کل کے بعد حکومت کو مزید مہلت ہرگز نہیں دیں گے: خادم حسین رضوی

11 اپریل 2018

لاہور (خصوصی نامہ نگار) تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ خادم حسین رضوی نے کہا 12 اپریل کے بعد حکومت کو مزید مہلت ہرگز نہیں دی جائے گی، اگر 12اپریل تک فیض آباد معاہدہ پر من و عن عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر میں احتجاجی دھرنوں کا آغاز کر دیا جائے گا، گزشتہ روز مشاورتی اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی، 12 اپریل کو حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اسلام آباد کی طرف مار چ کرنا ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اہم شاہراہوں پر دھرنے دینے ہیں۔ 12 اپریل شام 4 بجے تک مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج، مارچ اور دھرنوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، اس موقع پر انجمن طلباء اسلام پاکستان کے دو سابق صدور ڈاکٹر اظہر محمود، ڈاکٹر محمد رضوان یوسف اور سابق رہنما احمد وینس ایڈووکیٹ (ہائی کورٹ) دیگر درجنوں سابق عہدیداران اور رہنمائوں نے بڑے وفد کے ہمراہ تحریک لیبک پاکستان میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔ اس موقع پر مرکزی امیر تحریک لبیک پاکستان علامہ حافظ خادم حسین رضوی کے علاوہ، ڈاکٹر محمد شفیق امینی، سید ظہیر الحسن شاہ بخاری، علامہ فاروق الحسن قادری، صاحبزادہ نعیم عارف نوری اور صاحبزادہ عثمان علی جلالی بھی موجود تھے۔ علامہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ ہم انجمن طلباء اسلام کے سابقین اور رہنمائوں کو تحریک لبیک پاکستان میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان رہنمائوں کے شامل ہونے سے تحریک لبیک پاکستان میں مزید جوش و خروش او ر ولولہ پیدا ہوگا۔ تحریک لبیک پاکستان کے تمام عہدیداران و کارکنان ان رہنمائوں کی شمولیت پر مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان میں لوگ جوق در جوق شمولیت اختیار کر رہے ہیں جو باعث اطمینان ہے۔ آئندہ 2018 کے الیکشن میں تحریک لبیک پاکستان پورے پاکستان سے حصہ لے گی اور تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔
خادم رضوی

اسلام آباد(این این آئی)مفتی اعظم پاکستان و صدر تنظیم المدارس پاکستان مفتی منیب الرحمان ہزاروی نے خادم حسین رضوی کے بارے میں اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک خداداد پاکستان میں 25 نومبر2017ء کو فیض آباد میں جو معاہدہ ہوا اور ختم نبوت کیلئے جو تحریک چلی ہم نے اس کی بھر پور حمایت کی لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے ختم نبوت کا نام اپنی ذاتیات کیلئے استعمال کیا۔ گزشتہ دنوں ٹی ایل پی کے امیر علامہ خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوئے تو انہوں نے دھرنے کا اعلان کر دیا۔ جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں اس کام سے باز رہنے کا مشورہ دیا اورکہا گرفتاری سے بچنے کیلئے کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے لیکن یہ افراد اپنے فیصلے پر بضد رہے اور لاہور میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے ۔ دھرنا شروع ہوئے ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ان کے متعلق مجھ پر ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ بیان سے باہر ہیں اور میں سمجھ گیا کہ ان لوگوں کے عزائم انتہائی خطرناک ہیں اور ان کا مقصد ختم نبوت نہیں بلکہ یہ کسی اور کے کہنے پر سارے کام کر رہے ہیں لہٰذا یہ سارے معاملات دیکھ کر کافی تحقیق کرنے کے بعد اس بات کا اعلان کر رہا ہوں کہ آج کے بعد میرا تحریک لبیک پاکستان کے قائدین سے کوئی تعلق نہیںاور اپنے چاہنے والوں سے بھی یہ گزارش کروں گا کہ وہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینے سے پرہیز کریں جو ملک میں افرا تفری اور فتنے کا باعث بنتے ہیں ۔
مفتی منیب الرحمن