چوہدری نثار کے گرد ’’جمگھٹا‘‘لگ گیا ‘ا سپیکر نے ہائوس ان آرڈر کرایا

11 اپریل 2018

اسلام آباد ( نواز رضا)منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس ’’ سٹنگ ممبر‘‘ ایاز سومرو کی وفات کے باعث ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کوئی کارروائی نمٹائے بغیر بدھ تک ملتوی کر دیا گیا ۔ جب کہ سینیٹ کے اجلاس کی معمول کی کارروائی نمٹائی گئی ۔ منگل کو مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان کچھ دیر کے لئے ایوان میں آئے تو حسب معمول ان کے گرد جھمگٹا لگ گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے جب بھی چوہدری نثار علی خان ایوان میں آتے ہیں تو رونقیں لگ جاتی ۔ یہ نوٹ کی گئی ہے کہ مسلم لیگی ارکان چوہدری نثار علی خان سے ان کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں استفسار کر تے رہتے ہیں منگل کو چوہدری نثار علی خان اپنی نشست پر جا کر نہیں بیٹھے بلکہ وہ مولانا فضل الرحمنٰ کی نشست پر جا کر بیٹھ گئے مسلم لیگی ارکان جن میں راجہ جاوید اخلاص رانا تنویر خرم دستگیر سمیت متعد ارکان ان کے پاس آئے ، طاہرہ اورنگ زیب اور سیما جیلانی کی قیادت میں مسلم لیگی خواتین ارکان بھی ان سے ملنے آئیں اس دوران قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ایاز سومرو کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے چوہدری نثار علی خان کے گرد جھمگٹے کی وجہ سے سید خورشید شاہ کی تقریر میں خلل پڑنے لگا تو سپیکر سردار ایاز صادق نے ’’ہائوس ان آرڈر ‘‘ کرایا جس کے بعد چوہدری نثار علی خان بھی اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گئے بعد ازاں وہ شیخ راحیل کے ہمراہ ایوان سے باہر چلے گئے اور لاب میں بھی کھڑے ہو کر کچھ دیر تک بات کرتے رہے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایاز سومرو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہوں نے جمہوریت کے لئے بے مثال قربانیاں دیں، 18 سال کی عمر میں آمریت کے خلاف جدوجہد سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور سینٹرل جیل سکھر میں میرے ساتھ رہے وہ مچھ جیل میں بھی قید رہے ہیں۔ مرحوم ایاز سومرو پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کا حصہ رہے ہیں ۔ پارٹی نے ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ دیا ۔ ایاز سومرو قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے قانون سازی میں گہری دلچسپی رکھنے والے ارکان میں شامل تھے۔ ایاز سومرو کے انتقال سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ انتہائی شفیق اور ملنسار انسان تھے ،ان کی وفات سے ایک دن قبل میری ان سے ٹیلیفو ن پر بات ہوئی تھی ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ اس لحاظ سے افسوسناک دن ہے کہ ایک اچھے انسان اور پارلیمنٹ کے متحرک رکن ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں ایاز سومرو نے ملک میں جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں میں جب بھی پارلیمنٹ میں آتا ،چار پانچ منٹ تک میری ان سے ان کی نشست پر جا کر گفتگو ہوتی ایاز سومرو خلیق انسان ہونے کیساتھ اچھے پارلیمنٹرین اور سیاستدان تھے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں خورشید شاہ، شیخ آفتاب احمد کے خیالات کی تائید کرتا ہوں ایاز سومرو ہمارے اچھے ساتھی تھے اور ایک اچھے سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ تھے۔ وہ خلیق اور ملنسار انسان تھے وہ آج ہم میں موجود نہیں لیکن ان کی یاد اور جدوجہد یاد رکھی جائے گی۔