تبصرۂ کتب

11 اپریل 2018

جی آر اعوان

صحیفہ۔ اوراق لاہور

’’تمہاری تنہائی بے شک قابل افسوس ہے ، اور اس تنہائی کے عالم میں ایسے شعر کہنا جیسے تم کہتے ہو تمہارا ہی کام ہے۔ تنہائی مٹانے کی اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔ راہ سلوک کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھو تو معلوم ہوگا، توبہ استغفار کیسی کڑی منزل ہے کیوں کہ توبہ استغفار بھی وہ تو ہو جس کی نسبت قرآن مجید میں ہے کہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔
یہ اقتباس مجلس ترقی ادب لاہور کے علمی و ادبی مجلے صحیفہ سے لیا گیا ہے، جس کی مجلس ادارت میں ڈاکٹر تحسین فاراقی، افضل حق قریشی، محمد ظہیر بدر شامل ہیں یہ مجلہ مجلس ترقی ادب، 2کلب روڈ لاہور سے شائع ہوتا ہے، شرکت پرنٹنگ پریس سے طبع ہونے والے اس مجلے کے طابع جبران احسن ہیں جبکہ قیمت 580 روپے ہے۔
اس مجلے میں امیر مینائی کے مکاتیب کے علاوہ مکاتیب بنام چودھری جلال الدین اکبر اور مکاتیب بنام بشیر احمد ڈار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالمجید قرشی، مولانا حامد علی خان، پیرزادہ ابراہیم حنیف کے مکاتیب بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مکاتیب بنام ضیاء الدین لاہور، مکاتب بنام محمد اقبال مجددی اور مکاتب بنام بشریٰ رحمن بھی مجلے کا حصہ ہیں۔ مکاتب ڈاکٹر حمیداللہ، مکاتیب بنام رئوف باریکھ بھی قابل مطالعہ ہیں ۔واضح رہے مکاتیب کا حصہ سوم زیر ترتیب ہے۔


باقیات مختار صدیقی

’’قصہ مختصر تمام شعری و نثری تحریریں مختار صدیقی کی فنی و فکری عظمت و محنت کی بہترین مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں موصوف نے ایک صنف سخن میں ہی اپنی تخلیقی جدتوں اور اپج کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اس نے متنوع اصنافِ سخن میں اپنی فنی استادی اور ہنر مندی کے بھی جوہر دکھائے ، علمی برتری کے جھنڈے گاڑے اور طبع آزمائی کی جدت اور انفرادیت کے پھول کھلائے۔‘‘
یہ سطور ڈاکٹر صابرہ شاہین کی تصنیف باقیات مختار صدیقی سے لی گئی ہیں۔ جس کے ناشر سید وقار معین ہیں جبکہ طابع گنج شکر پریس لاہور ہیں اور قیمت 945 روپے ہے کتاب کا انتساب وقت کے نام ہے جس کے تیز بہائو میں گزرے قرنوں، صدیوں اور لمحوں کی داستان تنکا تنکا بہتی چلی جاتی ہے۔
ڈاکٹر صابرہ شاہیں رقمطراز ہیں۔ مختار صدیقی نے داستان سے ناول تک ارتقاء منزل بہ منزل پرکھا۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری کا خیال ہے مصنف کی تحریروں کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر شاہین کی محنت مشاقہ سے اُن کے فن کے بے شمار ایسے گوشے ظاہر ہوئے جن پر روشنی ڈالنے کے لئے کئی جہتیں موجود ہیں۔ ملک فتح محمد کا کہنا ہے مختار صدیقی حلقۂ ارباب ذوق کے فن برائے دبستان سے اٹوٹ وابستگی رکھتے تھے ڈاکٹر صابرہ شاہین نے ان پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی مگر اپنے اس کام کو ناکافی سمجھ کر مختار صدیقی کی زندگی اور فن پر تحقیق جاری رکھی یہ کتاب اسی جستجو اور جہد مسلسل کا انعام ہے۔


24سونے کے سکے
جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں

’’ایک شخص تھا، جس کا نام اے کردک تھا۔ ایک دن اس کی نظر ایک ایسی مشین پر پڑی جو بیک وقت ملک شیک سے بھرے کئی گلاس تیار کرلیتی تھی۔ کردک تادیر اس کو دیکھتا رہا اور اس کے سحر میں کھویا رہا اور اس مشین کی مارکیٹنگ کے لئے شہر شہر پھرتا رہا۔ اسی دوران اس نے کیلی فورنیا میں ایک برگر ساز ریستوران دیکھا جسے میکڈونلڈ برادران محدود پیمانے پر چلا رہے تھے۔ اس نے اس ہوٹل کے فرنچائز حقوق خرید لئے پھر اس کاروبار کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔‘‘
یہ سطریں کامران احمد صدیقی کی کتاب ’’24 سونے کے سکے جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں‘‘ سے لی گئی ہیں۔ یہ کتاب لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی کی کتاب کا ترجمہ ہے۔ جس کے ناشر آصف جاوید جبکہ مطبع حاجی منیر احمد پرنٹر ہیں کتاب کی قیمت 600 روپے ہے۔ کتاب کا انتساب مترجم نے اپنے والدین، اہلیہ اور بچوں کے نام کیا ہے۔ وہ اپنے دوست عمر خیام کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے اس کتاب کے ترجمے کی ابتدا کی۔نگارشات پبلشرز 26 مزنگ روڈ لاہور سے دستیاب کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے کہ زندگی کو کیسے آسودہ حال کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کے 24 ابواب ہر باب میں کامیاب زندگی بسر کرنے کا نسخۂ کیمیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں ان حقائق کا سراغ بھی لگایا گیا ہے جو انسان کو اندیشوں اور ناکامیوں کی پستیوں سے نکال کر کامرانیوں سے ہمکنار کرسکتی ہے۔