نوازشرےف کی کابےنہ اور عوام کی توقعات

10 جون 2013

11مئی 2013ءکے عام انتخابات کے نتائج نے پاکستان مسلم لےگ (ن) کی اعلیٰ قےادت کو جہاں ”بےساکھےوں“ کے بغےر حکومت بنانے کا موقع فراہم کر دےا ہے وہاں اتحادی جماعتوں کی” بلےک مےلنگ “ سے نجات دلا دی ہے اسی طرح مےاں نوازشرےف کو اپنے ارکان” ناز نخرے “اٹھانے کی ضرورت نہ پڑی اگرچہ مےاں نواز شرےف کی کابےنہ کے ناموں کے بارے مےںشروع دن سے ہی قےاس آرائےاں شروع ہو گئی تھےں لےکن وفاقی کابےنہ کی تقرےب حلف برداری تک بےشتر وزراءکو ےہ تک معلوم نہےں تھا کہ ان کو وزارت شامل کےا جا رہا ہے کہ نہےں وفاقی کابےنہ کی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل حلف اٹھانے کے لئے اےوان صدر جانے والے اےک مسلم لےگی رکن پارلےمنٹ نے پارلےمنٹ ہاﺅس مےں نوائے وقت سے بات چےت کرتے ہوئے کہا کہ مےاں نوازشرےف نے اپنی مٹھی بند کر رکھی ہے ”کچن کےبنٹ“ کے تےن ارکان مےاں شہباز شرےف ،چوہدری نثار علی خان اور محمد اسحقٰ ڈار کے سوا کسی کو کابےنہ کے ارکان کے بارے مےں کچھ علم نہےں ان کی بات بڑی حد تک درست تھی کےونکہ انہےں خود معلوم نہےں تھا کہ ان کو کون سی وزارت کا قلمدان سونپا جا رہا ہے حلف بردای کے بارے مےں شےخ آفتاب کو بھی خاصی تاخےر سے اطلاع ملی وہ بھی نماز جمعہ کے بعد ہانپتے کانپتے پارلےمنٹ ہاﺅس پہنچے اسی طرح چوہدری برجےس طاہر جنہیں 12 بجے دن کابینہ میں شمولیت کی اطلاع دی گئی تو وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سہ پہر4بجے پارلیمنٹ لاجز پہنچے اور وہاں لوڈ شیڈنگ کے باعث ان کے پاس اتنا وقت نہےں تھا کہ وہ اپنے کپڑ ے تبدےل کرتے لہذاانہی کپڑوں مےں اےوان صدر چلے گئے جو سانگلہ ہل سے پہن کر آئے تھے لاہور سے مسلم لےگ(ن) کی خاتون رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان سب سے آخرمیں اےوان صدر کے دربار ہال مےں پہنچےں تو پروٹوکول سٹاف نے انہیں وزراء کی نشستوں پر بیٹھنے سے روک دیا جس پر وزےر اعظم کے سےکرےٹری ناصر کھوسہ کی مداخلت پر انہیں وزراءکی نشستوں پر بٹھایا گیا دربار ہال مےں وزراءاور وزرائے مملکت کے لیے 26 کرسیاں لگائی گئی تھیں لےکن آخری لمحات میں بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی ریاض پیرزادہ کے نہ پہنچنے کی اطلاع پر پر ایک کرسی اٹھوا دی گئی اس سے اندازہ لگاےا جاسکتا ہے کہ نواز شرےف کی کچن کےبنٹ کوکابےنہ کے ارکان کے بارے مےں کس قدر جلدی مےں فےصلے کرنا پڑے۔                                                               وزےر اعظم مےاں نواز شرےف کی 25رکنی کابےنہ مےں جن ارکان نے حلف اٹھاےا ہے ان مےں چوہدری نثار علی خان ،محمد اسحق ٰ ڈار ،خواجہ آصف ، ،احسن اقبال اور سرتاج عزےز جےسے5 سےنئرپارلےمنٹےرےنز ہی شامل ہےں جو مےاں نواز شرےف کی 1997ءکی کابےنہ کے رکن بھی تھے اس کابےنہ مےں راجہ محمد ظفر الحق،گوہر اےوب ،عبدالستار لالےکا،جاوےد ہاشمی ،چوہدری شجاعت حسےن،مےاں ےاسےن وٹو ،غوث علی شاہ، جنرل (ر) مجےد ملک محمد اعجاز الحق اور شےخ رشےداحمدجےسی قد آور شخصےات شامل تھےں 1997ء کی کابےنہ کے بےشتر ارکان مسلم لےگ(ن) چھوڑ کر دوسری جماعتوں مےں شامل ہو چکے ہےں کچھ تو اللہ کو پےارے ہو گئے اور کچھ انتخاب ہارگئے راجہ محمد ظفر الحق اس وقت کابےنہ کے رکن رہے تھے شاےد اس وقت ان مےں سے کوئی بھی وزےر نہ رہا ان کو سےنےٹ مےں قائد اےوان بناےا جا رہا ہے مےاں نواز شرےف کو مجبوراًً ان لوگوں کو بھی کابےنہ مےں شامل کرنا پڑا جو کبھی جنرل پروےز مشرف کی” سےاسی فوج “ کا حصہ تھے ، کچھ وہ لوگ بھی کابےنہ مےں شامل ہےں جو کل تک پےپلز پارٹی کی قوت تھے مےاں نواز شرےف نے اپنی کابےنہ مےں اےک اےسی شخصےت کو بھی شامل کر لےا ہے جو جنرل (ر) پروےز نشرف کے قرےبی دوستوں مےں شمار ہوتے ہے جنرل مشرف کی شامےں ان ہی کے فارم ہا ﺅس مےں گذرتی تھےں چونکہ پاکستان مسلم لےگ (ن) کو پنجاب سے بھرپور مےنڈےٹ ملا ہے لہذا وفاقی کابےنہ مےں پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزرا ءکی تعداد19ہو گئی ہے بہر حال مےاں