مقبوضہ کشمیر: شہادتوں کیخلاف 10 ویں روز بھی ہڑتال، مظاہرے، جھڑپیں، معتدد افراد زخمی

11 اپریل 2018

سرینگر(اے این این‘ آن لائن ) مقبوضہ کشمیر میں شہادتوں کیخلاف احتجاج کا سلسلہ دسویں روز بھی جاری،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔کاروباری مراکز تجارتی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی جبکہ دختران ملت کی گرفتار 7خواتین کوہتھکڑیاں لگا کر عدالت پیش کیا گیاجس پرپولیس کے سپرد کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی شہادتوں کیخلاف عوام کا احتجاج دسویں روز بھی جاری رہا ۔گزشتہ روز پلوامہ اور شوپیان سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اس دوران قابض فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔اس دوران ہڑتال کی وجہ سے تمام کارباری ادادرے بند رہے ۔ شوپیاں میں 12 جنگجووں اور چار شہریوں کی شہادت کے9روز بعد بھی ہڑتال جاری ہے۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور عالمی برادری سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ ادھر پلوامہ جاتے ہوئے حراست میں لی گئی دختران ملت کی 7خواتین کو ہتھکڑیاں پہنا کر مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے خواتین کو ریمانڈ پر پولیس کے سپرد کردیا۔ دوسری جانب مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں دختران ملت سے وابستہ 7 خواتین کو عدالت میں ہتھکڑیاں پہنا کر پیش کرنے کو لاقانیت، پولیس راج اور اخلاقی دیوالیہ پن سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور ان کے مقامی حاشیہ بردار جوانوں کے سینے چھلنی کرنے کے بعد تعزیت پر بھی قدغن لگاتے ہیں۔ان حکمرانوں کو نہ تو اپنا ضمیر ملامت کرتا ہے اور نا ہی یہ اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کی کوئی پاسداری کرتے ہیں۔ دلی کے ان گماشتوں کو کم سے کم صنف نازک کا لحاظ کرنا چاہیے تھا، مگر اقتدار کے نشے میں چور حکمران اپنے ہی ہاتھوں ان خواتین کی تذلیل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں خاص کر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ خواتین پر ہورہے مظالم کا سنجیدہ نوٹس لے کراس کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ حریت قائدین نے کہا کہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ تو یہاں کے عوام کو نہ ہی قائدین اپنے مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار ہوں گے۔ جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس’’ع‘‘ گروپ کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی انتخابی یا انتظامی مسئلہ نہیںبلکہ سوا کروڑ کشمیریوں کے جذبات اور احساسات سے جڑا ہوا ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کو حق خودارادیت کی بنیاد پر یہاں کے عوام کی آزادانہ استصواب رائے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔
مقبوضہ کشمیر