ڈنکلف سوسائٹی اور احمد فواد ٹریننگز کے اشتراک سے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

11 اپریل 2018

میگزین رپورٹ

ممتازکارپوریٹ ٹریننگ سپیشلسٹ احمد فواد نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی زندگی میں کرئیر کونسلنگ اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر ہمارے یہاںتعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں میں پڑھائی کے دوران کام کرنے کا رجحان خاصا کم ہے،وہ کوشش کرتے ہیں کہ تعلیم مکمل کر کے ہی کام شروع کیا جائے، یہ سوچ غلط ہے لیکن بد قسمتی سے اکثر یونیورسٹیوں اور کالجز میں کرئیر کونسلنگ کے شعبے نہ ہونے کے برابر ہیں اور جہاںہیںوہاں بھی انڈسٹری کی معلومات کافی کم ہیں،طلبا کے پاس مارکیٹ کا بہت تجربہ نہیں ہوتا اس لئے وہ اپنے بڑوں، اساتذہ، اور پروفیشنلزکی جانب دیکھتے ہیں تا کہ انہیں اپنے کرئیر کے حوالے سے اچھے مشورے مل سکیں لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ کالجز اور یونیورسٹیز نے انڈسٹری سے اچھے پروفیشنلز کو بلا کر لیکچرز کا اہتمام کرنا شروع کیا ہے جو کہ اچھا رجحان ہے۔ یونیورسٹیوںمیں طلبا کوپرسنیلٹی ڈویلپمنٹ،پرسنیلٹی ٹائپ، سی وی رائیٹنگ اور انٹرویوینگ سکلز کی ٹریننگ ضروری ہے تاکہ طلبہ وطالبات مارکیٹ میںپوری تیاری کے ساتھ جائیںیہ یونیورسٹیز کی ذمہ داری تو ہے لیکن نوجوانوں کو خود نیٹ ورکنگ سیشن میں جانا چاہئے اور کامیاب لوگوں سے ملتے رہنا چاہیے تاکہ ان کو اچھی گائیڈینس بھی ملے اور اچھے ادارے میںملازمت بھی مل سکے۔انہوںنے ان خیالات کااظہار گزشتہ دنوں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ڈنکلف سوسائٹی اور احمد فواد ٹریننگز کے اشتراک سے ’’ بڑا خواب دیکھیں ‘‘ اور ’’ انٹرویوو سی وی کی تیاری‘‘ کے موضوعات پربخاری آڈیٹوریم میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب میں کیا۔انہوںنے کہا کہ سی وی کی تیاری آسان نہیںتاہم یہ ضروری ہے کہ اسے اس طرح تیارکیاجائے کہ مطلوبہ جاب کاحصول آسان ترہوجائے مگرآپ کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں، اگر آپ کا سی وی اچھا نہیںتو نوکری ملنا تو بہت دور کی بات ، آپ کو انٹرویو کی کال ہی نہیں آئے گی۔سی وی بنانابھی ایک آرٹ ہے بلکہ یہ کہنازیادہ بہترہوگاکہ سی وی آپ کابروشر ہے جس کامقصد صرف یہ ہے کہ آپ کوانٹرویوکیلئے کال آجائے۔ لیکن کمپنیز کو ملنے والے تمام سی وی اس قابل نہیں ہوتے کہ ان کو بھیجنے والوں کو انٹرویو کے لیے بلایا جائے۔جتنے قابل آپ ہیں، آپ کا سی وی بھی اتناہی اچھاہونا چاہئے سواس پرمحنت ضرورکریں ۔ جنہوںنے آپ کوجاب دینی ہے وہ اس کابغور جائزہ بھی لیتے ہیں۔لیکن اگر آپ اپنا سی وی خود نہیں بنائیں گے اور کسی اور کا کاپی پیسٹ کریں گے تو ایسا سی وی کبھی اچھا نہیں بن سکتا۔ کوشش کریں کہ اپنا سی وی خود بنائیں یا کسی پروفیشنل کے ساتھ بیٹھ کے بنوائیں۔ غیر ضروری انفارمیشن شامل نہ کریں۔ اصل میں سی وی بنانے کامطلب اپنی کوالیفکیشن اور شخصیت کو کاغذپراس طرح منتقل کرناہے کہ انٹرویوکرنے والے کو پہلی نظر میں ہی پتہ چل جائے کہ جس پوزیشن کے لیے آپ نے اپلائی کیا ہے، اس کے آپ اہل بھی ہیں۔ سی وی کی تیاری کے وقت یہ خیال ضرور رکھیں کہ آپ کیاکرناچاہتے ہیں؟کس جاب یاپوسٹ کیلئے اپلائی کررہے ہیں۔ آج کل امیدوار پانچ چھ لوگوں کے سی وی سامنے رکھ کرکسی کاآبجیکٹواور کسی اورکی کامیابیوں کی تفصیل حاصل کرکے چھوٹی موٹی تبدیلی کے بعد فارورڈ کردیتے ہیں جوکسی طرح بھی درست نہیں اور نہ ہی ایساکرکے آپ اچھی جاب حاصل کرسکتے ہیں۔ سی وی بنانے کا سب سے اچھا طریقہ تو یہ ہے کہ جس کمپنی میں آپ سی وی بھیجنا چاہ رہے ہیں اس کی ویب سائٹ پر جا کر ان کے کرئیر کے پیج پر اس پوزیشن کے لئے دی گئی جاب ڈیسکرپشن پڑھیں۔ ہر کمپنی واضح الفاظ میں لکھتی ہے کہ جاب کے لئے اپلائی کرنے والوں کی کوالیفیکیشن کیا ہونا چاہئے اورکمپنی ان میں کونسی خصوصیات دیکھنا چاہے گی۔ ان سب کو دیکھ کے ہی اپنا سی وی ڈیزائن کریں اوراس میں سے وہ تمام انفارمیشن جن کا تعلق اس جاب سے نہیں، نکال دیں۔ یاد رہے کہ سی وی میں جھوٹی کوالیفیکیشن یا جھوٹا تجربہ لکھنا، آپ کی سب سے بڑی غلطی ہو گی۔بہت سے نوجوان کئی کئی سال تک ڈگری لے کر پھرنے کی وجہ سے چاہتے ہیںانہیں کسی بھی سیکٹرمیں جاب مل جائے ۔اسکے لئے بھی ضروری ہے کہ ہر پوزیشن کے لئے الگ سی وی بنائیں اگرایک ہی سی وی ہرشعبے میںڈراپ کردیں گے توکبھی کامیاب نہیں ہوسکیںگے۔بینکنگ کے بندے کوکوئی میڈیاکی جاب کیوں دے گا۔سی وی بناتے وقت سپیلنگ کاخاص خیال رکھیں ۔غلط سپیلنگ سے بہت منفی اثرپڑتاہے۔ اپنی اچیومنٹس ،رول آف آنر، میڈلز کی تفصیلات ضرور لکھیں لیکن زیادہ بہتریہ ہے کہ ان پراجیکٹس کی تھوڑی سی تفصیل ضرور لکھیں جو آپ نے انٹرن شپ کے دوران کئے۔ انٹرن شپ کے دوران کیاسیکھاکیا،وہاںکونسا نیاآئیڈیادیااور پھراس کاکیااس آفس یا کمپنی کو کیا فائدہ ہوا۔تھیسسز کاموضوع اور اس سے آنیوالی بہتری کا ذکر بھی کریں۔ تعلیمی سفر سی وی کے آخرمیں رکھیں، شروع میں نہیں ۔ ورک ہسٹری بہت اہم ہے۔ آپ نے جس جس رول میںکام کیا، اس میں حاصل ہونیوالی کامیابیوںکا ذکرکریں۔ یہ مت بھولیے کہ آپ نے جوتعلیم حاصل کی ہے ، اس تعلیم کے ساتھ بہت سے لوگ ہوں گے تو ایک اچھے انداز سے بنا ہوا سی وی، جس میں آپ کی اچیومنٹس بہت واضح نظر آ رہی ہوں، وہی انٹرویوکی کال آنے میں مددگارثابت ہوسکتاہے۔ اس موقع پرڈین آف سائنسزاسلام خان، ڈنکلف سوسائٹی کی سربراہ سدرہ فرید، ، ممتاز شاعر احمد حماداور خاتون کرکٹر مرینہ اقبال نے بھی خطاب کیا۔