ٹھیکیداروں نے ریلوے کو اربوں کا نقصان پہنچایا، بحالی سعد رفیق کیلئے چیلنج ہوگا

10 جون 2013

لاہور (میاں علی افضل سے) ریلوے کے مسائل کا حل اور کرپشن کا خاتمہ نئے وزیر ریلوے کےلئے بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہو گا، ریلوے کی بہتری کےلئے جن اقدامات کی فوری ضرورت ہے ان میں سفارش اور رشوت کے بغیر انجنوں اور پرزوں کی خریداری، 12جولائی کو جی ایم جنید قریشی کے ریٹائر ہونے کے بعدغیر سیاسی جنرل منیجر کی سلیکشن، ریلوے کی آمدن میں آضافے کےلئے پرائیوٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت ماضی میں کم ریٹوں پرنجی شعبہ کے حوالے کی گئی ٹرینوں کے معاہدوں کی چیکنگ، ورکشاپس میں کام نہ ہونے کیو جہ سے فارغ بیٹھنے والے 10ہزار سے زائد ملازمین سے کام کا حصول، پیسوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے آئے روز بند رہنے والی ڈیزل کی کمی کودور کرنا، بلوں کی عدم ادائیگی پر ورکشاپس کے کاٹ دئیے گئے گیس کنکشن کی بحالی، کروڑوں روپے کا بل ادا نہ کرنے پر آئے روز ریلوے کالونیوں اور دفاتر کی کاٹ دی جانیوالے بجلی کی بحالی، درجہ چہارم کے ہزاروں ملازمین کی شدید خستہ حال رہائش گاہوں کی مرمت، ملک بھر میں13ہزار میں سے 159انتہائی خطرناک پلوں کی فوری مرمت، حادثات کی روک تھام کےلئے ملک بھر میں 2300سے زائد بغیر پھاٹک کے کراسنگ پر اہلکاروں کی تعیناتی، ٹرینوں کی پاور وینوں سے ڈیزل چوری کی روک تھام اور مافیا کے خلاف کارروائی، ریلوے سٹوروں سے سکریپ کی چوری، ذاتی مقاصد کے حصول اور مختلف سیاسی پارٹیوں کےلئے کام کرنے والی یونینز کی ہڑتالوں کا کنٹرول اور ملک بھر میں قبضہ کی گئی ریلوے کی 3ہزار ایکڑ سے زائد اربوں روپے کی زمین کو واگزا ر کروانا شامل ہے ریلوے افسران کی جانب سے من پسند ٹھیکداروں اور انجنوں کی خریداری کےلئے پسندیدہ کمپنیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نئے جنرل منیجر کی سلیکشن کےلئے 4ناموں پر مشتمل سمری وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہے جس میں اے جی ایم ٹریفک جاوید انور بوبک، اے جی ایم مکینیکل اسد احسان، اے جی ایم انفرسٹرکچر جی ایم قریشی اور ڈی والٹن انجم پرویز شامل ہیں ان افسران میں غیر سیاسی جنرل منیجر کی سلیکشن ریلوے کے مستقبل پر اثر انداز ہو گی۔ برسوں سے محکمہ ریلوے میں موجود مختلف بااثر ٹھیکداروں نے ریلوے افسران کی ملی بھگت سے سونے کی چڑیا کہلانے والے محکمہ ریلوے کو بھکاری بنادیا ہے، ریلوے کے شعبہ مکینیکل، الیکٹرک، پرچیز، سٹور، سگنل اور پرائیوٹ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت ماضی میں ہونیوالے تمام ٹھیکوں میں اعلی سیاسی شخصیات کی سفارشوں پر مخصوص ٹھکیداروںکو اربوں روپے کا فائدہ دے کر ریل کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ہے۔ نئے انجنوں کی خریداری میں اربوں روپے کمیشن کے حصول کےلئے 2ہفتوں میں 100کے قریب انجن ریلوے کو برباد کر دیا گیا۔ ٹھیکداروں کے افسران اور ماتحت عملہ سے قریبی تعلقات ہیں جس سے ریلوے کا سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