پیپلز پارٹی کی پٹائی

10 جون 2013

 پارلیمنٹ سے چھٹی بار خطاب کرنے والے صدر کی حیثیت سے جناب آصف علی زرداری آج نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔الیکشن میں پارٹی کی ناکامی کا بھی بظاہر انہیں کوئی قلق نہیں ہونا چاہئے۔
حالیہ الیکشن کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو صرف وفاقی حکومت سے دیس نکالا ملا ہے،مگر سینیٹ میں ابھی اسے برتری حاصل ہے، سندھ میں اس کی حکومت پھر سے بن گئی ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت ،بلتستان میں اس کی حکومت پہلے سے چلی آ رہی ہے، بلوچستان میں ہمیشہ آل پارٹیز حکومت بنتی ہے۔ ماضی میںپنجاب حکومت میں ہوتے ہوئے بھی بے اختیار تھی، اس لئے یہاں ہارنے سے اس کی صحت پر کیا فرق پڑا۔ مجموعی طور پرپورے ملک میںیہ پارٹی اب بھی دوسرے نمبر پر ہے۔اور اگر اس نے فرینڈلی اپوزیشن کے بجائے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا تو یہ شہہ سرخیوں کا موضوع بن سکتی ہے۔
پنجاب میں اسے بدتریں شکست کا سامنا کرنا پڑا،اس پر جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے پارٹی صدور، مخدوم شہاب الدین اور میاں منظور وٹو نے استعفی دیا اور گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود بھی مستعفی ہوئے۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی پارٹی کے اعلی تریں عہدے سے مستعفی ہونے کا راستہ اختیار کیا۔اس شکست کی بظاہر وجہ لوڈ شیڈنگ اور سابقہ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کو قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پارٹی نے پورے ملک میں انتخابی مہم چلائی ہی نہیں۔ اس کی وجہ دہشت گردی کی دھمکیاں بھی ہو سکتی ہے،یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ گوورننس کے مسائل کی وجہ سے پارٹی اپنے ووٹروں کا سامنا کرنے کے قابل نہیںتھی، یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ پارٹی کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لئے کوئی کرشماتی قیادت نہیں تھی اور اگر زرداری صاحب اس قابل تھے بھی تو عدالتوں نے ان کے پر کاٹ دیئے تھے اور انہیں ایوان صدر تک محدود کر دیا تھا۔اس حالت میں انہیں مستعفی ہو کر میدان میں نکلنا چاہئے تھا اور دہشت گردی کی دھمکیوں سے بالا تر ہو کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی سی بے خوفی اور دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔مگر زرداری صاحب نے ٹرم پوری کرنے کو ترجیح دی ، جس کی وجہ سے پارٹی مار کھا گئی مگر ہو سکتا ہے کہ زرداری صاحب کے رستے میں مک مکا کی شرائط حائل ہوں اور باری باری کے کھیل کی وجہ سے انہوں نے انتخابی مہم میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہی نہ سمجھی ہو۔ورنہ مرد حر کچھ کر دکھاتا۔
مجھے اس دعوے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ پیپلز پارٹی کا قصہ ختم ہو گیا اور اب میدان میں ن لیگ اور پی ٹی آئی ہیں۔پنجاب میں شکست کے باوجود پارٹی کی مجموعی حیثیت پر کوئی نمایاں فرق واقع نہیں ہوا۔ سندھ اس کا قلعہ تھا اور اب بھی ہے، اس کی وجہ پارٹی کا فلسفہ ہے یا گڑھی خدا بخش میں تیزی سے ابھرنے والی قبریں ہیں جن میں بھٹو خاندان کے افراد ایک ایک کر کے دفن ہو گئے،سندھی ان قبروں پر دما دم مست قلندر کرتے ہیں اور الیکشن میں پارٹی کو ووٹوں سے لاد دیتے ہیں۔اسی وجہ سے سندھ کارڈ کی بات کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کے نعرے لگتے ضرور ہیں مگر اس تصور کو عملی جامہ پہنانے والی کوئی ایک بڑی قوت نہیں ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کے تیور بگڑ جائیں تو ملک کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ن لیگ نے سندھ کارڈ کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لئے حالیہ الیکشن میں قوم پرست جماعتوں پر مشمل ایک بہت بڑا اتحاد کھڑا کیا مگرکارکردگی میں یہ صفر ثابت ہوا۔صوبے میں پی پی پی کی قوت میں ڈنٹ نہیں ڈالا جا سکا۔ سندھ کارڈ کی باتیں اپنی جگہ پر مگر پارٹی نے کبھی اس کا تذکرہ نہیں کیا اور اپنے آپ کو ایک ملک گیر اور وفاقی حیثیت میں نمایاں کرنے پر فخر محسوس کیا۔ن لیگ ابھی اس پوزیشن میں نہیں ا ٓسکی، اس طرح پیپلز پارٹی کی یہ برتری اپنی جگہ پر قائم ہے۔
