حریف کوریائی ریاستوں کے درمیان کئی برس بعد مذاکراتی سلسلہ بحال

10 جون 2013

سیﺅل (ثناءنیوز) جزیرہ نما کوریا کی دو حریف ریاستیں شمالی اور جنوبی کوریا کے حکام کے درمیان کئی برسوں کے بعد گذشتہ روز براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوا۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناو¿ میں کمی لانا ہے۔ ابتدائی مذاکرات کا مقصد وزارتی سطح کے مذاکرات کی تیاری ہے، جو بدھ 12 جون کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونا ہیں۔ ان مذاکرات کے ایجنڈے پر معطل شدہ تجارتی تعلقات کی بحالی، کائیسونگ کے مشترکہ صنعتی کمپلیکس کو دوبارہ کھولنے کے علاوہ دونوں ملکوں میں بٹے ہوئے خاندانوں کے ارکان کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنا ہے۔
 اور جنوبی کوریا کے سیاحوں کے لئے شمالی کوریا کے پہاڑی سیاحتی مقام تک رسائی جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ دونوں کوریائی ریاستوں کے درمیان تنا¶ کے باعث شمالی کوریا نے کائیسونگ صنعتی کمپلیکس کو رواں برس اپریل میں بند کر دیا تھا۔ پیانگ یانگ جنوبی کوریا کے سیاحوں کے لئے اپنے پہاڑی تفریحی مقام مانٹ کمگانگ کے سیاحتی سلسلے کی بحالی کا معاملہ بھی زیر غور لانے کا خواہاں ہے۔ شمالی کوریا نے جمعرات چھ جون کو ان مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی جنگ کی دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات پر آمادگی کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔ تعلقات میں بہتری کی خواہش کا اشارہ دیتے ہوئے شمالی کوریا نے جمہ سات جون کو جنوبی کوریا کے ساتھ سرکاری ہاٹ لائن بھی بحال کر دی، جو اس نے رواں برس مارچ میں بند کر دی ہے۔
کوریائی ممالک