لاہور میں موبائل پر دوستی کرکے لوٹنے اور قتل کرنیوالی حسینائیں سرگرم

10 جون 2013

لاہور (رپورٹ: احسان شوکت سے) لاہور مےں جواں سالہ لڑکےوں کی جانب سے شہرےوں کو اپنے جال مےں پھنسا کر لوٹنے اور قتل کرنے کی وارداتےں تشوےشناک حد تک بڑھ گئیں۔ نوائے وقت تحقےقات کے مطابق شہر مےں اےک درجن سے زائد اےسے گےنگز متحرک ہےں جن مےں خواتےن ہیں۔ خواتےن کے لئے لوگوں کو اپنے جال مےں پھنسانے کے لئے موبائل فون اور انٹرنےٹ سب سے موثر ہتھےار ہے۔ گزشتہ چند ماہ مےں لڑکےوں کی جانب سے لوگوں کو لوٹنے اور قتل کرنے کے دل دہلا دےنے والے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہےں۔ سول لائن کے او جی ڈی سی ایل کے انجینئر فیصل مختار کو شمیم نامی لڑکی نے موبائل فون کے ذرےعے دوستی کر کے بیدیاں روڈ بلایا اور نشہ آور شے کھلا کر لوٹنے کے بعد اپنے خاوند اور ساتھی کے ساتھ مل کر قتل کرکے لاش گندے نالے میں پھینک دی۔ اسی طرح کا اےک دلخراش واقعہ مسلم ٹاﺅن کے علاقہ مےں پےش آےا۔ عالےہ نے عرفان اکبر سے موبائل پر دوستی کر کے بلاےا اور اپنے ساتھی وسےم اور اس کی منگےتر فائزہ کے ساتھ مل کر کالج فےس کے35ہزار روپے چھےن کر سر پر ہتھوڑے کے وار کرکے موت کے گھاٹ اُتار دےا اور پھر مقتول کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف جگہوں پر پھےنک دئےے۔ ملزم وسےم مقتول عرفان اکبر کے گھر والوں سے 30 لاکھ روپے تاوان کی رقم کا بھی مطالبہ کرتا رہا۔ جوہر ٹاﺅن کا رانا شاہد زمان علی کو سمیرا جاوید نے اپنے پاس بلاکر ساتھیوں سے مل کر اغواءکیا اور اس کے اہل خانہ سے20لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کےا۔ مزنگ کے اصغر بٹ کو بھی آمنہ نامی خاتون نے موبائل ذرےعے دوستی کرنے کے بعد بلا کر قتل کردےا۔ پولیس نے گھروں میںملازمہ کے بھےس مےں نوکری حاصل کرکے وارداتیں کرنے والی13 خواتین سعدیہ اور شازیہ وغےرہ کو گرفتار کیا ہے جبکہ لاہور مےںاےم بی اے کی طالبہ نے لالہ موسیٰ سے جرمنی کے نےشنےلٹی ہولڈر فےملی کے چھ سالہ بچے کو تاوان کے لئے اس کے ٹےوشن سنٹر کے باہر اغوا کر کے ورثا سے 30 لاکھ روپے کا مطالبہ کےا۔