مسلح تنظیموں کو مذاکرات کی دعوت‘ مسائل کوہ ہمالیہ سے بھی بڑے ہیں‘ نوازشریف‘ عسکری قیادت حل کرائے : وزیراعلی بلوچستان

10 جون 2013

کوئٹہ (بیورو رپورٹ + نوائے وقت رپورٹ) نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو باضابطہ اور متفقہ طور پر بلوچستان کا وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے، ایوان میں موجود تمام 55 ارکان نے کھڑے ہو کر ان کے حق میں ووٹ دیا۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے پر سپیکر جان محمد جمالی کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو متفقہ طور پر قائد ایوان کے طور پر بلا مقابلہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ سپیکر نے اسمبلی میں موجود ارکان سے کہا کہ وہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حق میں ووٹ دینے کے لئے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو جائیں جس پر اسمبلی میں تمام 55 ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے حق میں ووٹ دیا۔ ایوان میں موجود ارکان کی گنتی کے بعد سپیکر جان محمد جمالی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو باقاعدہ طور پر منتخب وزیراعلیٰ قرار دینے کا اعلان کیا۔ میر جان محمد جمالی نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بننے پر مبارک باد بھی دی۔ بعد ازاں ایوان میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بات کریں۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے سب کی رہنمائی لے کر تبدیلی لائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) سمیت حمایت کرنے والی دیگر جماعتوں کا بھی شکر گزار ہوں۔ سیاسی و عسکری قیادت بیٹھ کر بات کرے گی تو کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا۔ بلوچستان کے 29 اضلاع میں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے، بھائی بھائی کو قتل کر رہا ہے نوازشریف اور عسکری قیادت بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ ماضی میں ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد نہیں ہوا، نواز شریف سے کہوں گا اس پر عمل کرایا جائے۔ اس وقت لاپتہ افراد کا معاملہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسلح تنظیمیں ایک میز پر بیٹھ کر ہم سے مذاکرات کریں۔ بلوچستان کے تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے۔ بلوچستان کے مسائل ہمارے لئے کوہ ہمالیہ سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ نعشیں، انتہا پسندی اور اغوا برائے تاوان بڑے مسائل ہیں۔ الیکشن ایک آزمائش تھا اس کے بعد وزیراعلیٰ بننا بھی ایک بڑی آزمائش تھا۔ مجھے سمجھوتے کرنا پڑے تو اس سے بہتر ہو گا کہ گھر چلا جاﺅں۔ ایک دن رہا یا پانچ دن رہا یا پانچ سال جتنے دن بھی رہا، عزت سے رہوں گا، اگر 65 کا ایوان درست ہو گیا تو بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے۔ اب بہت ہو گیا، کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈیفنس، مواصلات، کرنسی سمیت 5 محکمے وفاق کے پاس ہیں۔ وہ کام نہیں کروں گا جس سے اسلام آباد میں بلوچستان کے پارلیمنٹیرین کی بے عزتی ہو۔ بلوچستان کا سیکرٹ فنڈ آج سے بند ہے۔ ہم کب تک صرف خوبصورت باتیں کریں گے عوام کے لئے کچھ کرنا ہو گا۔ ہمیں خوابوں میں نہیں رہنا 21ویں صدی بڑی ظالم صدی ہے۔ کمپرومائز کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ عہد کرتے ہیں کوئی بھی افسر سیاسی اثر و رسوخ سے ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں لے گا۔ اس حکومت کی سب سے بڑی ذمے داری ہے کہ ہم اقلیتوں کو تحفظ دیں۔ دنیا کی کوئی طاقت مادری زبان کو پڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ گوادر میں زمینوں کے بٹوارے اور بندر بانٹ کو سب کے سامنے لائیں گے، جس نے بھی گوادر کی زمین حاصل کی ہے، اس کا نام ظاہر کیا جائے گا۔ کسی دوسری فورس پر انحصار کرنے کے بجائے پولیس اور لیویز کو جدید بنیادوں پر منظم کریں گے۔ مادری زبانوں میں سکولوں و کالجوں میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہو گا۔ اپنے وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم وفاق سے لڑیں گے، ملازمتوں میں اپنے کوٹے کا حصہ لیں گے۔ دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ اتحادیوں کے ساتھ مل کر پالیسیاں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر پالیسیاں مرتب کرینگے، عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کرونگا ناکام ہوئے تو بلوچستان میں خانہ جنگی ہو گی۔ سردار ثناءاللہ زہری نے اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ عبدالمالک بلوچ متفقہ طور پر وزیراعلی منتخب ہوئے۔ امن و امان بحال کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یقین دلاتا ہوں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بھرپور حمایت اور ساتھ دیں گے۔ اپنے قائد کی ہدایت پر ڈاکٹر عبدالمالک کے ہاتھ مضبوط کرینگے۔ جب تک بلوچستان میں امن نہیں آئے گا یہ صوبہ ترقی نہیں کرے گا۔ بلوچستان کے لوگوں کا مطالبہ صرف امن ہے۔ لوگ امن چاہتے ہیں۔ انہیں امن دینا ہوگا۔ لوگوں کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ وہ اپنے گھروں میں محفوظ ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسمبلی میں عوام کے لئے آواز بلند کرنا ہو گی۔ بہت بڑی قربانی دے چکا ہوں وزارت اعلی کوئی چیز نہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ عبدالمالک بلوچ کو وزیراعلی منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وہ بلوچ صوبے کے حالات سے پوری طرح باخبر ہیں۔ صوبے کے حقوق کے حصول کے لئے ان کی حمایت کی۔ بلوچستان میں کوئی بلوچ، پٹھان کا مسئلہ نہیں، ہم صوبے کے حقوق کے لئے مل کر کام کریں گے۔ جب ثناءاللہ زہری کا بیٹا اور دیگر بڑی شخصیات کے بیٹے محفوظ نہ ہوں تو وہاں دیگر لوگوں کا کیا حال ہو گا۔ بلوچستان امن و امان کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اگر ڈاکٹر عبدالمالک نے صوبے کے عوام کے حقوق کے لئے کام نہ کیا تو یہ بدقسمتی ہو گی۔ دریں اثنا نومنتخب وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب میں ارکان بلوچستان اسمبلی نے شرکت کی۔ حکومت بلوچستان نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزیراعلی کے منصب سنبھالنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نگران وزیراعلی بلوچستان اور ان کی کابینہ کی تحلیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ محمد نسیم لہڑی نے وزیراعلی بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری کا چارج سنبھال لیا ہے۔ وزیراعلی کے منتخب ہونے کے بعد ایوان میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے لیڈر عبدالرحیم زیارتوال، ق لیگ کے رہنما جعفر خان مندوخیل، اے این پی کے پارلیمانی لیڈر زمرک خان اچکزئی، مجلس وحدت المسلمین کے سید رضا آغا، ارکان اسمبلی حامد خان اچکزئی، سردار اسلم بزنجو، سید اکبر، سردار عبدالرحمن کھیتران، میر عبدالکریم نوشیروانی، ڈاکٹر شمع اسحقٰ، نصراللہ زیرے، سندوش کمار، منظور کاکڑ، رحمت بلوچ، نواب محمد خان شاہوانی، مسلم لیگ ن کی رہنما راحیلہ حمید درانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ امید ہے وفاق قتل، اغوا کے واقعات کے خاتمے میں مدد دے گا۔
کوئٹہ (ثناءنیوز) سپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان محمد جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے قیام سے ہی صوبہ میں مخلوط نظام چلا آ رہا ہے تمام ارکان کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے پہلے بلوچ روایات آتی ہیں اس کے بعد انگریز کا دیا ہوا پارلیمانی نظام آتا ہے، ڈاکٹر عبد المالک بلوچ اچھے اور سمجھدار انسان ہیں میرا بھر پور تعاون رہے گا کہ حکومت اور اسمبلی اکٹھے کام کریں۔ان خیالات کا اظہار میر جان محمد جمالی نے اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ جان محمد جمالی کا کہنا تھا کہ سینٹ میں عمر کے حساب سے بڑی عمر کے لوگ ہوتے ہیں اور وہ لوگ عوامی کم ہوتے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی میں کم عمر لوگ ہیں اور وہ عوامی لوگ ہیں ان لوگوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پہلی اسمبلی کے قیام سے ہی مخلوط سسٹم ہے سارے بھائیوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا وزیر اعلیٰ مخلوط حکومت کا وزیر اعلیٰ ہوتا ہے یہاں بڑا دل کر کے بڑے بھائی کی طرح ایوان کو چلانا پڑتا ہے میر جان محمد جمالی نے کہا کہ ڈاکٹر عبداالمالک مسکین انسان ضرور ہیں مگر وہ سمجھدار بھی ہیں اور اچھے انسان ہیں میرا پورا تعاون رہے گا کہ اسمبلی اور حکومت اکٹھے کام کریں۔
جان جمالی