لسانیت کا سیلاب کب ختم ہوگا ؟

11 اپریل 2018

یہ ملک خداداد پاکستان معجزوں کی سرزمین ہے اور اس پر ولیوں کا راج ہے اسی لئے اللہ تعالی کی رحمت سے یہی ملک نظریاتی ملک کی حیثیت سے معرض وجود میں آیا ۔ اسلامی مملکت پاکستان ، دنیا میں دو ہی نظریاتی ملک ہیں ایک پاکستان دوسرا اسرائیل، اسی لئے تمام اسلام دشمن قوتیں اسرائیل کو سپورٹ کرتی ہیں جبکہ بظاہر پاکستان دوست بننے والے ممالک بھی پاکستان کے لئے اچھے دوست کا کردار ادا نہیں کرتے۔ پاکستان بننے سے پہلے اور بننے کے بعد ہمیشہ سے سازشوں کا شکار رہا ہے۔ کلکتہ سازش سے پاکستان کا حصہ نہیں بننے دیا گیا اور کشمیر کو 1948کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے باوجود حق خود ارادیت نہیں دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں اسوقت ایک ایک دن میں 70,70افراد شہید کئے جا رہے ہیں پیلٹ گنوں سے کشمیری عوام کی بینائی اور انہیں بدترین مظالم کا سامنا ہے ۔فلسطین اور شام میں بھی شہادتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے ۔ او آئی سی کا اجلاس اور اسلامی ممالک کا اتحاد ایک خواب بن چکا ہے۔ کشمیر میں بھارتی فسطائیت اور شام و فلسطین میں مظالم مسلم ممالک کی بے راہ روی اور بے حسی کا آئینہ ہیں ۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی عوام اور کچھ سیاسی جماعتیں بیدار ہیں اور اپنے وسائل اور طاقت کے مطابق احتجاج بھی ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد ، جماعت اسلامی، مختلف سیاسی جماعتوں ، این جی اوز نے کراچی میں احتجاجی مظاہرے بھی کئے جن میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا گیا لیکن ان سب سے ہٹ کر جب ہم ملک بھر کی سیاست کابالعموم اور سندھ و پنجاب کی سیاست کا بالخصوص جائزہ لیں تو منفی سیاست اور ملک کو کمزور کرنے والی سیاست نظر آئیگی۔ ن لیگ تو انتہائی سوچ پر اتر آئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی متبادل کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کے لیئے نبردآزما ہے۔ عدلیہ بھی بعض ایسے ریمارکس دے رہی ہے جس سے متضاد گفتگو کرنے کا جواز سیاست دانوں بالخصوص ن لیگ کو مل جاتا ہے۔ نواز شریف بند گلی کا راستہ چنتے جا رہے ہیں جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ اور لندن کی ایک سیاسی شخصیت ، اچکزئی، حاصل بزنجو مستقبل میں ایک نئے پلان کے تحت سیاست میں کوئی دھماکہ کرنے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں تاہم یہ اطلاع ہے اس بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے سندھ میں رابطہ مہم کے نام پر زرداری چارج شیٹ مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ جس سے سندھ کے اندرونی علاقوں میں کشیدگی کاماحول بن رہا ہے۔ بلاول بھٹو کو پی ٹی آئی کی اس مہم پر پریشانی ہوئی تو وہ کہہ اُٹھے کہ کپتا ن سندھ کے کرپشن کے حوالے سے نکالے گئے وزیر اعلی کو لیکر گھوم رہے ہیں ۔جس سے پی پی پی کی بد حواسی ظاہر ہو رہی ہے۔ اسی بد حواسی میں بلاول فنکشنل لیگ کو بہت برا بھلا کہ چکے ہیں جس سے پیر پگارا کے مریدین اور فنکشنل کے ووٹرز ان سے بہت ناراض ہیں۔ مولانا فضل الرحمان بظاہر ن لیگ کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں لیکن وہ نئے الیکشن کے لئے ابھی سے توڑ جوڑ میں مصروف ہیں ۔ کے پی کے میں اے این پی ، صف آراء ہے اور ن لیگ ، شیر پائو اور جماعت اسلامی ملکر نئے الیکشن میں اپ سیٹ کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ پنجاب میں ن لیگ کے لئے آئندہ انتخابات حلوہ نہیں ہوں گے ۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی ملکر پنجاب میں بڑااپ سیٹ کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں قوم پرست گروپ ، جے یو آئی اور ن لیگ ملکر دوبارہ حکومت بنانے کی کوشش کرینگے۔ لیکن تمام کے تمام صوبوں میں لسانیت کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ صوبہ سندھ کے شہری علاقوں میں اسوقت سب سے زیادہ صورتحال خراب ہے ۔ یہ ہی علاقے حکومتوں کے بنانے اور توڑنے میں اہم ماخذ ہوتے تھے لیکن اس بار سیاسی صورتحال مختلف ہے۔ایم کیو ایم کا شیرازہ بکھر چکا ہے ۔ 22اگست2016کا جھٹکا تو ایم کیو ایم سہ کر کھڑی ہوگئی تھی لیکن 8نومبر 2017کو پی ایس پی اور ایم کیو ایم کا یکطرفہ اتحاد اور فاروق ستار کی یکطرفہ جلد بازی کی انٹری نے وقت سے پہلے سارے پتے شو کردیئے اور ساری اسکیم ناکام ہوگئی ۔ 26مارچ کو الیکشن کمیشن نے طویل دلائل سننے کے بعد ایم کیو ایم کا کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو تسلیم کرکے فاروق ستار کو فارغ کردیا۔ 29مارچ کو اپنے اس اعلان کے برخلاف کہ جو انہوں نے 18مارچ یوم تاسیس کے جلسے میں کیا کہ وہ الیکشن کمیشن کا ہر فیصلہ قبول کریں گے اسلام آباد ہائی کورٹ چلے گئے اور عارضی حکم امتناعی حاصل کرلیا۔ لیکن دلائل اور حقیقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے آنے کے بعد آئین ایم کیو ایم کی رو سے بہادر آباد کی پوزیشن مضبوط ہے۔ بہرحال یہ ایم کیو ایم کے اندرونی معاملات ہیں جو اب سر عام ہیں ۔ ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں نے دو مرتبہ الگ الگ پروگرام منعقد کئے جس میں 28فروری کو لیبر ڈویژن کا یوم تاسیس ، پی آئی بی اور گلشن اقبال میں ہوا۔ 18مارچ کو لیاقت آباد اور نشتر پارک میں یوم تاسیس ، بلاشبہ اس میں بہادرآباد کا پلڑہ بھاری رہا۔ لیکن ایم کیو ایم کی واضح تقسیم نظر آئی۔
تاہم یہ واضح ہے کہ ایم کیو ایم کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی انکی راہ کا تعین کریگا ۔ شہری علاقوں کا مینڈیٹ تقسیم ہوگیا تو حیرت انگیز نتایج آسکتے ہیں ۔ لسانی سیاست سے نجات ملنا ناپید نظر آتا ہے پورے ملک میں قومی وحدت اور ملک سے محبت کا ایک اور حلف اٹھوانے کی ضرورت سیاست کرنے والوں سے لینے کی ضرورت نظر آرہی ہے ملک ہے تو ہم ہیں ۔ ملک کی سلامتی کو پہلی ترجیح بنایا جائے ۔