ڈرون حملوں کیخلاف سفارتی سطح پر بھی احتجاج ہونا چاہئے: معین الدین حیدر

10 جون 2013

لاہور (خبرنگار) معروف دفاعی تجزیہ نگار سابق وزیر داخلہ و سابق گورنر سندھ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان کو ڈرون حملوں کیخلاف آواز بلند کرتے رہنا چاہئے۔میاں نوازشریف نے جس طرح ڈرون حملے پر احتجاج کیا ہے اور جس طرح محکمہ خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج کیا ہے اسی طرح سفارتی سطح پر بھی احتجاج ہونا چاہئے۔ اقوام متحدہ میں آواز بلند کرنی چاہئے، امریکہ میں مختلف تنظیمیں ڈرون حملوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ملکر احتجاج کرنا چاہئے اور دنیا کو بتانا چاہئے کہ ڈرون حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کو بتا دینا چاہئے کہ اگر ہم سے تعلقات ٹھیک رکھنا چاہتے ہو اور افغانستان سے سامان نکالنا چاہتے ہو تو ڈرون حملے بند کر دو، ڈرون حملوں سے ہمارے بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور قوم مشتعل اور ناراض ہو رہی ہے جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ان میں امریکہ کیلئے افغانستان سے پاکستان کے راستے سامان نکالنا مشکل ہو گا۔ پاکستانی قوم مشتعل ہے وہ جگہ جگہ آگ لگا دیگی اور امریکی گاڑیوں کو گزرنے نہیں دیگی۔ طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کے معاملے پرپیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ طالبان سے مذاکرات ہمارا آپس کا معاملہ ہے، ہم آپس میں طے کر لیں گے۔ ڈائیلاگ بیحد ضروری ہےں، امریکہ جتنی مرضی رکاوٹیں ڈالے ہمیں مذاکرات کرنا ہوں گے۔