شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

11 اپریل 2018

ہمارے نام نہاد جمہوریت پسند حضرات اکثر جو بلا جواز اپنی قوم کے محافظوں پر انگلی اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری فوج عوام کا یا ملک کا 70%بجٹ کھا جاتی ہے ۔ جب میں نے ایک فوجی سے پوچھا کہ آپ حکومت کا 70%بجٹ کھا جاتے ہیں ۔ اس پر انھوں نے بہت ادب سے جواب دیا کہ کون ہوتے ہیں وہ لوگ جو کسی کے لیے اپنی جان قربان کردیں ایک فوجی کی تنخواہ ۱۰ ہزار سے لے کر آخری ۲۸ سے ۳۰ہزار تک ہوتی ہے اور کوئی اتنا ا چھا ہے نہیں کہ صرف ۳۰ ہزار روپے کے لیے اپنے پیاروں سے دور خوشیوں سے دور ہو جائے اور اپنی جان خوشی خوشی دے دے۔ہم وہ ہیں جنہیں ملک کی سلامتی کے لیے چنا گیا تاکہ ہمارے ملک کے لوگ خوش رہ سکیں ۔ ہم بارش ، سرد موسم، گرم ترین موسم برف باری میں اس لیے رہتے ہیں تاکہ آپ اپنے پیاروں کے پاس رہ سکیں۔ یہاں تک کہ ہم آپریشن کے دوران تین، چار، دن تک بغیر کھائے رہتے ہیں زمین پہ سوتے ہیں۔ آرمی کا ایک آفیسر تک یہی سب کرتا ہے۔ کیونکہ ہم اس مٹی کے لیے اپنی جان دینے کے لیے قربان ہوتے ہیں بھلا انسان کے پاس جان سے بڑی کوئی چیز ہے؟ میں نے ایک سوال پوچھا کہ آپ کو ڈر نہیں لگتا؟ ایک سپا ہ سالار کا جوش دیکھیں وہ کہتا ہے ایک سپاہی شہید ہوگا تو باقی ملک اپنی زندگی آرام سے گزار سکتا ہے۔ آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہے جو بہر حال کسی کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ تو اس آزادی کی قیمت کے لیے اللہ نے کچھ سپاہ سالاروں کو اس ملک کے لیے چن لیا ہے۔ جن کا کام اپنے ، دین اور سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ (سدرہ سید،کراچی)