خشت بھٹوں سے آم کے باغات پر منفی اثرات

10 جون 2013

سرگودھا (اے پی پی) زرعی سائنسدانوں نے کہاہے کہ اینٹوں کے بھٹوں کے باعث آم کے باغات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق بھٹوںسے نکلنے والا سیاہ دھواں سلفر ڈائی آکسائیڈ ہائیڈروجن فلورائیڈ اور کاربن مانو آکسائیڈ وغیرہ جیسی زہریلی گیسوں کا آمیزہ ہوتا ہے یہ گیسیں جہاں دیگر فصلات پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے وہاں آم کے باغات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا موجب بنتی ہے آم کا پھل جب ا پنی بڑھوتری کے دوران مٹر کے دانے کے برابر ہو تو اس مرحلہ پر اینٹوں کے بھٹوںمیں ایندھن کے نامکمل جلاﺅ کی وجہ سے پیدا ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس پتوں اور پھل میں تیزی سے نفوذ ہو کر پھل کی نوزائیدہ بافتوں کے گلنے کے سبب بنتی ہے۔ پھل کے سرے پر ایک کالے دھبے کی صورت میں ظاہر ہو کر آہستہ آہستہ پورے پھل پر حاوی ہو کر اس کی کوالٹی اور معیار کو مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہے نتیجہ میں پھل ڈنڈی سے کمزور ہو کر ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ لیکن کورا پڑنے کی صورت میں ان بھٹوں سے نکلنے والا دھواں آم کے باغات کو شدید سردی اور کورے سے بچانے میں موثر کردار بھی ادا کرتا ہے۔