تمام سی این جی مالکان کو چور کہنا غیرجمہوری رویہ ہے : غیاث پراچہ

10 جون 2013

لاہور+ اسلام آباد (نیوز رپورٹر+ ایجنسیاں) آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی سپریم کونسل کے چیئرمین غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے تمام سی این جی مالکان کو چور کہہ کرسیاسی وپیشہ وارانہ سنجیدگی کا ثبوت نہیں دیا۔ انکا بیان غیر پارلیمانی و غیر جمہوری ہے جسکی کسی کو توقع نہیں تھی۔ سی این جی شعبہ میں برائے نام چوری ہے جس میں بااثر سیاستدان ملوث ہیں جنکے خلاف کبھی کارروائی نہیں ہوتی۔ عوام اور سی این جی مالکان نے مسلم لیگ (ن) کو مسائل کے حل کے لئے ووٹ دئیے ہیں نہ کہ بے بنیاد الزامات سننے کے لئے۔سی این جی شعبہ صرف 256ا یم ایم سی سی ایف گیس استعمال کرتا ہے جو کل پیداوار کا صرف 6.1فیصد ہے مگر نزلہ ہم پر ہی گرتا ہے۔گیس چوری میں ملوث بااثر سی این جی مالکان تین سے چار ایم ایم سی ایف چوری کرتے ہوں گے جن کے خلاف بیانات جاری کئے جاتے ہیں مگر کارروائی نہیں ہوتی۔ بڑے پیمانے پر گیس یا بجلی چوری کرنا عام آدمی یا مڈل کلاس لوگوں کے بس کا روگ نہیںاسکے لئے اوپر تک رابطے لازمی ہوتے ہیں۔ غیاث پراچہ نے کہا بعض لابیاں سی این جی شعبہ کے خلاف مسلسل غلط بیانی اور غلط اعداد و شمار پیش کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہیں جبکہ سیاستدان سوچے سمجھے بغیر بیانات داغ رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سی این جی ایسوسی ایشن حکومت سے مل کر مسائل کا حل جلد ڈھونڈ نکالے گی۔ دوسری طرف آن لائن اور اے پی اے کے مطابق پنجاب بھر کے ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی طرف سے بلاجواز پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانے سی این جی گیس سلنڈر کے حوالے سے دن میں دو دو بار پالیسی تبدیل کرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کےلئے سی این جی بند کرنے کے خلاف ممکنہ پہیہ جام ہرتال کے لیے اجلاس طلب کر لئے ہیں آئندہ دو روز میں پنجاب پہلے پنجاب اور پھر پاکستان بھر میں مکمل اور غیر معینہ مدت کےلئے پہیہ جام کرنے کےلئے مشاروت اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹروں میں سی این جی سلنڈرز کے خلاف جاری مہم کے حوالے سے ٹرانسپورٹروں میں سخت تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے متحدہ ٹرانسپورٹ فیڈریشن پاکستان کے سربراہ سلطان اعوان نے رابط کرنے پر بتایا کہ اوگرا کا تو قبلہ ہی نہیں ہے۔ اجلاس طلب کیا گیا ہے تاہم فیصلے مشاورت کے بعد کئے جائیں گے۔