نہوں نے آمروں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایاز سومرو کا تعلق سیاسی کارکنوں کے اس گروپ سے تھا جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لئے کوڑے کھائے اور جیلوں میں گئے۔ آفتاب احمد خان شیرپائو، شیخ صلاح الدین، غوث بخش مہر، محمود خان اچکزئی، عائشہ سید، طاہرہ بخاری، حاجی شاہ جی گل آفریدی، رشید گوڈیل ،ڈاکٹر غازی گلاب جمال اور عبدالستار بچانی، محمود بشیر ورک، نواب یوسف تالپور، خلیل جارج، شازیہ مری، مولانا امیر زمان، چوہدری محمد اشرف اور طاہرہ اورنگزیب نے بھی ایاز سومرو کو خراج عقیدت پیش کیا سینیٹ میں منگل کو قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ برائے مالی سال 2016-17پیش کر دی گئی ہے جبکہ پاکستان کے امریکہ میں نئے سفیر کی تعیناتی اور پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ کمی سے متعلق تحاریک التواء کو خلاف ضابطہ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی گولہ باری کے حالیہ واقعات کو زیر بحث لانے کی تحریک محرکین کے نہ ہونے کی وجہ سے ڈراپ کر دی گئی سینیٹ میںمنگل کو فاٹا، خیبر پختونخوا ، کراچی اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں سے شہریوں کو لاپتہ کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا سیاسی جلسوں کی پاداش میں سیاسی کارکنوں پر مقدمات کے اندراج کا بھی اپوزیشن نے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے قوم پرست جماعتوں نے ملک بھر سے 7ہزار شہریوں کو لاپتہ کرنے کا دعوٰی کیا ہے گزشتہ روز اجلاس کی کاروائی کے دوران آزاد اپوزیشن رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ دہشتگردی کے نام پر پشتونوں کے خلاف کاروائیاں ہورہی ہیں پشتونوں پر زندگی کو تنگ کیا جا رہا ہے پانچ سے سات ہزار لوگ لاپتہ ہیں کراچی اسلام آباد پشاور میں جلسے کرنیوالے پشتونوں کے خلاف مقدمات درج کئے جا رہے ہیں،پشتونوں کو زندہ باد اور مردہ باد نعرے لگانے کا حق بھی نہیں دیا جا رہا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ پشتونوں نے جانیںدی ، 20لاکھ کے قریب پشتون بے گھر ہوئے ، پشاور میں ہونے والے پشتونوں کے جلسے کو ایف سی کمانڈنٹ کی جانب سے مسائل کا سامنا رہا حکومت نے انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کر دیا ،اپوزیشن نے آرڈیننس تاخیر سے ایوان میں پیش کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس2ماہ کی تاخیر سے ایوان میں پیش کیا گیا، حکومت کو ہر یوم کا حساب دینا ہوگا کہ اسے پیش کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔سینیٹر میاں رضا ربانی نے انسداد دہشت گردی ترمیمی آرڈیننس کو سینیٹ میں پیش کرنے کے حوالے سے کہا کہ مذکورہ آرڈیننس 9فروری کو جاری کیا گیا اور اسی روز شائع بھی کیا گیا ، حکومت کی جانب سے اسے فوری طور پر ایوان بالا کے اجلاس میں پیش کیا جانا چاہیے تھا آج دو ماہ کے وقفہ کے بعد اسے ایوان میں لایا گیا ہے ، آئین کے تحت یہ وقفہ دس روز سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ سی پیک کے تحت راولپنڈی اسلام آباد کو پانی کی فراہمی کیلئے منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے،گزشتہ تین سال کے دوران تمباکو نوشی اور شیشہ سینٹرز کیخلاف کارروائیاں کر کے 31لاکھ سے زائد جرمانے عائد کئے گئے،ا سلام آباد کو سموک فری شہر بنانے کیلئے کوشاں ہیںوزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے ہاتھ نہیں اٹھائے بلکہ ہم نے اعلانیہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کیا ہے ، خزانہ خالی ہو رہا ہے اور نہ ہی ملک دیوالیہ ہونے جا رہا ہے،2013کے مقابلے میں زرمبادلہ کے ذخائر دوگنا ہو چکے ہیں
پارلیمنٹ کی ڈائری

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...