ ہوتی جتنی اس وقت نئے لاہور کی ہے کہ اُس کی تیز ترین زندگی میں زندگی کے بارے میں سوچنے کا کسی کے پاس وقت نہیں۔ابھی ہم نے نئے لاہور کے منظر نامے کو اورنج ٹرین سے ”دوآتشہ“ نہیں کیا کہ جس نے ایک اور منظرنامہ ترتیب دینا ہے۔ فی الحال تو اس روٹ پر بجلی اور ٹریفک مسائل ہیں کہ بجلی جب جی چاہے چلی جاتی ہے اور واپڈا کا ٹیلی فون آپریٹر صرف یہی معلومات دے سکتا ہے کہ اورنج ٹرین کے کام کی وجہ سے بجلی گرڈ اسٹیشن سے بند ہے اور شام کو آئے گی۔اسی طرح جہاں جہاں اس ٹرین کے اسٹیشن زیر تعمیر ہیں وہاں وہاں متبادل کی نشاندہی کے بغیر ہی سڑکوں کے روٹ تبدیل کیے گئے ہیں لوگ بڑی محنت کرکے ایک سڑک پر سیدھے جاتے ہیں اور آخر پر ”معذرت“ کا بورڈ پڑھ کر اپنے نصیبوں کو کوستے واپس آتے ہیں۔حالانکہ یہ بورڈ سڑک کے آغاز پر ہی لگا دیا جاتا تو شاید کوئی پڑھا لکھا فرد پڑھ کر وہیں سے واپس دیگر نئی راہ تلاش کرتا۔ اس طرح کے مسائل کو جب تک ہم نئے لاہور کا حصہ بنانے کا عزم کیے رکھیں گے اس وقت تک ہمارے اندر نیا پاکستان بنانے کا عزم زندہ رہے گا، انسان زندہ رہیں یا نہ رہیں، عزم ضرور زندہ رہنا چاہیے اور یہی عزم ہی ”نئے لاہور“ کا تاحکم ثانی جاریہ بیانیہ ہے....!!