تقریب رونمائی

11 اپریل 2018

ارشاداحمدارشد

قرآن مجیدکلام الہی ہے جسے اللہ نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اپنے آخری نبی حضرت محمدؐ پرنازل فرمایاہے۔قرآن کریم ایک ایسی جامع کتاب ہے جس کے ایک ایک لفظ سے حقائق و معارف کے دریا بہہ رہے ہیں۔ ایسی کتاب کے معانی معلوم کرنا، اس سے مطالب اخذ کرنا، پھر اس کی مراد اور مقصد متعین کرنا صرف نبی ٔاکرم ؐکا کام ہے جو وحی ٔالٰہی کے حامل تھے۔جس طرح قرآن مجیداوراحادیث کی فضیلت ہے ایسے ہی وہ محفلیں بھی بہت بابرکت ہیں جن میں اللہ کاقرآن اوررسول ؐ کافرمان عالی شان بیان کیاجائے ۔ایسے ہی ایک محفل کاانعقادگذشتہ دنوں’’دارالسلام قرآن انسٹیٹیوٹ‘‘ شیخوپورہ میں کیاگیا۔’’دارالسلام ایجوکیشنل سسٹم ‘‘کے زیرانتظام ہونے والایہ بابرکت،باسعادت،باوقاراورایمان افروز پروگرام’’ عبدالمالک مجاہدکی زیرصدارت منعقدہوا۔ مہمان خصوصی مفتی حافظ عبدالستارحمادتھے۔ عارف جاویدمحمدی کویت سے کتاب’’ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری کی تقریب رونمائی میں شرکت کے لئے آئے تھے ۔ صحیح بخاری کا ترجمہ اور شرح محقق حافظ عبدالستار حمادنے سولہ سال کی محنت کے بعداسے پایہ تکمیل تک پہنچایاہے۔
اس محفل کو جیدعلما ئے کرام ،شیوخ الحدیث اوراساتذہ نے رونق بخشی۔صدارتی کلمات وکلمات تشکرکافریضہ عبدالمالک مجاہدنے اداکیا۔حافظ عبدالعظیم اسدنے تقریب کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔قرآن مجیدکی تلاوت کی سعادت قاری عبدالسلام عزیزی،قاری ابراہیم میرمحمدی،قاری حمزہ مدنی،قاری نویدالحسن کوحاصل ہوئی۔اس خالصتاََعلمی،دینی اورروحانی تقریب میں ہرعالم دین اورشیخ الحدیث نے علم کے موتی بکھیرے،امام بخاری کی جلالت علمی اورصحیح بخاری کے مناقب وفضائل بیان کئے۔مجلس کے مہمان خصوصی حافظ عبدالستارحمادنے صحیح بخاری کی شرح لکھے جانے کی طویل جدوجہد پرروشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ عبدالمالک نے1998ء میں صحیح بخاری کی شرح لکھنے کاکام میرے ذمہ لگایا۔میں نے نئے جذبے اور نئے ولولے سے صحیح بخاری پر کام کی منصوبہ بندی کی اور رات کے پچھلے حصے میں کام کرنے کا پروگرام بنایا کیونکہ اس وقت میں اللہ تعالیٰ نے بہت خیر و برکت رکھی ہے۔ دن کے ہنگامہ خیز اوقات کے بجائے رات کے پچھلے پہر بیدار ہوتا، وضو کر کے پر سکون ماحول میں بیٹھ جاتا، پھر امام بخاری کے قائم کردہ عنوان اور پیش کردہ حدیث پر غور کرتا، اس کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کو دیکھتا، حدیث کا مفہوم متعین کرنے کے لیے حافظ ابن حجر کی تالیف ’’فتح الباری‘‘ پڑھتا، بوقت ضرورت علامہ عینی کی ’’عمدۃ القاری‘‘ کو بھی دیکھتا، اس کے علاوہ عرب شیوخ، مثلاً: شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد ناصر الدین البانی اور شیخ صالح العثیمین کی تالیفات و رسائل سے استفادہ کرتا، پھر گھنٹوں غور و فکر کرنے کے بعد حدیث کے مفہوم اور اس سے اخذ کردہ فوائد کو نوک قلم پر لاتا۔ بہرحال جو کچھ لکھا وہ اندھیرے میں تیر چلانے کے بجائے علی وجہ البصیرت لکھا ہے۔ بعض مسائل کے متعلق میںنے سیرحاصل بحث کی ہے جو شاید دوسری کسی کتاب میں دستیاب نہ ہو سکے۔ صحیح بخاری کی کتاب التوحید کی تشریح کے لیے شیخ عبداللہ الغنیمان کی تالیف شرح کتاب التوحید کا انتخاب کیا تاکہ توحید الاسماء والصفات کے متعلق اسلاف کا منہج نکھر کر سامنے آ جائے۔ اس میں میری استعداد و لیاقت کو کوئی دخل نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔ اس کی توفیق ہی سے میں یہ کام کرنے کے قابل ہوا ہوں وگرنہ میں تو سپرانداز ہو چکا تھا۔ ارشاد الٰہی ہے: ’’ہم پراور تمام لوگوں پر یہ اللہ ہی کا فضل ہے لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر نہیں کرتے۔‘‘ امام بخاری کے قائم کردہ عنوانات کے متعلق یہ بات اہل علم کے ہاں مشہور ہے کہ ’’بخاری کی فقاہت ان کے تراجم میں ہے۔‘‘ اور یہ تراجم خاموش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ٹھوس ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تراجم پر غور و فکر کر کے کچھ اصول وضع کیے جائیں، پھر ان اصولوں کی روشنی میں پیش کردہ احادیث کا جائزہ لیا جائے اور مدارس میں ان کے مطابق صحیح بخاری کی تدریس کی جائے۔تقریب سے پروفیسرمحمدیحیٰ، حافظ محمدشریف، حافظ عبدالعزیزعلوی، حافظ عبدالسلام ، مولانامحمدرمضان سلفی،مولاناعتیق اللہ سلفی،چوہدری یسینٰ ظفر،مولاناالیاس اثری، پروفیسر ڈاکٹر حمادلکھوی، پروفیسرڈاکٹرعبیدالرحمن محسن، استاذ العلماء حافظ مسعودعالم،محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری،ڈاکٹرمحمدزبیر ،الشیخ عارف جاوید محمدی، حافظ اسعدمحمودسلفی نے بھی خطاب کیا۔