پیر ‘ 29 ذی الحج 1439 ھ ‘ 10 ستمبر 2018ء

Sep 10, 2018

یونیسف کے امتحان میں بلوچستان کے سرکاری اساتذہ فیل ‘لاہور میں سیشن جج کے امتحان میں 1128 میں سے صرف 8 وکلاءپاس

سب سے پہلے تو بلوچستان میں ایسا امتحان لینے کی مذمت کی جانی چاہئے جو غیرملکی ادارے کے زیرانتظام ہو۔ اب بھلا کیا ملا ان کو سارے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی بے عزتی کرکے۔ یونیسف کے زیراہتمام امتحان میں سائنس مضامین اور ریاضی میں سب اساتذہ فیل ہوئے۔ بمشکل چند ایک 100 میںسے 23 نمبر لے سکے۔ اب خود ہی سوچ لیں یہ چندے آفتاب چندے ماہتاب سرکاری سکولوںکے اساتذہ‘ بچوں کو کیاخاک پڑھائیں گے۔

ویسے بھی اب وہ دور نہیں جب کوئی پڑھ کر امتحان دے۔ اب تو گیس پیپرز اور گائیڈز کے بغیر کوئی کمرہ امتحان میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہاں بھی انہیں یہی پریشانی ہوتی ہے کہ کتاب میں کون سے سوال کا جواب کہاں ہے۔ اس پر بھی ان بے چاروں کی تلاشی کی جاتی ہے اور نگرانی بھی سخت ہوتی ہے۔ ان حالات میں کوئی پرچہ کیسے حل کر سکتا ہے۔ اب ان اساتذہ کا کیا قصور جو اس طرح پاس ہوئے۔ یہ میٹرک یا ایف اے پاس کیا خاک امتحان دیں گے۔ ان کی بات چھوڑ دیں۔ پنجاب میں ہی دیکھ لیں جو 1128 وکلاءسیشن جج کے امتحان میں شریک ہوئے‘ انہوں نے کونسا توپ چلا ئی۔ ان میں سے بھی صرف 8 وکلاءپاس ہوئے‘ باقی سب ظاہر ہے فیل۔ انہیں بھی گیس پیپرز اور گائیڈ بک ساتھ لانے کی اجازت نہیں ملی۔ اب تو عموماً اس کالے کوٹ کو پہنتا وہی ہے جو جگا گیری تھوڑی بہت الف بے جانتا ہو۔ کیونکہ 3 سال میں کیا خاک قانون پڑھا جائے گا۔ اب پھر شاید اسی وجہ سے حکومت نے 5 سالہ ایل ایل بی کورس لازم کر دیا ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ وکیلوں کے لائسنس اور تعلیمی ڈگریوں کی سختی سے جانچ پڑتال کر لے تو نئے نئے انکشافات آئے روز اخبارات اور ٹی وی کی زینت بنتے نظر آئیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

٭٭........٭٭........٭٭

شیخ ہوں جیب سے ڈیم فنڈ میں 10 کروڑ نہیں دے سکتا: شیخ رشید

کچھ نادان شیخ کی نسبت سے وزیر ریلوے شیخ رشید کو بھی عرب شیخ سمجھنے لگتے ہیں۔ شکر ہے شیخ جی نے ایسا سوچنے والے شیخ چلیوںکے خواب خود ہی چکنا چور کر دیئے۔ موصوف کہتے ہیں کہ میں نے ایک فقیر کو مانگنے پر 10 روپے دیئے تو اس نے وہ بھی واپس کر دیئے۔ ظاہر ہے جب بڑے بول اور چھوٹے درشن ہونگے تو یہی ہوگا۔ گزشتہ روز شیخ رشید سے کسی نےپوچھا کہ آپ اپنی جیب سے ڈیم کیلئے 10 کروڑ دیںتو وہ فوراً بولے میں شیخ ہوں‘ اپنی جیب سے کچھ نہیں دے سکتا۔ سب جانتے ہیں ان کے پاس بھی کروڑوں روپے نقد اور اربوں کی جائیدادیں ہیں‘ مگر ملک و قوم پر خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں‘ تاہم بڑی بات ہے کہ انہوں نے بلاتکلف سب کے سامنے سچ کہہ دیا۔ ریلوے ٹکٹ پر ایک فیصد ڈیم فنڈ لگانے پر انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بہت معمولی رقم ہے۔ شیخ جی نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ شادی نہیں کر رہے‘ ان کی شادی ریلوے سے ہو چکی ہے تو پھر یہ جو مال و متاع انہوں نے جمع کیا ہے آخر وہ کس لئے۔ بعد میں ورثاءکھا جائیں گے یا حکومت۔ اس لئے اچھا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی جمع شدہ کروڑوں کی پونجی اور اربوں کی اراضی بھاشا مہمند فنڈ میں دیکر دعائیں لیں۔ ورثاءیا حکومت نے تو بعد میں ہڑپ کرنے کے بعد دعا بھی نہیں کرنی‘ تاہم عوام تاقیامت آپ کو اپنی دعاﺅں میں یاد رکھیں گے۔ اور کیا معلوم دیگر ارب پتی بھی آپ کے نقش قدم پر چل پڑیں تو غریب لوگوں کے سو دوسو روپے بچ جائیں۔