نواز شرےف نے کابےنہ مےں دےگر صوبوں کو بھی مناسب نمائندگی دے کر توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے مےاں نواز شرےف پہلے مرحلہ مےں12رکنی کابےنہ قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ”کچن کےبنٹ “ نے حلف برداری کے لئے بار بار اےوان صدر جانے کی بجائے اےک ہی بار حلف برداری کو ترجےح دی 18وےں آئےنی ترمےم کے تحت ارکان پارلےمنٹ کے 11فےصد سے زائد وزراءنہےں بنائے جا سکتے ممکن ہے آئندہ چند دنوں مےں کابےنہ مےں اتحادی جماعتوں کی شمولےت کے لئے اےک بارپھر تقرےب حلف برداری کا اہتمام کرنا پڑے چوہدری نثار علی خان جن کی پچھلے پانچ سال سے اےوان صدر کے” مکےن“ سے بول چال اور علےک سلےک نہےں وہ بوجھل قدموں سے اےوان صدر تو چلے گئے لےکن انہوں نے صدر آصف علی زرداری سے پرجوش مصافحہ کےا اور نہ ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے بلکہ حلف لےنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہوا اےوان صدر سے باہرنکل آئے صدر مملکت سے حلف برداری آئےنی تقاضہ نہ ہوتا تو وہ اےوان صدر ہی نہ جاتے وہ پچھلے پانچ سال سے صدر آصف علی زرداری کی بجائے صرف آصف علی زرداری ہی کہتے رہے ہےں اپوزےشن لےڈر کی حےثےت سے اےوان صدر سے ملنے والی ہر دعوت کو قبول نہےں کرتے تھے مےاں نواز شرےف کی ٹےم تجربہ کار پارلمنٹےےرےنز اور نئے چہروں پر مشتمل ہے وہ اس ٹےم کی مدد سے ملک کو درپےش مسائل حل کرنے کی کوشش کرےں گے و فاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مسلسل آٹھویں مرتبہ رکن اسمبلی بنے ہےں وہ تےن عشروں مےں بار ہا وفاقی وزےر رہے ہےں انہےں قومی اسمبلی کا سپےکر بنانے کی پےشکش کی گئی لےکن انہوں نے سپےکر بن کر” زبان بندی “ قبول نہ کی انہوں نے وزار ت پٹرولےم لےنے سے بھی انکار کر دےا ہے انہوں نے ملک مےں امن وامان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے وزارت داخلہ کا قلمدان چےلنج کے طور پر قبول کےاہے خواجہ آصف تیسری مرتبہ وفاقی وزیر بنے ہےں وہ1997 میں وزیر نجکاری رہے ہےں جبکہ سابق حکومت کی کابینہ میں کچھ عرصہ وزیر پٹرولیم بھی رہے ہےں انہےں” راجہ رےنٹل“ کا سےا سی تعاقب کرنے کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے12اکتوبر 1999ءکو حکومت کے خاتمے کے بعد مےاں نواز شرےف کے ساتھ قےد وبند کی صعوبتےں برداشت کی ہےں اور جنرل مشرف کا ساتھی بننے سے انکار کر دےا ۔ احسن اقبال کو 1997 میں ڈپٹی چیئر مین پلاننگ کمیشن بناےا گےا تھا اب بھی ان کو اسی وزارت کا قلمدان سونپا گےا ہے ۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار 1997 میں بھی وزیر خزانہ تھے ، گیلانی کابینہ میں بھی ان کے پاس ےہی منصب تھا اب تیسری بار انہےں ہی وزیر خزانہ بناےا گےا ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید پہلی بار 1997 میں سینیٹر بنے چیئرمین پی ٹی وی کی حےثےت سے جنرل مشرف کی برطرفی کا اعلان سرکاری ٹےلی وےژن سے ٹےلی کاسٹ کرنے کے” جرم “ مےںان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے بالٓاخر انہےں برطانےہ مےں جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دےا گےا انہےں برطانےہ مےں سےاسی پناہ لےنا پڑی انہوں نے مسلم لےگ (ن) سے وابستگی کی بھاری قےمت ادا کی زاہد حامد کو مسلم لےگ(ن) کا قانونی دماغ سمجھا جاتا ہے ےہی وجہ ان کو وزارت قانون کا منصب دےا گےا ہے انجینئر خرم دستگیر غلام دستگےر خان کے صاحبزادے ہےں انہوں نے وفاقی کابےنہ مےں اپنی اہلےت کی بنا پر جگہ پائی ہے شیخ آفتاب کئی سالوں سے مسلم لےگ کے چےف وہپ کے فرائض انجام دے رہے ہےں ان کو پارلےمانی امور کا تجربہ ہونے کی وجہ سے ےہ وزارت دی گئی ہے جمعےت علما ءاسلام (ف) کے امےر مولانا فضل الرحمنٰ نے بھی باضابطہ طور حکومت کا حصہ بننے کا اعلان کر دےا ہے آئندہ چند دنوں مےں دےگر اتحادی جماعتوں کو بھی کابےنہ مےں نمائندگی مل جائے گی کچھ وزراءنے ”تنخواہ اور دےگر مراعات “نہ لےنے کا اعلان تو کےا ہے خدا کرے وہ اپنے ان اعلانات پر صدق دل سے عمل بھی کرےں ۔