طاقتور پاسپورٹ ایجنٹ مافیا منی بیک گارنٹی کیساتھ سرگرم، حکام بے بس

Apr 11, 2013

لاہور (اویس قریشی سے) وزارتِ داخلہ کے متعلقہ حکام پاسپورٹ کے لیمینیشن پیپر کے بحران پر قابو پانے میں ناکام ہو گئے ہیں پچھلے دو مہینوں سے اوورسیز پاکستانیوں سمیت ملک بھر سے بننے کے لئے دس لاکھ سے زائد پاسپورٹ اسلام آباد کے ہیڈ آفس میں التواءکا شکار ہیں۔ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن حکام طاقتور پاسپورٹ ایجنٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ مذکورہ شدید بحران کے باوجود ایجنٹ ”منی بیک گارنٹی“ کے ساتھ فی پاسپورٹ 10 ہزار کے عوض ایک ہفتہ کے اندر متعلقہ خوش قسمتوں کو گھر کی دہلیز پر پہنچا رہے ہیں جبکہ لاکھوں انتہائی ضرورت مند امیدوار جن کے ویزوں کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے اور باہر 15 برسوں سے نوکریاں بھی پاسپورٹ بروقت نہ ملنے کے باعث خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ وہ میرٹ اور اس نام نہاد و خود ساختہ بحران کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں صورت حال اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ارجنٹ پاسپورٹ بھی ڈیڑھ مہینے کے بعد بھی 6 چکر لگانے پر مل رہا ہے اور عملہ میں اس ”بحران“ میں پچھلے دو مہینوں کے اندر کروڑوں روپے کھا چکا ہے اور ایجنٹ مافیا کے سامنے پاسپورٹ دفاتر کے ذمہ دار بھی بے بس دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے اپنے عزیز و اقارب کے ہزاروں پاسپورٹ پھنسے ہوئے ہیں اور ہیڈ آفس میں صرف ”پیسہ“ لگانے والوں کو ریلیف مل رہا ہے۔ پاسپورٹ کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ بحران پر قابو پانے میں ایک مہینہ مزید لگ سکتا ہے کیونکہ یہ مخصوص مافیا نے پیدا کیا ہے اور وہ اس سے مستفید ہو رہا ہے۔ متاثرہ لوگوں کا نگران حکومت سے کہنا ہے کہ لاکھوں پاسپورٹ رکے ہوئے ہیں اور کوئی نوٹس نہیں لے رہا۔

مزیدخبریں