لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو اب مشکلات کا سامنا ہے

10 جون 2013

لاہور (خبرنگار+ نیوز رپورٹر) پیپلز پارٹی، (ق) لیگ اور تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا دعویٰ کرنے والوں کو اب مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ 5برس پنجاب میں حکمران رہے اور انہوں نے ایک میگا واٹ بجلی پیدا نہیں کی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی خوشخبریاں سنا کر ووٹ حاصل کئے اور اقتدار اصل کیا۔ اب حکومت میں آ کر سابق حکمانوں کی روش اختیار کر لی ہے۔ اب لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی کوئی تاریخ نہ دینا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد، (ق) لیگ کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون راجہ بشارت اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماﺅں محمودالرشید اور اعجاز چودھری اور اشتیاق ملک نے وفاقی وزیر پانی و بجلی کے اس بیان کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں مہینے نہیں سال لگیں گے کے ردعمل میں کیا۔ راجہ ریاض نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں جو بلند بانگ دعوے کئے تھے اب ان سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے قوم سے منشور میں جو وعدے کئے وہ اب پورا کرنے مشکل ہو رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیشہ کی طرح راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ 6ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کرا سکا تو نام بدل دیں اب ان کا نام بدل دینا چاہئے۔ راجہ بشارت نے کہا کہ ہمارے دور کے شروع کئے منصوبے جان بوجھ کر مکمل نہیں کئے۔70 فیصد سے زائد تعمیری کام 2007ءمیں ہو چکا تھا۔ یہ 30فیصد 5برس میں نہیں کرا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے پہلے جو تنقید کی اب بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اب موقع سے جن معاملات میں دوسروں پر تنقید کی ان کو درست کریں۔ محمود الرشید، اعجاز چودھری اشتیاق ملک نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ عوام کو سابق حکمرانوں کی غلطیوں سے نجات دلائیں مگر حکومت نے اپنے اقتدار میں آتے ہی روش بدل لی ہے۔ ملک میں بجلی کے نظام کے اندر اتنی بجلی موجود ہے کہ لوڈ شیڈنگ ختم ہو سکتی ہے مگر اس وزارت کو کرپشن اور بے ضابطگیوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو واضح پالیسی اختیار کرنا ہو گی ورنہ ان کا حشر بھی سابق حکمرانوں اور پیپلز پارٹی کی حکومت جیسا ہو گا۔