بارود کا ڈھیر

11 اپریل 2018

میں بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہوں
جب چاہوں اسے بھک سے اڑا سکتا ہوں
میرے یوں بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہونے سے
میرے دشمن دنگ رہ گئے ہیں
مجھے حقیر جاننے والے انگشت بدنداں ہیں
سب مجھ سے ڈرنے لگے ہیں
میرا احترام کرنے لگے ہیں
بارود کا ڈھیر انہیں ڈرا دیتا ہے
میرا یہ جنوں انہیں تھرا دیتا ہے
وہ جانتے ہیں میرا ایک فیصلہ
شہر میں تباہی مچا سکتا ہے
جب وہ میرا تعارف کرواتے ہیں
اِک تعظیم سے کہتے ہیں
یہ وہ شخص ہے جو بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے
معززین شہر ڈرتے ڈرتے بھی
مجھ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں!
جب سے میں بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہوں
میرا رُتبہ بہت بڑھ گیا ہے
مسلح دستوں کے اندر بھی مجھے
اب اپنائیت نظر آتی ہے!
میں بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہوں!
جب چاہوں اُسے بھک سے اُڑا سکتا ہوں
(فیصل اقبال کینیڈا)