ممنون حسین کا ایوان صدر

Sep 10, 2018

جناب ممنون حسین ایوان صدر سے رخصت ہوئے انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ الوداع کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں جناب ممنون حسین کو “زندہ تاریخ” کا درجہ حاصل تھا وہ کاروبار ی علوم میں درجہ تخصص رکھتے تھے لیکن جناب نواز شریف سے سیاسی وفاداری نے ان کے علم و فضل اور شخصی وجاہت کو دھندلا کر رکھ دیا تھا ۔وہ برصغیر کی جنگ آزادی کا ایسااستعارہ تھے کہ جن کے سامنے یہ تاریخ مرتب ہو ئی تھی اسی طرح وہ پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے والی معزز اور معتبرنسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ سیاسی عمل کی بجائے شخصی وفاداری کی بنیاد پر صدر مملکت کے عالی شان منصب کے لئے چنے گئے تھے جس سے وہ آخری لمحوں تک جان نہ چھڑا سکے جس کی وجہ سے انہیں عالی مقام آئینی منصب دار کی بجائے شخصی وفادار سیاسی کارکن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا

جناب نواز شریف کا کمال تھا کہ وہ سیاست کے بے رحم کھیل میں اہلیت سے زیادہ وفاداری کو تر جیح دیتے تھے، سرور محل میں مدتو ں پہلے جلاوطنی کے دوران، عشائیے پر ہو نے والی بلا تکلف اور کھلی ڈلی گپ شپ کے دوران انہو ں نے اس کالم نگار کو بتایا تھا کہ گا ہے گا ہے چھکے مارنے کا مشورہ دینے والے اور کڑاکے نکالنے والے لطیفہ گو مزاج شناس مصاحب فوجی بوٹو ں کی آواز سنتے ہی غائب ہو گئے تھے۔ عجیب وغریب اور ناقابل فہم ذہنی ساخت کی وجہ سے جناب نوازشریف نے ان کے سیاسی قدوقامت کو کم کرنے کے لئے انہیں”دودھ ربڑی والا“ مشہور کرایا ویسے اگر واقعی جناب نواز شریف کو ممنون حسین صاحب کے گھر کا دودھ ربڑی پسند تھا تو خا ص موقعے پر ایسی خبریں نمایاں کرنے کے کیا مقاصد ہو سکتے تھے اور اس میں جناب ممنون حسین کیسے قصور وار قرار پاتے تھے، اس معاملے میں جناب نواز شریف کی”نگاہ التفات“کو داد دینی چاہیے کہ ان کے حسن انتخاب کا معیار کیسا مزے دار اور خوش ذائقہ تھا۔ پہلے گورنر سندھ کے عہدہ جلیلہ پر بٹھاتے ہیں اور مو قع پاتے ہی صدرمملکت کے عہد ے کے لیے نامزد فرماتے ہیں۔ حقائق جو بھی ہوں لیکن یہ تو حقیقت ہے کہ جناب ممنون حسین اپنے مقابل حریفو ں کے سامنے جچتے نہ ہوں لیکن اپنے پیش رو جناب آصف علی زرداری سے شرافت اور نجابت میں کسی بھی طرح کم نہیں تھے۔

جناب ممنون حسین نے کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا تھا۔ جناب نوازشریف اپنے ہی تجویز کردہ آئینی منصب داروں سے اس طرح کے سلوک کی طویل تاریخ رکھتے ہیں بزرگ دانشمند صدر غلام اسحق’ جنرل آصف نواز ‘ جنرل وحید کاکڑ’ اپنے محسن فاروق لغاری اورجنرل پرویز مشرف سے جو سلوک کیا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔ جناب ممنون حسین نے نوازشریف سے ہسپتال میں ملنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد اڈیالہ جیل کا صدارتی دورہ کرنے کی تجویز پیش کردی۔ ان کوششوں میں ناکامی کے بعد جناب ممنون حسین لندن جاپہنچے جہاں انہوں نے پاکستان کو سنگین جرائم میں مطلوب ملزمان سے ملاقاتیں کیں جو ان کے منصب صدارت سے منسلک آئینی تقاضوں کے منافی تھیں لیکن یہ سرکاری خرچ پر شریف خاندان سے ان کا اظہار وفاداری تھاجس نے ان کو سیاسی کارکن کے مقام پر لا کھڑا کیا تھا۔

مدتوں پہلے جناب ممنون حسین سے ایوان صدر میں ہونے والی خصوصی ملاقات کے بارے میں اس کالم نگار نے کچھ یوں اپنے تاثرات بیان کئے تھے۔

