طالبان سے مذاکرات: خیبرپی کے کے حکمران اتحاد کا دینی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

10 جون 2013

اسلام آباد (ثناءنیوز) صوبہ خیبر پی کے میں تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی پر مشتمل حکمران اتحاد نے طالبان سے بات چیت کی حکمت عملی پر پہلے مرحلے میں صوبے کی دینی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے صوبے کی سطح پر حکمت عملی طے کرنے کے بعد وفاقی حکومت اور فوج کو اس سے آگاہ کرنے کا اصولی طور پر فیصلہ بھی کیا گیا ہے خیبر پی کے کے حکمران اتحاد کی جانب سے سوات مالاکنڈ سے فوجیں واپس بلانے کا باضابطہ طور پر مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے ٹائم فریم اور بلدیاتی اداروں کے ممکنہ ڈھانچے پر بھی باقاعدہ مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے۔ خیبر پی کے میں اب سے چھ سے آٹھ ماہ کی مدت میں بلدیاتی انتخابات کا قوی امکان ہے گزشتہ روز اسلام آباد میں جماعت اسلامی خیبر پی کے کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں قیام امن کے لئے ہم بھی چاہتے ہیں کہ متفقہ قومی پالیسی بنے، ڈرون حملوں کا معاملہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے اس سنگین مسئلے سے آبرومندانہ طریقے سے نمٹنے کے لئے حکومت جو بھی پالیسی بنائے گی پوری قوم اس کی پشت پر ہو گی۔ انھوں نے بتایا کہ خیبر پی کے کی موجودہ حکومتی جماعتوں میں فاٹا میں مذاکراتی عمل کے بارے میں مشاورت ہوئی ہے ، یہی فیصلہ ہوا ہے کہ اس بارے میں صوبے کی تمام جماعتوں اور قبائلی عمائدین کی مشاورت سے لائحہ عمل طے کرکے مرکز کو آگاہ کیا جائے گا مرکز کے اتفاق رائے پر اگلے مرحلے میں اس بارے مےں فوج کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سوات مالاکنڈ سے فوج کو واپس بلایا جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے کی حکومت ایف سی اور پولیس کے ذریعے تو نیٹو کے سامان کو نہیں روک سکتی ظاہر ہے کہ اس حوالے سے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مرکزی ادارے اور وفاقی حکومت سے مقابلہ ہو گا۔ تصادم کی ایسی صورت حال پیدا نہیں کرنا چاہتے تاہم صوبائی حکمران اتحاد اپنا دباﺅ برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں وزارتوں کے معاملے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ وزارتوں سے زیادہ اہم انتخابی منشور اور پروگرام پر عملدرآمد ہے۔