پاکستان قائد اعظم کے وژن سے ہٹ گیا،قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے: چیف جسٹس

Sep 10, 2018 | 11:44

ویب ڈیسک

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان قائد کے وژن سے ہٹ چکا ہے، ملک قانون کی حکمرانی ، شفافیت اور احتساب سے قائد کے وژن پر لایا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ نے غیر ضروری التوا پر صفربرداشت کی پالیسی اپنالی ۔پیر کو نیا عدالتی سال پر سپریم کورٹ میں تریب ہوئی۔ سپریم کورٹ کے تمام ججز‘ اٹارنی ج نرل اور ایڈووکیٹ جنرلز نے شرکت کی۔ اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ گزشتہ سال 36 ہزار 501 کیسز عدالت عظمیٰ میں دائر ہوئے‘ 28ہزار 970 مقدمات سپریم کورٹ میں نمٹائے گئے گزشتہ سال دو سینئر ججز سبکدوش ہوئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نئے فل کورٹ تقریب سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان قائد کے وژن سے ہٹ چکا ہے، ناقص حکمرانی اور ناانصافی ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے، ملک قانون کی حکمرانی ، شفافیت اور احتساب سے قائد کے وژن پر لایا جاسکتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بطور محافظ آئین آئینی اور بنیادی انسانی حقوق پر فرض نبھانے کی کوشش کی، عوامی نوعیت کے معاملات میں غیر ملکی اکاونٹس دہری شہریت شامل ہیں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے قتل کے کیس شامل ہیں جبکہ اسپتالوں میں ناقص سہولیات کی فراہمی اور کٹاس راج مندر کا معاملہ شامل ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا میڈیکل ،لاکالجز کی اصلاحات ،سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق پر اقدامات شامل ہیں، گزشتہ سال کے آغاز پر 37 ہزار کیسز فیصلہ طلب تھے اور 9 ہزار کیسوں کے فیصلے کیے گئے ، فیصلے5سال کے دوران کیس حل کرنے کا سب سے زیادہ تناسب ہے، بقایا کیسز کی بڑی وجہ غیرضروری التوا،جھوٹے مقدمے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے غیر ضروری التوا پر صفربرداشت کی پالیسی اپنالی ہے۔

مزیدخبریں