ہمدرد یونیورسٹی کا 22واں کانووکیشن

11 اپریل 2018

سید علی بخاری

دورِ حاضر کے اہم علوم میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز ،ایسٹرن میڈیسن ،انجینئرنگ ،مینجمنٹ سائنسز،فارمیسی ،سوشل سائنسز اور لیگل اسٹڈیز کی اعلیٰ تعلیم شہید حکیم محمد سعید کا مشن اور اُنکا قائم کردہ مدینۃ الحکمہ اور اس میں موجود ہمدرد یونیورسٹی جو پرائیوٹ سیکٹر میں قائم اپنے وسیع و عریض رقبے و سات فیکلٹیز کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی جامعہ ہے ۔جہاں 6ہزار سے زیادہ اسٹوڈنٹس کی تعداد زیر تعلیم ہے اور علاوہ اسکے اب تک 25000ہزار گریجویٹ جن میں ڈاکٹرز ،انجینئرز ،طبیب،منیجرز،فارماسسٹس اور لائرز کامیاب ہو کر اپنے اپنے شعبوں میں ملک کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں۔جامعہ میں زیرِ تعلیم ذہین مگر کم وسائل طلباء و طالبات کو تقریباًساڑھے چار کروڑ روپے سالانہ کے وظائف دئیے جاتے ہیں ۔سگے بہن بھائی نیز ادارۂ ہمدرد کے ملازمین کے بچوں کی فیس میں خصوصی رعایت کی جاتی ہے،داخلے صرف میرٹ کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیںجسکی وجہ سے اس جامعہ میں پاکستان کے ہر علاقے کے بچے شیرو شکر ہو کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔اس بار جامعہ ہمدرد کے 22ویں کانووکیشن میں 1448فارغ التحصیل طلباء و طالبات کو اسناد عطا کی گئیں اس کے ساتھ ساتھ7بہترین طلباء و طالبات کو حکیم گولڈ میڈلز اور22طلباء و طالبات کو ہمدرد یونیورسٹی گولڈ میڈلز دیئے گئے ۔تقریب میں معروف ماہر گردہ و جگر ڈاکٹر سید ادیب الحسن رضوی کو ڈاکٹر آف میڈیکل سائنسز کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔وائس چانسلر جامعہ ہمدردپروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن نے کانوو کیشن کے موقع پر اپنے ابتدائی کلمات میں بتایا کہ ہمدرد یونیورسٹی کے اپنے پچیس سال پورے ہونے کی خوشی میں سلور جوبلی منائی گئی ،جبکہ اختتامی تقریب (IEEE)کے شراکت سے نومبر 2018ء میں بین الاقوامی سطح پر انعقاد پذیر ہوگی ۔انہوں نے مبارکباد دیتے ہوئے بتایا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ہمدرد یونیورسٹی کو سال 2017ئ2016..ء میں بہترین کارکردگی کی بدولت 94%اسکور عطا کیے اور ہمدردیونیورسٹی کو ’’W‘‘کیٹگری میں جگہ دی جو کہ ادارہ ہمدرد کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں جسکے لیے فیکلٹی ممبرز اوراسٹاف کی قابلیت اور محنت قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ سال 2017 میں ریسرچ میں معنی خیز اور حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ ہمدرد یونیورسٹی کا اگلا حدف برائے ریسرچ یہ ہے کہ ریسرچ کو مکمل طور پر عملی صورت میں آگے لایا جائے ،اس حوالے سے (ORIC)یونیورسٹی اور انڈسٹری کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرے گی جبکہ یونیورسٹی میں ریسرچ کو ترقی دینے کے لیے ہمدرد فائونڈیشن پاکستان ہمیشہ کی طرح خصوصی تعاون کرتے ہوئے جدید خطوط پر استوار لیبارٹریز اور آلات فراہم کرے گی اور یونیورسٹی کا ریسرچ ڈیپارٹمنٹ بھی خصوصی فنڈ دے گا اس کے ساتھ ساتھ محترم وائس چانسلر صاحب نے محترمہ چانسلر سعدیہ راشدکا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ہمدرد یونیورسٹی میں ’دفتر ڈین ریسرچ ‘برائے ترقیٔ ریسرچ کلچر فراہم کیا ۔ریئس الجامعہ محترمہ سعدیہ راشد نے اس موقع پر فارغ التحصیل طلباو طالبات کو متوجہ ہو کر کہا کہ آپ جس مقام پر اس وقت کھڑے ہیں وہاں تک آنے میں آپکے والدین کا ایثار و قربانی ،آپ کے اساتذہ کی جدو جہد اور آپکی انتھک محنت شامل ہے ۔آپکو اپنے والدین و اساتذہ کا تاحیات شکر گزار رہنا چاہیے ۔