عام آدمی کے مسائل کا حل نہ ہونا گوورننس کی خامی ہو سکتا ہے مگر ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ پارٹی کی کارکردگی کا دامن سرے سے خالی ہو۔اس پارٹی نے ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا اور پھر برسوں بعد اس آئین کی خامیاں درست کیں۔اٹھارویں ، انیسویں اور بیسویں ترمیم کے ذریعے آئین کا حلیہ درست کیا گیا۔ کونسا حکومتی عہدے دار ہے جو اپنے اختیارات پر کلہاڑا چلا کر دوسرے کو مضبوط کرے مگر صدر زرداری نے اپنے تمام اختیارات کو بیک جنبش قلم ،ختم کیا اور وزیر اعظم کے منصب کوبا اختیار بنایا۔یہ ترامیم نہ ہوئی ہوتیں تو آج نواز شریف کے لئے تیسری بار وزیر اعظم بننا ممکن نہ ہوتا اور نہ آج یا مستقبل کا کوئی وزیر اعظم جمہوری اور پارلیمانی نظام کی طاقت اور حشمت کا مالک ہوتا۔ان آئینی ترامیم کی وجہ سے صوبوںکو بھی بااختیار بنایا گیا، وفاق سے قارون کا خزانہ چھین کر صوبوں کو عنائت کیا گیا۔بلوچستان کی محرومیوں کے مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اس صوبے کے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھنے کے عمل کا آغاز ہوا۔اور سب سے بڑا کارنامہ جس کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے، میڈیا، خاص طور پر الیکٹرانک میڈیاکو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا گیا۔اس سے ملک میں عوامی سطح پر احتساب کا راستہ کھل گیا اور عوام کے شعور اور ان کی طاقت میں اس قدر اضافہ ہو ا کہ انہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ووٹ کے ذریعے حکومت کو تبدیل کیا۔
مجھے نہیںمعلوم صدر کی تقریر کون لکھتا ہے اور آج کی تقریر میں وہ کن نکات کو نمایاں کریں گے مگر مجھے وہ ہولناک منظر نہیں بھولتا جب صدر نے پارلیمنٹ سے پہلا خطاب کیا تھا اور پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے قریب واقع فائیو اسٹار ہوٹل میں دھماکے سے آگ بھڑک اٹھی تھی، ساری دنیا کی ٹی وی اسکرینوں پر پاکستان کے دارالحکومت میں آگ کے ان شعلوں کو بار بار دکھایا گیا، آج جب چھٹی بار صدر اپنا خطاب کر رہے ہیں تو اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ ملک میںقدرے پر سکون صبح طلوع ہوئی ہے۔دہشت گردی کی بڑی وارداتیں نہیں ہو پا رہیں۔اس پر قوم زبر دست خراج تحسین کی حقدار ہے جس نے پا مردی اور استقلال کے ساتھ حالات کے جبر کا مقابلہ کیا اور سلام ہو ملک کی مسلح افواج اور سول سوسائٹی کے ان شہدا کو جنہوں نے اپنا آج ملک ا ورقوم کے کل پر قربان کردیا۔آج ہم مستقل امن کے لئے مذاکرات پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ پانچ سال پہلے اس بارے سوچنا بھی ممکن نہ تھا۔
پیپلز پارٹی نے جو بھی کارنامے انجام دیئے وہ تاریخ کے کوڑے دان کی نذر نہیں ہو سکتے، ہاں ، اس کی بد حکومتی کی وجہ سے اس کا ووٹ بنک ضرور سکڑا لیکن اتنا بھی نہیں کہ پارٹی حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہو۔
اب ن لیگ کی باری ہے اور وہ بھی تیسری،مسائل وہی ہیں جو پیپلز پارٹی کو درپیش تھے لیکن حالات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر۔اس کا مینڈیٹ بھی ہیوی ہے، باد مخالف کا کوئی جھونکا تک نہیں۔ عوام اس کے لئے دعائیں کرتے رہے، اب دعاﺅں کے قبول ہونے کا وقت ہے۔ زرداری سب سے بھاری کے نعرے شاید سندھ میں بھی سننے میں نہ آئیں کیوں؟ پھر سہی!