ہم کب بدلیں گے؟

Sep 10, 2018

مکرمی :معاشرے کی وہ افسوس ناک حقیقت جسے دیکھ کر خود انسانیت بھی شرما جائے۔وہ بد نصیب بد بخت جو صرف یہ ہی نہیں بلکہ حیوان کہلانے کے قابل ہیں نہ جانے کیوں اپنی تعلیمات سے نہ آشنا ہیں وہ بھول بیٹھے ہیں کہ اک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ،وہ پھول جنھیں اپنا قصور تک نہیں معلوم جن کی آنکھیں نم ہونے سے پہلے نوچ لی جاتی ہیں،جو کبھی کوڑے کے ڈھیر سے تو کبھی سڑک کے کنارے پائے جاتے ہیں، اک ماں اپنی رسواء اور غربت کی خاطر اپنے کلیجے کو قربان کر دیتی ہے۔دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اک با پ کی شفقت کیسے گوارہ کر جاتی یے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو زندگی اور موت کی کشمکش میں چھوڑ آتا ہے ،کیا بچے کی روتی بلکتی ہوئی آوازیں ماں کی ماممتا اور باپ کی شفقت کو نہیں جگا سکتی۔وہ جوڑے نہ جانے کیسے سکھ کا سانس لے لیتے ہیں۔اے ابن آدم خدارا ان ننھی جانوں کو پامال مت کرو،خوف کھاو اس دن سے جب تم پیش کیئے جاو گے بے قصور پھولوں کی عدالت میں ۔ڈرواس سے جس کی لا ٹھی بے آواز ہے ۔اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین ! (زنیرا رفی،نمل یونیورسٹی اسلام اآباد)

مزیدخبریں