حکومت ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچنے کیلئے لائحہ عمل تیار کرے

Sep 10, 2018

پاکستان کو سخت ماحولیاتی تبدیلی کا سامنا ہے۔ موسموں کی شدت سے بچنے کے لئے پلاننگ پر عمل کیا جائے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ۔ فیکٹریوں اور آبادیوں کا تمام فضلا ندی نالوں کے ذریعے سمندر تک پہنچ رہا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے، جنہیں سخت ماحولیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ حکومت کی بے اعتنائی اور لوگوں کی لاعلمی کے باعث ہمارے ملک کی زمینی، آبی اور فضائی آلودگی کی وجہ سے موسم کاسالانہ ایکو سسٹم بھی بُری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ سب سے زیادہ آلودگی کچرے کو ٹھکانے نہ لگانے کی وجہ سے پھیلی ہے۔ ہر روز لاکھوں ٹن کچرا ندی نالوں اور دریاﺅں میں پھینکا جاتا ہے جو سیدھا سمندر میں جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے سمندر بری طرح آلودہ ہو چکے ہیں جس سے آبی حیات خطرے میں ہے۔ بڑھتی ہوئی گاڑیوں ، کچرے کے جلانے اور کارخانوں سے نکلنے والا دھواں جہاں ماحولیاتی مسائل پیدا کر رہا ہے وہاں موسموں کے تغیرکا باعث بھی بن رہا ہے۔ اسی طرح جنگلات میں کمی اور پانی کی قلت بھی ماحولیاتی توازن کو بگاڑ رہی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں موسم سرما اور موسم گرما کی شدت و طوالت بڑھ گئی ہے۔ جبکہ بہار اور برسات کا دورانیہ مختصر ہو گیا ہے۔ ماحول کو بہتر بنانے کے لئے ملک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے حکومت کو جلد از جلد کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا یا پہلے سے موجود قوانین میں مناسب تبدیلی لا کر انہیں سختی سے پورے ملک میں نافذ کرنا ہو گا۔ اسکے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی فرض ہے کہ عوام میں ماحولیات کے حوالے سے شعور پیدا کرے اور ان اسباب پر قابو پانے میں معاون بنے جنکی وجہ سے ہمارا ماحولیاتی سسٹم تباہ ہو رہا ہے۔ ہمارا ملک دنیا کے ایسے خطہ میں ہے جہاں موسموںکا ذرا سا تغیر بھی بڑی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔اس لئے ہمیں اپنے مستقبل کے تحفظ کی خاطر ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے حکومتی اور عوامی سطح پر مل جل کر کام کرنا ہو گا....

مزیدخبریں