تعلیمی خدمات پر ایوارڈز کی تقریب کا انعقاد

11 اپریل 2018

میگزین رپورٹ

سابق گورنر پنجاب، سینئر اور تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور نے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب سیاست کے ایوانوں میں عورتیں چھا جائیں گی۔ یہ بات چوہدری سرور نے پی ایف یو سی کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے سلسلے میں بیسٹ ویمن نیشنل ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چوہدری سرور نے کہا کہ پاکستانی عورت ذہین ہونے کے ساتھ محنتی اور باکردار بھی ہے۔ مجھے مستقبل عورتوں کا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ آج پاکستانی عورت نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ پاکستانی عورت کی کارکردگی کا موازنہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی عورت سے کیا جا سکتا ہے۔ میں عورتوں کا دل سے احترام کرتا ہوں۔ پاکستانی خواتین پر مجھے فخر ہے۔پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایسی خواتین کی ہے جو گھر اور باہر کی ذمہ داریاں مردوں سے بھی اچھے طریقے سے نبھا رہی ہیں۔ پی ایف یو سی کے زیر اہتمام اس تقریب سے سابق وزیر تعلیم اور ق لیگ کے رہنما میاں عمران مسعود نے کہا کہ پاکستانی عورتوں کو ان کی ذہانت ، قابلیت اور مہارت کے مطابق کم مواقع میسر آئے ہیں۔تعلیم کے شعبہ میں خواتین کامیابیوں کے افق کو چھو رہی ہیں۔ ادب اور سیاست میں بھی عورت ذات چھائی ہوئی ہے۔ ہماری خواتین نے ترقی کے سفر میں مرد کا ساتھ نبھایا ہے۔ آج پاکستان کی کامیابی اور ترقی میں عورتوں کا بھی برابر کا حصہ ہے۔ صحافی اور دانشور مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ میں نے عورت کو ہمیشہ اونچی مسند پر بیٹھے پایا ہے۔ وہ ماں کے روپ میں مقدس اور باوقار ہے۔ پاکستانی عورتوں کو آج بھی بہت سے حقوق حاصل ہیں جو مغربی عورت کے نصیب میں نہیں ہے۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کا سفر بھی جاری ہے۔ آج بھی ملک کے کئی حصوں میں عورت پر ظلم ہوتا ہے تو ان کے حقوق غضب کیے جاتے ہیں۔ ادیبہ شاعرہ اور دانشور ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے کہا کہ اکیسویں صدی میں عورت اب اتنی مظلوم اور دکھیاری نہیں رہی ۔ یہ وقت دکھڑے رونے کا نہیں بلکہ اظہار تشکر کا ہے کہ آج عورت اپنے قدموں پر کھڑی ہے اور معاشرے کی معیشت اور ثقافت میں اپنا رول ادا کر رہی ہے تاہم عورت کو اپنے اندر کے منفی رویوں سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔ خدا نے عورت کو ضف نازک بنایا تو عورت کو اپنے اندر مثبت اقدار جنم دینی چاہیں۔ ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ عالمی دن کے اس موقع پر ہمیں تجدید عہد کرنا چاہیے کہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنی کارکردگی میں اضافہ کریں ۔
سمعیہ راحیل قاضی نے کہا کہ پاکستانی عورتیں خوش قسمت ہیں جہاں انہیں اپنی فیملی میں سائبان میسر ہے اور وہ مغرب کی ہوشہ با آزادی سے دور ہیں۔ پاکستانی عورت نے اقدار کو اپنا اثاثہ قرار دیا ہے۔ اس لئے وہ ایک باعزت اور خاندانی زندگی کا حصہ ہے۔ یاسمین حمید نے خطاب کے دوران کہا کہ ادب میں عورت کا نمایاں اور اہم کردار ہے۔ وہ زندگی کے کینوس پر سب سے جاندار تصویر ہے۔ پاکستان کی مصروف بیوٹیشن اور سوشل ورکر مسرت مصباح نے کہا کہ عورت کے ساتھ ابھی ظلم کی کہانی بند نہیں ہوئی۔ میں نے تیزاب سے جھلسی عورتیں دیکھیں تو لرز اٹھی ۔ عورتوں کے ساتھ یہ ایک بدترین ظلم ہے۔ پی ایف یو سی کی دس رکنی جیوری نے پاکستان کی بارہ خواتین کو زندگی کے مختلف شعبہ حیات سے ایوارڈز کے لئے منتخب کیا۔ ان میں بیگم مہناز رفیع، یاسمین حمید ، ڈاکٹر نوشین حامد ، ڈاکٹر عارضہ حج خان ، حلیمہ آفریدی ، سمعیہ راحیل قاضی ، مسرت مصباح ، ثمینہ گل ، حفصہ جاوید ، ثمن عروج ، عائشہ ممتاز ، سندس کو دئیے گئے ۔ سید عامر جعفری اور سید علی عمران کو خواتین کے لئے خصوصی خدمات انجام دینے پر ایوارڈز دئیے گئے ۔ مہمانان خصوصی کو شیلڈز پیش کی گئیں ۔