ایس ایم ایس‘ ای میل‘ فون گفتگو کو بطور شہادت پیش کیا جا سکتا ہے : لاءکمشن

10 جون 2013

اسلام آباد (آن لائن) قانون و انصاف کمشن نے تفتیش برائے منصفانہ سماعت کے قانون مجریہ 2013ءکے حوالہ سے واضح کیا ہے کسی بھی جرم کی تحقیقات کیلئے کسی کے فون ٹیپ اور ای میل و ایس ایم ایس کو شہادت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ان آلات کی مانیٹرنگ کیلئے گریڈ 20کا افسر ہی درخواست دے سکتا ہے اور عدالت میں یہ درخواست پیش کرنے سے قبل وزیرداخلہ کی منظوری ضروری ہے، ثبوت ملنے پر جج مقدمہ درج کرنے کا حکم دے گا اور اس طرح حاصل کیا گیا مواد شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکے گا، ناکافی شواہد پر افسر کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ دفاع، داخلہ اور قانون کی وزارتوں کے سیکرٹریوں کی کمیٹی ششماہی بنیادوں پر رپورٹس کا جائزہ لے گی اور اس حوالہ سے جاری کردہ وارنٹ بیرون ملک بھی موثر ہوں گے جن پر عمل طے شدہ ادارہ کے ذریعے ہوگا۔ اس حوالہ سے تعاون سے انکار کرنیوالے کو ایک سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ اس حاصل کردہ مواد کے غیر قانونی افشا یا استعمال پر ایسا کرنے والے کو ایک سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ لاءاینڈ جسٹس کمشن کی طرف سے جاری مواد میں کہا گیا ہے تحقیقات برائے منصفانہ سماعت کے قانون مجریہ 2013 ءکا مقصد شیڈول میں مندرج جرائم کی تحقیقات اور جدید تکنیکی ذرائع سے شہادتیں اکٹھی کرنے کا طریقہ کار مہیا کرنا ہے تا کہ ان جرائم کو روکا جا سکے اور ان سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔اس قانون کا مقصد قانون کے نفاذ اور سراغ رسانی سے متعلق اداروں کے اختیارات کو بھی ریگولیٹ کرنا ہے کیونکہ دیگر رائج الوقت قوانین میں اعلی جدید تحقیقاتی طریقوں کا نہ وسیع طور پر انتظام کیا گیا تھا اور نہ ہی انہیں خصوصی پر منضبط کیا گیا تھا جیسا کہ خفیہ نگرانی ،انسانی سراغ رسانی ،جائیداد میں مداخلت ،پیغام کو ریکارڈ کرنا (وائر پینٹنگ) اور روابط میں مداخلت جو دوسرے ملکوں میں وسیع پیمانے پر جرائم کی روک تھام اور نفاذ قانون اور انصاف رسانی میں ناگزیر مدد گار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جرائم کو روکنے اور ان کے نقصانات سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور دوسرے متعلقہ اداروں کو بروقت قانون کے مطابق شہادت قلمبند کرنے کے لئے کچھ مخصوص اختیارات دیئے جائیں۔
لاکمیشن