مجھے مزاحمت کاروں سے مذاکرات کا اختیار نہ تھا، اب تبدیلی آئے گی: گورنر بلوچستان

10 جون 2013

کوئٹہ(آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے کہا ہے کہ مزاحمت کاروں سے بات چیت کے لئے مجھے اختیار نہیں دیا گیا تھا ، ڈاکٹر عبدالمالک کے وزیراعلیٰ بننے سے حالات میں تبدیلی ضرور ہوگی امید ہے کہ وہ حالات پر قابو پالیں گے ۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بطور وزیراعلیٰ حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے سیاست سے نہیں سیاست میں بدستور ان رہوں گا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ تجربہ کار سیاسی ورکر ہے ماضی میں میری کابینہ میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ امید ہے وہ کابینہ کی تشکیل سمےت دیگر معاملات پر بھی بروقت اور ٹھیک فیصلے کریں گے ۔ اس بار عام انتخابات میں قومیت پرستوں کا حصہ لینا اور جیت کر اسمبلی میں آنا خوش آئند بات ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد ابھی تک مرکز کو مداخلت کی عادت ہے جب ایک عادت پرانی ہوجائے تو آہستہ آہستہ جاتی ہے ایک شخص پچیس تیس سال سے اگر سگریٹ پی رہا ہے تو اچانک وہ سگریٹ پینا چھوڑ نہیں سکتا اس کیلئے بھی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔آن لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ ریاست اگر سخت گیر موقف اختیار کرے تو قیام امن اور حالات کی بہتری ممکن ہے نومنتخب حکومت حاضری بھرتی رہی تو کچھ نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو حکومت چلانے سے متعلق مشورے دے چکا ہوں۔ ریاست سختی کرے تو جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ صوبائی حکومت ترقی اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے اگر کمزیور دکھاتی ہے تو وفاق سے حق حاصل کرنا مشکل ہوگا لہٰذا انہیںاس معاملے پر اپنا واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کوحکومت چلانے سے متعلق مشورے دے دیئے ہیں۔ بلوچستان میں امن و ترقی کیلئے سیاسی جمہوری قوتوں کو یکجا ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔
گورنرمگسی