وفاقی حکومت طالبان سے مذاکرات کیلئے عملی اقدامات کرے: لیاقت بلوچ

10 جون 2013

کوئٹہ (بیورو رپورٹ)جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت طالبان سے مذاکرات کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرنے والے بگٹی مہاجرین کی آباد کاری کیلئے ہرممکن وسائل استعمال کرے تاکہ بلوچستان کے مسئلے کے حل میں مدد مل سکے۔ بگٹی ہاﺅس میں جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی صدر نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں کیونکہ آئے روز ہونے والے ڈرون حملو ں کی وجہ سے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل بری طرح متاثرہورہا ہے۔ ڈرون حملے ملکی خود مختاری کے خلاف ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد جس طرح دفتر خارجہ نے امریکی حکام کو طلب کرکے ان کی جواب طلبی کی یہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ امریکہ کو اب اپنی روش تبدیل کرنا ہوگی، ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں اور عوا م کی مشکلات کم ہوں امید ہے حکومت ان مسائل کو کم کرتے ہوئے صوبے میں قیام امن کویقینی بناتے ہوئے مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی کوختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریگی۔ اگر حکومت نے ایسا نہ کیا تو پھر ان کا حشر بھی ماضی کے حکمرانوں سے اچھا نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت منتخب ہونے والی حکومت کیلئے بہت چیلنجز ہیں، انہیں ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرنے والے بگٹی مہاجرین کی دوبارہ اپنے علاقوں میں آباد کاری اور بحالی کیلئے حکومت کو تمام وسائل بروئے کار لانے چاہئیں ہم سب کو مل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، نوابزادہ طلال اکبر بگٹی نے کہا کہ حکومت بگٹی مہاجرین کی اپنے علاقوں میں بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ انہیں اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کیا جاسکے کیونکہ ہم نے ہر پلیٹ فارم پر بگٹی مہاجرین کی بحالی کیلئے آواز بلند کی ہے لیکن حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ این این آئی کے مطابق نوابزادہ طلال بگٹی نے کہا کہ بلو چستان مےں منصوعی قےادت کو کامےاب بنانے کےلئے سازشےں کی گئیں۔ بی اےن پی (مےنگل) کو سازش کے تحت اےوان سے باہر کر دےا، جن لوگوں کو کامےاب کےا گیا ان سے ادارے پالےسی کے مطابق کام لےنگے، نوازشرےف سے گزشتہ کئی روز سے رابطے کی کوشش کررہا ہوں لےکن رابطہ نہےں ہوا جلد اسلام آباد کا دورہ کر کے ان سے ملاقات کرونگا، ملک بچاناہے تو جمہوری انداز مےں ملک کو چلانا ہو گا۔ جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ بلوچستا ن کی سیاسی قوتوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے مسائل کا حل بندوق سے ممکن نہیں ۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے جماعت اسلامی مینار پاکستان پر جلسہ کرانے کیلئے تیار ہے قومی سطح پر مسائل کے حقیقی مخلصانہ دیرپا حل کیلئے ہم آواز بلند کرتے رہیں گے ۔برماکے مسلمانوں کیساتھ فوجی آمرانہ حکومت کی زیادتی وظلم اور بنگلہ دیش حکومت کا برمی مسلمانوں کیلئے اپنی سرحدوں کو بند کرنا قابل مذمت ہے عالم اسلام اوآئی سی آواز بلند کریں جماعت اسلامی 14جون کو قومی سطح پر برمی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ”یوم یکجہتی برما“ منائیگی۔ میرٹ کی پامالی ، نواب بگٹی کے قاتل قومی مجرم مشرف کو سزانہ دینے کی وجہ سے بھی بلوچستان کے حالات خراب ہورہے ہیں ۔ حکمرانوں کی پے درپے غلطیوں ،ریاستی اداروں کے رویوں نے بلوچستان خصوصاً بلوچ آبادیوں کے اندر بغاوت پیدا کردی ہے ۔ انسانوں کو انسان سمجھ کر مسائل کے حل پر فوری توجہ دی جائیں نفرت شدت زیادتی ظلم کی وجہ سے ناامیدی پید اہوگئی ہے ۔ڈرون حملے، لاپتہ افرادکی عدم بازیابی، مسخ شدہ لاشیں، مشرف کو سزانہ دینا ملک کی سلامتی کے خلاف امریکی مداخلت و حالات کو سدھارنے کے بجائے بگاڑنے کی سازشیں ہیں۔لیاقت بلوچ نے لشکری رئیسانی سے بھی ملاقات کی انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام سے کیے گیے وعدوں اور اعلانات پر عمل کرکے صوبے کے امن پسند ،جفاکش ،بہادرعوام کو ظلم ،نفرت ،تعصب ،دہشت اور خوف سے نجات دلائی جاسکتی ہے نئی حکومت عوامی امیدوں خواہشات کے مطابق لاپتہ افراد بازیاب ،مسخ شدہ لاشوں کے مظالم بند اور صوبے کو بری نظروں سے بچانے کی دیانت دارانہ کوشش کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کہی۔