پاکستان کے خلاف مہمات ۔

11 اپریل 2018

پاکستان ہمارا صرف ملک ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا میں اسلام کا سب سے مضبوط قلعہ ہے۔ ملکی سیاست ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات ، سیاست میں عدم توازن ، عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی ، ملک میں عدم برداشت اور غیر یقینی صورتحال ، بھارتی جارحیت ،افغانستان سے دہشت گردی، بلوچستان میں شورش، چاروں صوبوں میں جمہوریت کا راگ لیکن عمل آمرانہ بار بار بھارت کا لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنا۔ بلوچستان میں دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے اداروں کے لئے بھی ایک چیلنج ہیں ۔ سیاست میں جمہوریت سے زیادہ نفرت اور انتقامی سیاست کا پہلو نمایاں ہے۔جسکا فائدہ ہمارے دشمن اٹھا رہے ہیں ۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ ملک کو اندرونی و بیرونی دونوں خطرات کا سامنا ہے۔ حالیہ سینیٹ کے الیکشن میں اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود ن لیگ کی ناکامی انتقام ، سازش کے ذریعے پی پی پی کا پی ٹی آئی کے ساتھ ملکر آزاد امیدوار کو کامیاب کرانا۔ ایم کیو ایم اور فضل الرحمان کے سینیٹرز کا آزاد امیدوار کو ووٹ ، ڈپٹی چیئرمین پی پی پی سلیم مانڈوی والا کی کامیابی ، ایم کیو ایم کا بائیکاٹ ، سونے پہ سہاگا کہ چت بھی میری پٹ بھی میری اپوزیشن لیڈر بھی پی پی پی کا پورے سسٹم اور سیاست میں انجینئرڈ اور ہارس ٹریڈنگ کی کھلی کاروائی کا ادراک کرتا ہے ۔ سینیٹ کا الیکشن ملک میں یو ٹرن سیاست ، سیاسی قلابازیوں کی بازگشت، سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ اور ملک میں ایک نئے سول آمرانہ نظام کی طرف پیش قدمی ہے۔ کے پی کے ، پنجاب اور سندھ و بلوچستان سب جگہ ہارس ٹریڈنگ نظر آتی ہے ۔لیکن سب سے زیادہ سیاسی عدم استحکام سندھ میں ہوا جہاں سینیٹ کے الیکشن کو جواز بنا کر ایم کیو ایم کے واضح دو دھڑے ہوگئے اور اپنی تین نشست سے محروم ہوگئے ۔ کھلی ایم کیو ایم کے اراکین کی خرید و فروخت ہوئی۔ ایم کیو ایم بہادرآباد ایک نشست نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔ ایم کیو ایم پی آئی بی 25اراکین سندھ اسمبلی ہونے کے باوجود ایک بھی نشست نہیں نکال سکی۔ یہ معاملہ ہنوز اختلاف اور غیر مصالحانہ طرز عمل کا شکار ہے ۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی نے ن لیگ کے خلاف مورچے کس رکھے ہیں کوئی موقع جانے نہیں دیتے۔ لیکن پی پی پی الزامات کی بارش کرتے وقت بھول جاتی ہے کہ اس نے ن لیگ کے ساتھ ہی میثاق جمہوریت کرکے اقتدار کے مزے لوٹے ۔ ہمیں ایسے سیاسی لیڈرز کی جو خود ان کرپشن الزامات میں رہے ہیں پارسا بننے پر حیرت ہوتی ہے ۔ پی ٹی آئی کا غریب عوام کی نمائندگی کا دعوی بھی ان کے دولت مند لیڈرزکو دیکھ کرعجیب نظر آتا ہے۔ ایم کیو ایم جس نے عملی طور پر غریب و متوسط طبقہ کی قیادت نکالی ایوانوں میں پہنچایا ۔ وہ بھی تختہ مشق بنی ہوئی ہے ۔ ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد۔ ایم کیو ایم پی آئی بی، ایم کیو ایم حقیقی، ایم کیو ایم لندن اور پی ایس پی پانچ حصوں میں بٹ چکی ہے۔ اگر جلد یا بدیر حل نہ نکلا تو شہری علاقوں میں لیڈر شپ کا بحران جنم لے سکتا ہے۔ ان سب سے زیادہ ہمیں بیرونی خطرات کا سامنا ہے پاکستان کے خلاف امریکہ میں نریندر مودی کی ہرزہ سرائی اور پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا بھونڈا الزام امریکہ کی پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی پذیرائی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں عالمی طاقتیں سب سے بڑی رکائوٹ ہیں ۔ پاکستان جس نے دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے بے بہا قربانیاں دی ہیں ۔ افواج پاکستان اور رینجرز پولیس سمیت بہت بڑی تعداد میں شہادتیں ، عوام کی ہزاروں کی تعداد میں شہادتیں دہشت گردی بم دھماکے ، خود کش حملے ٹارگٹ کلنگ یہ سب واقعات پاکستان میں گزشتہ دو عشروں سے جاری ہیں ۔ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے میں را اور دیگر نیٹ ورکس کا بھی بڑا کردار ہے۔ پاکستان کو دوبارہ پائوں پر کھڑا کرنے میں جنرل محمد راحیل شریف کا ذکر کرنا ضروری ہے جنکی بہادرانہ سوچ اور اقدام سے آپریشن ضرب عضب ممکن ہوا اور دہشت گردی کا قلع قمع ہوا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بھارت کے را نیٹ ورک کے کلبھوشن یادیوکی گرفتاری اور را کے تمام تر نیٹ ورکس سامنے آنے کے بعد بھارت کی کلبلاہٹ سمجھ میں آرہی ہے۔ خود انکوائری افسر انڈیا کے اہم فوجی افسر کی جانب سے پٹھان کوٹ میں پاکستان کو کلین چٹ دینے کا بیان بھی نریندر مودی کا منہ کالا کرنے کے لئے کافی ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں نریندر مودی نے پٹھان کوٹ کا معاملہ پھر اٹھایا ہے۔ جبکہ متعدد معاملات میں بھارت پاکستان کے معاملات میں کھلی مداخلت اور دہشت گردی بالخصوص بلوچستان میں را کی مداخلت ڈھکی چھپی نہیں ۔ کلبھوشن یادیو اسکی کھلی مثال ہے۔ پاکستان کے خلاف امریکی جارحیت ڈرون اٹیک کا مقصد واضح ہے پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کرنا۔ امن کی کوششوں کو ناکام بنانا۔ پاکستان کی اقتصادی راہداری منصوبہ کو امریکہ بہادر انڈیا، افغانستان ، ایران سمیت دوست ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ برباد کرنا چاہتے ہیں۔ چین جو پاکستان کا دوست ملک ہے اور بڑے بڑے واقعات کے باوجود اس نے کبھی پاکستان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ پاکستان آرمی کی راہداری کے حوالے سے گارنٹی نے ان دشمنوں کو ایک ہونے کا موقع دے دیا ہے۔ لیکن پاکستان نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ امریکہ کا پاکستان کو ایف سولہ نہ دینے کا اعلان اور پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے کا فیصلہ بھی سازش کا حصہ ہے۔ افغانستان بھی پاکستان کے خلاف ایک بڑا مہرا بنا ہوا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں امن کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں خود چیف آف آرمی اسٹاف نے وہاں دورے کرکے امن کے لئے تمام تر کوششیں کیں ۔ اس میں کامیاب بھی ہوئے لیکن ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ، انڈیا اور افغانستان خود امن نہیں چاہتے۔

پاکستان کے خلاف مہمات

پاکستان ایک مضبوط اسلامی ریاست ہے جسے ناکام ریاست ڈیکلیئر کرانے کے لئے تمام ...