صدر مملکت ممنون حسین سے ملاقات نہیں برصغیر پاک و ہند کی زندہ تاریخ سے معانقہ اور مکالمہ تھا۔صدر مملکت ممنون حسین بھی ہجرت کا استعارہ بنے آگرہ اور اس سے جڑی ہوئی داستانیں سنارہے تھے اور یہ کالم نگار گم سم بیٹھا سن رہا ہے۔ تحریک پاکستان کے آغاز پر دادا مرحوم نے میرے والد گرامی کوبتایا تھا کہ اب ہندوستان کامتحد رہناممکن نہیں رہے گا تقسیم ناگزیر ہوچکی ہے جس کے بعد والد محترم نے فیصلہ کیا کہ آگرہ سے کسی مسلمان ریاست کوہجرت کرلی جائے اور ہم نے اپنا کاروبار حیدرآباد دکن منتقل کرلیا۔ آزادی کے فوراًبعد وہاں پربھارت نے پولیس ایکشن کردیا تو ہمارا خاندان واپس آگرہ آگیا تھا کہ مسلم ریاست’حیدرآباد دکن کے سقوط کے بعد وہاں رہنے کاکوئی جواز نہیں تھا''صدر ممنون حسین محوگفتگو تھے لیکن اب وہ پہلے والا آگرہ نہیں تھا، وہاں بھی دنیا بدل چکی تھی۔دادا ابا نے والد صاحب کو مال واسباب سمیٹنے اورپاکستان ہجرت کاحکم دیا کہ صدیوں سے ایک ہی جگہ بسے رہنے والوں کے تیوربدل چکے تھے دادامرحوم کاخیال تھا کہ ایسے ماحول میں رہنا مناسب نہیں ہے کہ اپنے پ±رکھوں کی زمین اجنبی ہوتی جارہی تھی۔ آگرہ کے مسلمانوں کی اکثریت چمڑے اوراس کی مصنوعات کے کاروبار سے منسلک تھی صدرممنون حسین کے دادا اوروالد مرحوم کے جفت سازی کے دوالگ الگ کارخانے تھے کہ دانش مندبزرگ نے اپنے بیٹے کو الگ کاروبار اورکارخانہ بنادیا تھا۔

صدرممنون حسین کی جنوبی ایشیا کی سیاست پر گہری نگاہ ہے، انہیں بنگلہ دیش ، بھارت اورسری لنکا کے اہم واقعات پوری صحت اور جزئیات کے ساتھ ازبر تھے بنگلہ دیش میں جاری سیاسی ہنگامہ آرائی کاذکر کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے پاکستان کے بارے میں منفی رویوں کاذکر ہوئے بتارہے تھے کہ ڈھاکہ میں ہونے والے کرکٹ کے فائنل میچ میں پاکستان اوربھارت مدمقابل تھے، آخری لمحوں میں پاکستان کی فتح پر حسینہ واجد کا تمام اخلاقیات کوپس پشت ڈال کر چلے جانا اورمہمان خصوصی کی حیثیت سے پاکستان ٹیم کوٹرافی دینے کی تقریب سے غیر حاضر ہونا بھی یاد تھا، شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے عوامل اور پس پردہ محرکات پر وہ تاریخ کے استاد کی طرح مربوط اورمسبوط گفتگو کررہے تھے، سری لنکا کے تاملوں کی ناکام بغاوت ہویاپھر بھارت کی مختلف ریاستوں میں چلنے والی علیحدگی کی تحریکیں جناب ممنوں حسین کومکمل طورپر اپ ٹو ڈیٹ پایا۔

ڈیڑھ گھنٹہ بیت چکا تھا، دوپہر کے کھانے کے بعد یہ طالب علم اپنے بزرگ میزبان صدرمملکت جناب ممنون حسین سے اذن رخصت چاہ رہا تھا کہ آج دوپہر برصغیر کی زندہ تاریخ سے مکالمہ قلب ونظر آسودہ کررہا تھا۔ برصغیر کوتقسیم ہوئے مدتوں بیت چکیں، کامل 70برس بعد بھی ہجرت کے المیے سے جنم لینے والی کہانیاں ختم ہونے کانام نہیں لے رہیں''ہجرت اورمہاجر''سندھ کی شہری سیاست اور کراچی کے پس منظرمیں خونین استعارہ بن چکے ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس کہ وہ کامل 5 برس اپنے علم و فضل سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے وہ پاک بھارت تعلقات کو قومی امنگوں کے مطابق استوار کرانے کی بجائے گونگے پہلوان کا کردار ادا کرتے رہے۔ مودی نواز شریف اور جندال نوازشریف عشق کی پینگ ہلارے کھاتی رہی۔ اس سب کے باوجود لیکن یہ بھی تاریخ میں لکھا جائے گا کہ آصف زرداری کے بعد یہ ممنون حسین ہی تھے جنہوں نے سویلین صدر کی حیثیت سے اپنی آئینی مدت صدارت مکمل کی تھی جس میں ہمارے دوست فاروق عادل نے بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔

مزیدخبریں