غیرت کے نام پر بے گناہوں کا قتل

Sep 10, 2018

حافظ آباد اور پنڈی بھٹیاں کے درمیان تقریباً یکساں مسافت پر دریائے چناب کے کنارے واقع گاﺅں نسووال کھوکھراں میں گزشتہ روز ایک سنگدل باپ گلزار نے بیٹی‘ داماد اور دو کمسن بلکہ شیرخوار نواسوںکو ٹوکے سے ذبح کر ڈالا۔ 20 سالہ بیٹی مقتولہ ثناءنے 4 سال قبل فردوس نامی شخص سے پسند کی شادی کر لی تھی جس کا ملزم گلزار کو شدید رنج تھا۔

والدین کی مرضی کے خلاف پسند کی شادی کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکی اور ان کے بے گناہ بچوں کے قتل کو ”غیرت“ کے ردعمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس قسم کے مقدمات میں ملزم باپ ہوں یا بھائی بہت کم سزا پاتے ہیں۔ علاوہ ازیں سماجی اونچ نیچ‘ امارت‘غربت‘ کمی اور چودھری ایسے امتیازات بھی ایسے ہولناک واقعات اور المیوںکو جنم دیتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے قوانین موجود ہیں‘ لیکن ان کی روح کے مطابق ان پر اس لئے عمل نہیں ہوتا کہ معاشرے کی عمومی فضا انہیںعملاً غیرمو¿ثر کر دیتی ہے۔ جب تک معاشرے میں پائے جانے والے فضول رسم و رواج‘ طبقاتی امتیازات ‘ عوام کے فرسودہ تصورات اور تضادات نہیں بدلے جائیںگے‘ مروجہ قوانین ایسے جرائم کی راہ نہیں روک سکیں گے۔ اس معاشرے میں غریب کی لڑکی امیر آشنا کے ساتھ اور کمی کی بیٹی چودھری کے بیٹے سے شادی کرکے تودھڑلے سے زندہ رہ سکتی ہے مگر امیر کی لڑکی اور چودھری کی بیٹی کا غریب اور کمی کمین آشنا کے ساتھ شادی کرکے بچ نکلنا محال ہے۔ ایسے ماحول میں غیرت کے نام پر قتل اور خواتین پر تشدد کے حوالے سے بنائے گئے قوانین کی حیثیت بوسیدہ کتاب کے پھٹے پرزوں سے زیادہ نہیں۔یہ قوانین اس وقت تو بالکل ہی بے بس ہو جاتے ہیں جب آشنا کے ساتھ بھاگ جانے والی لڑکی کے بھائی یا باپ کی طعنوں سے زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے اور اس پر بے غیرتی کا ٹھپہ مستقلاً لگ جاتا ہے۔ اسلام جائز حدود میں رہ کر پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سوچ بدلی جائے اور یہ کام عدالتوں اور پولیس نہیں‘ دانشوروں‘ علمائے دین اور سماجی رہنماﺅں کے کرنے کا بھی ہے۔

مزیدخبریں