زندگی احساس کا ہے نام، دھڑکن کا نہیں!

Sep 10, 2018

کسی چرواہے نے کہا تھا کہ جب کوئی نیک اور صالح حکمران مسند نشین ہوتا ہے تو شیر اور بھیڑیے ہمارے جانوروں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔یہی وجہ ہے جب حضرت عمرِفاروقؓ کی شہادت ہوئی تو مدینے سے ہزاروں میل دورایک چرواہے نے عمر ؓ کی جدائی کا اعلا ن اس وقت کر دیا جب اسکے ریوڑ پر شیر یا بھیڑیے نے حملہ کیا۔دنیا کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ شاہِ دین دار کی ظلم کی حکومت سے بہتراس دنیا دار کی حکومت ہوگی جوعوام کو عدل و انصاف دے سکے۔یہ بات نبی اکرم ؐکی احادیث سے بھی واضح ہے کہ مظلوم کو انصاف دینا ہی کسی ملک و قوم کی بقا کیلئے ضروری ہے۔یہی بات جامی نے بہارستان میں کیا خوب کہی ہے؛

عدل و انصاف، نہ کفر و نہ دین

آنچہ در حفظِ مُلک درکار است

عدلِ بے دین نظام،عالم را

بہتر از ظلمِ شاہ دین دار است

بے دین نظام بھی عدل و انصاف کی وجہ سے اس دنیا میں کامیاب رہے گا۔ اس ساری تمہید کا مقصد چیف جسٹس پاکستان سے یہ درخواست کر نا تھی کہ ملک و قوم کی بقا کیلئے ریٹائرمنٹ سے پہلے عدل و انصاف کا نظام آسان، بہتر اور سستا کرنے کی کوشش کریں۔ آج عمران خان کی حکومت عوام کیلئے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حکومت کی مدد لیجئے اور ملک کے عدالتی اور پولیس کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لا کرتاریخ میں امر ہو جائیں۔ ورنہ آپ کا نام بھی ظلم کے اندھیروں میں گم ہو جائے گا۔ پانی زندگی کیلئے بے حد ضروری ہے مگر تاریخ عالم کو دیکھئے تو قوموں کی بربادی عدل و انصاف نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ملکہ سباء کا ملک ڈیموں کے ہوتے ہوئے بھی ڈوب گیا۔ پاکستان کے پاس بہت پانی ہوا کرتا تھا۔ 5000 کیوبک میٹر پانی فی کس موجود تھا۔ مگر جنابِ والا! ہمارا ملک پھر بھی ٹوٹ گیا۔ پانی کی کمی سے نہیں بلکہ عوام پرظلم و ستم رکھنے کی وجہ سے۔ ہمارے جیل بے گناہوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہماری عدالتیں جھوٹے مقدمات اور جھوٹے گواہوں کے سر پر سالہا سال تک مظلوموں کو دائروں میں چکر لگواتی رہتی ہیں۔ مقدمات کے جب فیصلے آتے ہیں تو بہت سے لوگ جہاں فانی سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔ جج صاحب مُردوںکو باعزت بری ہونے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ ایسے ظلم کے خود چیف جسٹس صاحب گواہ ہیں۔کمزور طبقات ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی فرعون کے دور سے بھی بڑھ کر ہے۔ قانون عورتوں کو جائداد میں حصہ عزت کے ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے۔ میں نے بڑے بڑے عالم فاضل نمازی یہ حق دینے سے کتراتے دیکھے ہیں۔ ہمارے چیف جسٹس 50% آبادی کی مدد اس طرح کر سکتے ہیںکہ عورت کو وراثتی جائداد عملی طور پر ہر صورت میں ملے۔یہ منافقت ہے کہ قانون میں لکھ دیا جائے اور سسٹم اتنا مشکل بنایا جائے کہ عمل نا ممکن ہو۔ گھریلو عورت وکیل کہاں سے لائے؟ وہ اپنے ہی بھائیوں سے کیسے لڑے؟ کیا یہ سوسائٹیPatriarchal نہیں ہے؟ کیا ملک ایسے عدالتی نظام کو برداشت کر سکتا ہے ؟کبھی نہیں! عدل کا ایک مسلہ اور بھی ہے۔ یہ نہ آئی ایم ایف کے قرض سے مل سکتا ہے اور نہ ہی چندے سے بن سکتا ہے۔ اس کوصرف دور اندیش اور ملک و ملت سے محبت رکھنے والے بہادر لوگ ہی لاسکتے ہیں۔ یہ فقط کوڑے لگانے سے بھی نہیں چل سکتا۔ضیاء الحق کی ناکامی سامنے ہے۔ ڈیم ضرور بنائیے اور اپنے ہی لوگوں کی قربانیوں سے بنائیے۔ اقبال ؒ نے بھی تو کہا تھا؛

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات!

تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن!

