بکرمنڈی میں فیس کے نام بیوپاریوں کو لوٹنا جاری، احتجاج پر تشدد کیا جانے لگا

10 جون 2013

لاہور (شعیب الدین سے) بکرمنڈی لاہور میں بیوپاریوں سے زائد وصولی کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے۔ بیوپاریوں کے احتجاج پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ بکرمنڈی پر زائد وصولی روکنے کیلئے تعینات پولیس بیوپاریوں کی بجائے ٹھیکیداروں کی حمایتی بن گئی۔ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹھیکیداروں کے کارندے اپنی مرضی کی فیس وصول کرتے ہیں اور سرکاری فیس صرف بورڈ پر آویزاں کرنے کیلئے ہے۔ بکرمنڈی لاہور واحد بکرمنڈی ہے جہاں گائے بھینس کی فیس 135 روپے مقرر ہے جبکہ پنجاب کی باقی تمام بکر منڈیوں میں جانور کی قیمت کا 5 فیصد فیس وصول کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان بھر سے بیوپاری جانور بیچنے کیلئے لاہور پہنچتے ہیں۔ فور ویل مزدا ٹرک سے 300 روپے‘ مزدا ٹرک 6 ویلر سے 500 روپے اور پک اپ سے 100 روپے وصول کئے جاتے ہیں مگر جانور داخلہ فیس 135 کی بجائے 200 سے 300 روپے اور واپسی پر فی ٹرک کی بجائے فی جانور 100 روپے وصول کی جاتی ہے بکرمنڈی میں ٹرکوں پر جانور کو چڑھاتے وقت گرنے اور زخمی ہونے سے بچانے کیلئے پرالی قیمت بھی 300 روپے فی من کے بجائے 2000 سے 3000 روپے فی ٹرک وصول کی جاتی ہے۔ بکرمنڈی میں زائد وصولیوں کو روکنے کیلئے سابق سی سی پی او لاہور اسلم ترین نے انسپکٹر جاوید صدیق کو متعلقہ تھانے میں ایس ایچ او تعینات کیا مگر اسلم ترین کے ماتحت سینئر افسر نے جاوید صدیق کو تبدیل کرا دیا جس کے بعد سے پولیس کی سرپرستی میں دھڑلے سے زائد وصولی جاری ہے۔ بکرمنڈی کی نیلامی کیلئے اب تک 3 دفعہ کوششیں ہو چکی ہیں مگر برسہا برس سے بکرمنڈی پر مسلط مافیا کسی بھی شخص کو بولی دینے سے روک دیتا ہے۔ اس بارے میں رابطہ کرنے پر ٹی ایم او علامہ اقبال ٹاﺅن لیاقت علی کا کہنا تھا کہ بکر منڈی میں زائد وصولی کی شکایات ملتی ہیں جس پر کارروائی بھی کرتے ہیں مگر جب تک پولیس تعاون نہیں کرے گی زائد وصولی کو نہیں روکا جا سکتا۔