ڈرون حملے عالمی ضابطوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں: فضل الرحمن

10 جون 2013

اسلام آباد(خصوصی نامہ نگار)جمعیت علماءاسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے بین الاقوامی اصولوں اور ظابطو ںکی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، بین الاقوامی اصولوں کو روندا جارہا اور پہلے سے زخمی ملک شدید زخمی کیا جا رہا ہے ملک کی سلامتی پر ہو نے والے حملوں پر عالمی ضابطے بنانے والے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، انھیں اپنا حق ادا کر نا چاہیے وہ یہاں پارٹی رہنماﺅں اور مختلف وفود سے گفتگو کر رہے تھے اس موقع پر مو لا نا قمرالدین ،مو لا نا امیر زمان ،مو لا نا محمد امجد خان ،مفتی ابرار احمد اور دیگر مو جو د تھے مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ مشکلات میں گھرے پا کستا ن کو مزید مشکلا ت کا شکار کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے انے والی حکومت کےلئے چیلنج ہےںان حا لا ت کا مقابلہ باہمی اتحاد سے ممکن ہے ان واقعات پر عالمی اداروں سے بات کر نے کی ضرورت ہے مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک طرف کراچی اور کوئٹہ اور قلات ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور دوسری طرف ڈرون حملے جاری ہے ملک نازک موڑ پر کھڑا ہے وطن عزیز کےخلاف سازشیں عروج پر ہے ان حالات میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کیلئے میدان میں آنا ہوگامولانا فضل الرحمن نے کوئٹہ اور کراچی ،قلات میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں قیام امن کیلئے فوری اقدامات کرےں انہوں نے کہا کہ پاکستان کےخلاف عالمی سازشیں عروج پر پہنچ چکی ہےں پاکستان اس وقت بیرونی اور داخلی خطرات میں گھر گیا ہے دشمن ان نازک حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ آنکھیں بند کر کے غیروں کی جنگ میں شریک ہونے کی وجہ سے پورا ملک زخمی ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ سابقہ پارلیمنٹ نے ملک کو اس خطرناک صورتحال سے نکالنے کیلئے سیف راستہ دیا تھا لیکن بد قسمتی سے سابقہ حکمرانوں نے کوئی عملی اقدامات نہیں کیئے۔ انہوں نے کہاکہ بد ترین لوڈ شیڈنگ نے لو گو ں کا سکون چھین لیا ہے کار خانے فیکٹریاں تو بند ہورہی ہیں اب دکانیں بھی بند ہونے لگی ہیں، حکومت کو اس سنگین بحران کے حل کے لیئے سب سے پہلے بجلی کے بحران کا حل قوم کے سامنے رکھنا ہو گا۔