غداروں کو پھانسی کا وقت آ گیا، ملک کی خارجہ پالیسی نہیں بدلے گی: شیخ رشید

10 جون 2013

اسلام آباد (آئی اےن پی + آن لائن + ثناءنیوز) عوامی مسلم لیگ کے سر براہ شیخ رشید نے کہا ہے وقت آگیا ہے ملک کے غداروں کو پھانسی پر لٹکایا جائے‘نوازشریف کو کمزور نہیں ہونا چاہیے میں ان کے لیے دعاگو ہوں‘ طالبان اور ایم کیو ایم کی آخری لڑائی کراچی میں ہوگی‘ دوتہائی اکثریت کا مینڈیٹ نوازشریف کو مشکل حالات کی طر ف لے جا رہا ہے‘ پہلی مرتبہ فوج نے الیکشن سے دور رہ کر سیاستدانوں کو موقع دیا ہے اس نے سارے الزامات اپنے اوپر لے لیے ہیں اب ان کو ڈلیور کرنا چاہیے۔ اےک انٹروےو مےں انہوں نے کہا کون سا سیاستدان ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کے گھونسلے میں وقت نہیں گزارا، میں توکہتا ہوں بڑے گھر میں رہو سکیورٹی بھی لو لیکن اچھی پالیسی دو اور عوام کو بھی تحفظ دو۔ پاکستان میں جو بھی پالیسی بنتی ہے غریب آدمی کے لیے نہیں بنتی سب گاڑیوں والوں کے لیے بنتی ہے‘ مےں نے ایوان میں نوازشریف سے منافقت والا ہاتھ نہیں ملایا۔ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں خزانہ خالی ہے بجٹ سرپر ہے۔ میں تو بجٹ کے موقع پر بہت شور مچاﺅں گا ان کے منشور کی کاپیاں ساتھ لے کر جا ﺅں گا اور بتاﺅں گا عوام نے ان باتوں پر مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا تھا اپنے منشور کو پورا کریں اسحاق ڈار غلط دستاویزات بنانے میں ماہر ہے مجھے بجٹ کے موقع پر اس سے کوئی اچھی امید نہیں۔ پاکستان کی دولت گینگ آف فائیو کے پاس ہے دو سیاست سے آﺅٹ ہوچکے ہیں۔ اب لیپ ٹاپ یا سوزوکیوں سے کام نہیں چلے گا اب ڈلیور کرنا ہوگا، ثناءنیوز کے مطابق وائس آف امریکہ کو انٹرویو میں شیخ رشید احمد نے کہا نئی کابینہ میں پرانے آزمائے چہرے شامل ہیں اور ان کے ساتھ زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا وزیراعظم نواز شریف بھلے وزارت خارجہ اپنے پاس رکھیں، ملک کی خارجہ پالیسی وہی رہے گی جو مشرف اور زرداری دور میں تھی۔ آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا وزیراعظم کا دفاع اور خارجہ کے محکمے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ درست ہے وہ خود ان چیزوں کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، تحریک انصاف نے ڈیلیور نہ کیا تو حشر پی پی جیسا ہو گا، حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کروں گا اور ثابت کروں گا اٹھارہ کروڑ عوام کا حقیقی نمائندہ میں ہی ہوں۔ انہوں نے کہا میرے ساتھ قومی اسمبلی میں کوئی دو نمبری نہیں کر سکتا۔ جب میں نے ”وٹہ بال“ کرائی تو پھر کیا ہوگا اور مجھے ایوان میں بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میری بات پارلیمنٹ میں نہ سنی گئی تو میں سپریم کورٹ کے سامنے اسمبلی لگاﺅں گا۔