٭٭........٭٭........٭٭

نسوار نہیں‘ سونف منہ میں رکھی: شاہد آفریدی کی وضاحت

گزشتہ دنوں شہدائے ستمبر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقد تقریب سعید میں ہمارے سپر سٹار کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی شاہد آفریدی بھی موجود تھے۔ اس دوران کیمرے نے انہیں نہایت صفائی سے مہارت کے ساتھ اوپر کے ہونٹ تلے نسوار رکھتے دکھایا۔ اس پر کوئی خاص اعتراض یا شور شرابا بھی نہیں ہوا چند ایک نے مزاحیہ جملے کسے۔ لالہ کی مرضی نسوار رکھیں یا پان چبائیں‘ مگر ایک روز بعد لالے نے معلوم نہیں کیوں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھی کہ انہوں نے نسوار استعمال نہیں کی‘ وہ سونف سپاری یا لونگ اور سونف کا سفوف خوشبو کیلئے منہ میں رکھ رہے تھے۔ ہمارے سپر سٹار شاہد آفریدی سے ویسے ہی عوام کو بہت محبت ہے‘ وہ تو ان کی شاندار پرفارمنس ، میٹھی میٹھی باتیں اور گلابی اردو والا لہجہ سن کر ہی نہال ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں بھلا انہیں منہ میں خوشبو رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ رہی بات خوشبو کیلئے سونف سپاری یا لونگ سونف رکھنے کی تو لالہ جی لوگ اتنے بھی بھولے نہیں۔ اب تو کراچی سے لیکر پشاور تک سب لوگ نسوار کے استعمال سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں۔ عام سادہ تیز چونے والی اور خوشبو دار نسوار رکھنے کے تمام طریقے خواہ ویسے رکھیں یا ٹشو پیپر میں لپیٹ کر رکھیں سب کو آتے ہیں۔ اس لئے ویڈیو دیکھتے ہی سب نے جان لیا تھا کہ لالے کی جان نسوار اوپر والے ہونٹ تلے رکھ رہے ہیں۔ چلیں عام سادہ نہیں‘ خوشبو والی ہی سہی۔ یاد رہے سونف الائچی منہ میں رکھ کر چبائی جاتی ہے‘ ہونٹ کے نیچے دبائی نہیں جاتی۔ اتنی سی بات تو بچہ بچہ بھی جانتا ہے۔ آپ کیوں پریشان ہوگئے۔ پریشانی گئی بھاڑ میں وضاحت گئی تیل لینے ‘ آپ سے ہمیں پہلے بھی پیار تھا اب بھی ہے اور کل بھی رہے گا....

میئر کراچی کی گاڑی ڈاکو چھین کر لے گئے

یہ ڈاکوﺅں کا ایک فخریہ کارنامہ ہے یا کراچی انتظامیہ کی شرمناک حالت۔ میئر کراچی خود بھی برسوں تک ایم کیو ایم کے کرتا دھرتا رہے ہیں۔ وہ ایک ایک بھتہ خور، چور ، ڈکیت اور گینگ وار کے کارندوں سے بخوبی واقف ہیں۔ پورا کراچی پہلے پارٹی کی توسط سے ان کی مٹھی میں تھا۔ آج میئر بن کر وہ اسی کراچی پر راج کر رہے ہیں مگر یہ جو بھتہ خوری موٹرسائیکل‘ کار اور موبائل اور پرس چھیننے والوں کا زہریلا پودا انکی جماعت نے لگایا تھا۔ آج آکاس بیل بن کرکر پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اب خود میئر کراچی کے ساتھ بھی وہی ہوا جو کراچی والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ امید ہے انہیں اتنی ہی تکلیف ہوئی ہوگی جو عام شہری کو ہوتی ہے۔ سچ کہتے ہیں ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں۔ رینجرز نے بہت حد تک سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کیا تھا مگر کبھی مہاجرکبھی سندھی کبھی پٹھان کی ہلاکت پر ان طبقوں کی طرف سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے ان کی رفتار میں کچھ فرق پڑا ہے جس کی وجہ سے سٹریٹ کرائم پھر بڑھ رہے ہیں۔ اب اگر کسی روز گورنر یا وزیراعلیٰ کی گاڑی بھی ڈاکو چھین کر لے جائیںتو شاید حکمرانوں اور انتظامیہ کو ہوش آئے گا مگر ڈاکو ایسا کیوں کریں گے اپنے سرپرستوں کے خلاف۔ یاد رہے بوتل سے باہر نکلا جن جب کچھ نہ ملے تو اپنے مالک کو بھی کھانے سے باز نہیں آتا۔

٭٭........٭٭........٭٭

مزیدخبریں