بلوچستان حکومت کا پہلا روز‘ قلات‘ خضدار میں گولیوں سے چھلنی پانچ نعشیں برآمد

10 جون 2013

کوئٹہ (بیورو رپورٹ) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور دیگر پرتشدد واقعات میں 7 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، میڈیا رپورٹ کے مطابق خضدار کے قریب کراچی روڈ سے 2 مسخ شدہ نعشیں ملی ہیں جبکہ مچھ میں بھی 3 افراد کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لورالائی میں بھی دو افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ قلات کے علاقے سے لیویز نے 3 افراد کی نعشیں قبضے میں لیکر ہسپتال پہنچا دیں جو 10سے 15روز پرانی ہیں اور انہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے نعشوں کی شناخت راجہ خان، انور اور محراب کے نام سے ہوئی ہیں۔ خضدار پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر 2افراد کی نعشیں قبضے میں لیکر سول ہسپتال پہنچا دیں جن میں سے ایک کی جیب سے ملنے والی پرچی کے مطابق اس کا نام رحیم داد سکنہ نوشکی ہے جبکہ دوسرے شخص کی شناخت نہیں ہوسکی۔ پولیس نے بتایا دونوں افرادکو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔ لورالائی کے علاقے پٹھانکوٹ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 2 افراد عبداللہ اور نصراللہ کو ہلاک جبکہ 2افراد سعید احمد اور صالح کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے نعشوں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا۔ بھاگ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص پہلوان کو ہلاک کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے قتل کی وجہ پرانی دشمنی بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے مختلف مقدمات درج کرکے کارروائی شروع کر دی ہے۔ آئی این پی کے مطابق صوبے میں نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی مختلف علاقوں سے مسخ شدہ نعشوں کے ملنے کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے علاقے عدالت روڈ پر ڈپٹی کمشنر آواران کی گاڑی چھین لی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق نامعلوم افراد نے مزاحمت کرنے کرنے پر ڈپٹی کمشنر کے ڈرائیور کو زخمی کر دیا۔
بلوچستان / نعشیں