یاد رفتگاں…بے مثل شخصیت ،محمد مشتاق

Sep 10, 2018

محمد مشتاق سیم وزر کا متوالا تھا نہ جاہ وجلال کا متمنی ، ہمت کا ہمالہ اور استقامت کا کوہِ گراں تھا وہ پر پیچ راہوں کو روند دینے کا عادی تھا مرحوم تحصیل مری کے گائوں پھگواڑی کے معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے یہ سر فروش تقریبا بیالیس سال تک روزنامہ نوائے وقت سے منسلک رہے ۔شفقت ، محبت ، پیار ، خلوص، بندہ نوازی ، خندہ پیشانی ، مہمان نوازی ، دلجوئی اور دلداری کے اوصافِ جمیلہ و جلیلہ سے متصف تھے حقیقت پسندی ان کا طرہ ِ امتیازتھا اپنے علاقے اور گردونواح کے نادار اور غریب لوگوں کے لئے مجسمہ شفقت اور امید کی کرن تھے - جب انسان کا مقصد اس کے لہجے اوررویے کا حصہ بن جائے تو وہ مسندِعظمت پر جلوہ برا ہوتا ہے وہ فلاحی اور تعمیری ذہن رکھنے والے شخص تھے اس لئے آپ نے اپنی تمام ترتوانائیاں فلاح وبہبود کے کاموں پر صرف کر دیں خدمت کے لحاظ ایسے لوگوں میں شامل تھے جو خال خال ملتے ہیں خدمتِ خلق ہی آپ کا مقصدِ حیات تھا- حصول مقصد کی سچی لگن کی وجہ سے آپ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے - جرات، بے باکی اور صاف گوئی بھی آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا - عقلمندی اور معاملہ فہمی میں اپنی مثال آپ تھے یہی وجہ ہے علاقہ کے لوگ اپنے تنازعات کے ۔پر امن اور منصفانہ حل کے لئے اکثر آپ کوہی ثالث مقرر فرماتے اور آپ ہر قسم کے تعلق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے آپ نے ہمیشہ سادگی سے زندگی گزاری اور یہی سادگی ان کا جوہر تھا ا ن کی شخصیت ایک کھلی کتاب کی مانندتھی ان میں منافقت نام کی کوئی چیزنہ تھی آپ خوش قسمت تھے کہ اللہ نے آپ کو اس نعمت سے نوازا تھا-انسان کا ظاہر اور باطن ایک ہونا کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے آپ نے مصائب وآلام برداشت کئے مشکلات وآفات کی آندھیوں کا سامنا کیا لیکن اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ان کا برتا ہر شخص کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا وہ جب بھی کسی سے ملتے تو ان کا چہرہ گلاب کی طرح کِھلا ہوتا اور مسکراہٹ کی لہریں ان کے چہرے پر مدو جزر کی طرح ٹھاٹھیں مارتی تھیں - ان کی گفتگوکی شگفتگی اور جذبات کی سچائی ہرشخص کو متاثر کرتی تھی شائستگی اور احترامِ آدمیت ان کے کردارِ بے مثال کا جزوِ خاص تھا- اپنے کام سے کام، اپنی لگن میں مگن اور اپنی دھن میں مست رہنا ان کے ضمیر کا خمیرتھا نہ کسی سے ناراضی ، نہ لڑائی جھگڑا، نہ بغض نہ عناد ، سب کی عزت ، سب کا احترام ،سب سے محبت اور سب سے پیار ان کاخاصہ تھا یہ فقیرصفت انسان مختصر علالت کے بعد 17اگست2018 کواپنے تمام پیاروں کوروتا ہوا چھوڑ کر اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرگیا اللہ پروردگار ا ن کی بخشش فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کوصبر ِجمیل عطا فرمائے آمین۔(محمد شعبان عباسی،مری )

مزیدخبریں