ملوں، فیکٹریوں کی درست پیداوار کا پتہ چلانے کے لیے کریسٹ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

10 جون 2013

اسلام آباد(اے پی اے) ایف بی آر نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ملوں، فیکٹریوں و مینوفیکچرنگ یونٹس کی درست پیداوار کا پتا چلانے کے لیے سیلز ٹیکس اینڈ فیڈرل ایکسائز الیکٹرانیکل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے اور جعلی ریفنڈز کی روک تھام کے لیے کمپیوٹرائزڈ رسک بیسڈ ایویلیوایشن آف سیلز ٹیکس(کریسٹ) سسٹم پورے ملک میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق مینوفیکچررز کی طرف سے انڈر پراڈکشن و انڈر رپورٹنگ کے تحت سیلزٹیکس چوری کے لیے اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس کی پیداوار چھپائی جاتی ہے اور بہت کم پیداوار ظاہر کر کے اس پر سیلز ٹیکس ادا کیا جاتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ مقدار میں پیداوار کو سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر فروخت کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے فیصلہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں مینوفیکچررز کی درست پیداوار کا پتہ چلانے کے مقصد سے انڈر رپورٹنگ روکنے کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ اس نظام کے تحت یا تو مینوفیکچرنگ یونٹس کے داخلی و خارجی راستوں پر کیمرے نصب کیے جائیں گے اور انہیں الیکٹرانیکلی ایف بی آر کے سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا یا پھر مینوفیکچرنگ یونٹس میں ٹیکس حکام کو بٹھایا جائے گا جو مینوفیکچرنگ یونٹس پیدا ہونے والی اشیا کا الیکٹرانیکلی ریکارڈ اکٹھا کریں گے اور کمپیوٹرائزڈ طریقے سے اس ریکارڈ کو ایف بی آر کو منتقل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس سے ایف بی آر کو 12ارب روپے سے زائد کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...