سا تھ ہی آپکو اس جذبہ کے ساتھ عملی زندگی میں قدم رکھنا چاہیے کہ پوری محنت و دیانتداری اور ذمہ داری کیساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں گے تاکہ ہمارا یہ عظیم ملک مزید ترقی کر کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں پورے وقار کے ساتھ کھڑا ہو سکے ۔اس ملک کی ترقی و خوشحالی قائد اعظم ،علامہ اقبال اور شہید حکیم محمد سعید کا خواب تھا ،جسکی تعبیر آپ اور آپ جیسے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس کانووکیشن کے فاغ التحصیل طلبہ قومی فلاح و بہبود اور تعلیم و صحت کے شہید حکیم محمد سعید کے مشن کے بہترین سفیر ثابت ہوں گے ۔اخوت کے بانی و چیئر مین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب مہمان خصوصی کی حیثیت سے کانووکیشن میں شریک ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی خواب دیکھنے کیلئے ہے اور وہ خواب جو زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو جاگتے میں دیکھے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ خواب اُنہی کے پورے ہوتے ہیں جو انہیں تعبیر دینے کے جذبے اور جنون سے کام لیتے ہیں اور انہیں اپنے مقصد سے عشق ہو جاتا ہے جسکا مظاہرہ شہید حکیم محمد سعید نے کیا انہوں نے ایک صحرا کو گل گلزار بنا دیا انہوں نے کہا کہ اہل بصیرت ایسے ہوتے ہیں جو مستقبل میں جھانک کر دیکھ لیتے ہیں انہوں نے فارغ التحصیل طلباء سے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک عظیم انسان کی قائم کردہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا انہوں نے کہا کہ حکیم صاحب ایک مربی درویش انسان تھے اور غریب وہ ہے جسکا کوئی مربی ومددگار نہ ہو لہذا عملی زندگی میں آپ شہید حکیم محمد سعید کی طرح غریبوں کے مربی اورانکے مددگار بنیں۔ملک کی چالیس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ،اسمیں کوئی شک نہیں کہ تعلیم،صحت اور روزگار فراہم کرنا حکومت وقت کا قانونی اور آئینی فریضہ ہے مگر اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ ان سے نمٹنا صرف حکومت وقت کے لیے ممکن نہیں اور نہ ہی معاشرتی و معاشی عفریت سے شہریوں کو بچانا اکیلی حکومت کے بس کی بات ہے لہذا س مقصد کے لیے معاشرے کے بے بس و لاچار افراد کو روزگار فراہم کرنے میں اخوت نامی تنظیم حکومت کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہے اور ہم معاشی بدحالی کے شکار پاکستانیوں کو بلا سود قرض ادا کر رہے ہیں جس سے پچیس لاکھ گھرانے مستفیدہو رہے ہیں۔ تقریب میںرئیس الجامعہ محترمہ سعدیہ راشد ،پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن اورڈاکٹر امجد ثاقب نے اسناد اور گولڈ میڈلز تقسیم کیے ۔کانووکیشن میں ماہرین تعلیم کے علاوہ بیرونی سفارت کار ،اساتذہ اوروالدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