پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر سمیت اہم معاملات پر سابقہ پارلیمانی قراردادوں و سفارشات کا اعادہ متوقع

10 جون 2013

اسلام آباد(ثناءنیوز)پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر ،قومی سلامتی ،خارجہ پالیسی اور فاٹا میں قیام امن کیلئے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کی شروعات کے بارے میں سابقہ پارلیمانی قراردادوں اور سفارشات کا اعادہ متوقع ہے۔ قومی معاملات پر پارلیمنٹ حکومت کیلئے رہنما اصول متعین کر چکی ہے نئی حکومت آنے پر پارلیمانی سفارشات پر عملدرآمد کی قرارداد آنے کا قوی امکان ہے۔ نو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف بھی پاکستانی سفیروں کے نام خارجہ پالیسی پر اپنے خط میں واضح کرچکے ہیںکہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ میاں نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعدخارجہ پالیسی پر بیان کیا تھا جس میں کہا گیا کہ دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے شدت پسند گروہوں کو بیرونی ممالک سے ملنے والی مالی امداد کو روکا جائیگا۔میاں نواز شریف نے سفارتکاروں کے نام ایک خط میں انھیں نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے خدوخال آگاہ کردیا گیا ہے کہ ان کی حکومت دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور سکیورٹی فورسز سے مشاورت کے بعد ایک جامع پالیسی ترتیب دے گی۔ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی ،دہشتگردی و انتہاپسندی سے نمٹنے عسکریت پسندوں سے بات چیت قیام امن اتحادی افواج سے تعاون کی نئی شرائط کار کے بارے میں پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کی 62نکات پر مشتمل سفارشات پر عملدرآمد کیلئے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کئے جانے کا امکان ہے۔