کالاباغ کو بھی سیاست کی نذر کرنے والے ذرا اپنی آخرت کا سوچ لیں۔ خالص فنی مسلے کو دھمکیوں اور دھونس سے اڑا دینا شرمناک ہے۔چیف جسٹس اور عمران خان کی کال پرہر ذمہ دار شہری لبیک کہے گا۔ مجھے بڑے بڑے سرمایہ داروں کے نام تو کم ہی نظر آئیں گے مگروہ لوگ جو نواز شریف کے ہاتھوں ایک دفعہ پہلے ’’ قرض اتارو، ملک سنوارو ‘‘ کے نام پر لٹ چکے ہیں وہ عمران خان پر اعتبار کرتے ہوئے پھر آگے آ رہے ہیں۔ مجھ جیسے عام لوگ حسبِ توفیق اس قومی فریضے میں حصہ لینا سعادت سمجھتے ہیں۔ اس مہم میں شرکت سے اپوزیشن کو بھی عزت اور عظمت کا مقام مل سکتا ہے مگر اس معاملے سرد مہری بلکہ طنز یہ بیانات ان کے خیالات کی عکاسی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے عظیم دانشوراعتزاز فرماتے ہیں کہ ’’ اپوزیشن کا فرض ہے حکومت گرانا‘‘۔ اگر یہی اپوزیشن ہے تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سیکولر جمہوریت شاید یہی ہے۔ خشک سالی سے بچنے کیلئے جنگلات کی مہم ایک عظیم جدوجہد ہے۔ ماضی کی اندھی حکومتیں اپنے کاروبار کے اتار چڑھاؤ سے آگے کچھ سوچ ہی نہ سکیں۔ کے پی میں جنگلات کی مہم کا بہت مذاق اڑایا گیا۔ سراج الحق کو کے پی میں ایک درخت نظر نہیں آیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان کی گواہی پیش کی۔ درخت لگانا یا ڈیم بنانا محض عمران خان کی ذمہ داری نہیں ۔ یہ ساری قوم کا فرض ہے۔ ہر جماعت کو اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔میں ایک فردِ واحد ہوں۔ معاشرے کے کمزور ترین طبقے عورت سے تعلق ہے مگر ہر سال برسات اور فروری میں شجر کاری مہم میں حصہ لیتی ہوں۔ درختوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کرتی ہوں۔ مختصر یہ کہا جا سکتا ہے کہ درخت معاشیات کا دوسرا نام ہے۔ یہ دنیا بھی ہے، دین بھی ہے۔ مکہ و مدینہ میںدرختوں کی کٹائی اور جانوروں کو مارنے پر بندش لگا کر حرم کی حدود کومقرر کر دیاگیا۔ پانی کو گندہ کرنے اور ضائع کرنے سے منع کر دیا گیا۔یہودی نے سلمان فارسیؓ کی آزادی کی ایک شرط درخت لگانا مقرر کیا تو نبی پاک ؐاور صحابہ کرام ؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ کہا گیا کہ جس نے دنیا میں درخت لگایا اللہ اس کیلئے جنت میں درخت لگائے گا۔آخری بات کیا کمال کی کہی گئی؛ اگر کسی کے ہاتھ پودا ہے جسے وہ زمین میں لگا رہا ہے اور قیامت آجائے تو وہ کوشش کرے کہ پودا لگا لے؛ قارئین! نہ نجانے ہم درختوں اور پہاڑوں کے دشمن کیوں ہیں؟ پہاڑ اور درخت کاٹ کاٹ کربے جا عمارتیں بنائی جا رہی ہیں۔ کیاکوہ احد کے بارے میں رحمت لعالمینؐنے یہ نہیں کہاتھا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں!!درخت نہ لگائے گئے تو دریا اور ڈیم کہاں سے بھریں گے؟ گلستان میں سعدیؒ کہتے ہیں کہ اگر کوہستان میں بارش نہ ہوئی تو یاد رکھو کہ دجلہ خشک ہوجائے گا۔ آبادی کے ہر شخص کیلئے درخت لگانا چاہئے اور چاہے کسی بچے کی پیدائش اسی دن ہی کیوں نہ ہوئی ہو! مٹھائی تقسیم کرنے کے بجائے بچوں کے نام سے درخت لگائے جائیں تو شاید ان کے دل میں اس سرزمین سے محبت بھی پیدا ہوجائے گی۔عمران خان کے معشیت کے مشیروں میںماحولیات سے محبت رکھنے والے لوگ بھی شامل ہونے چاہئے اور ایسی اہم پوزیشنوں پرننگِ دین کو ہر گز نہیں لاناچاہئے۔ قادیانی کون ہیں؟ یہ وہ اقلیّت ہے جو اکثریت کو اس لئے غیر مسلم کہتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نہیں مانتے۔یہ دشمن کو اخلاقی ، علمی اور ڈالر کی مار دیتے ہیں۔جس طرح ہم عیسٰی علیہ السلام ، موسیٰ علیہ السلام ، پہلے نبیوں اور پہلی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں مگر خاتم النبیین ؐپر ایمان رکھنے کی وجہ سے مسلمان کہلاتے ہیں دوسری طرف احمدی اور قادیان قبیلے کے لوگ معاشرے میں گھل مل گئے ہیں مگر اپنے مرکز کو ہر ڈیوٹی سے افضل سمجھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل میں کام کرنے والے سینکڑوں قادیانی پاکستانی لڑکے اور لڑکیا ںہیں۔ پاکستان نے اسرائیل کو تو تسلیم نہیں کیا مگر قادیانی مشن وہاں کیوں موجود ہے اورکس لئے؟ مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا تو اسے استقبالیہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے قادیانی مولوی نے دیا۔ ہم یہی کہتے ہیں کہ مشتری ہوشیار باش!!

مزیدخبریں