وقت کرے گا فیصلہ کس نے کسے گنوا دیا

10 جون 2013

میں بالکل ایسے کالم نہیں لکھتا مگر کوئی بات میرے قلم کو پکڑ کر لئے جا رہی ہے۔ میں نے جو کل کالم لکھا تھا۔ اس میں وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کوئی ذکر نہ تھا۔ میں نے ایک اہل آدمی سابق وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ کے حوالے سے لکھا تھا کہ نوازشریف نے قریبی اور قابل آدمیوں کو وزارتیں دی ہیں۔ میں نے کہا کہ مگر یہ پتہ نہیں چلتا کہ قریبی کون ہے اور قابل کون ہے۔ اس میں صرف چودھری نثار اور خواجہ آصف کا ذکر تھا۔ مگر میرا یہ جملہ پرویز رشید کو پسند آیا۔ صبح سویرے اُس نے فون کیا۔ وہ میرے کالموں کے حوالے سے فون کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ میں کس زمرے میں آتا ہوں۔ قریبی یا قابل۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ وفا حیا والا آدمی ہے۔ شریف برادران سے اُس کی کمٹمنٹ اور صلاحیت ہے۔ اُن کے دوست دشمن قائل ہں۔ میں بے تکلفی کا مظاہرہ کر رہا ہوں کہ وہ گورڈن کالج پنڈی میں پڑھتا تھا اور میں وہاں نیا نیا لیکچرار ہو کے گیا تھا۔ آج بھی اس نے کہا ہے کہ میں وزیر اطلاعات کی حیثیت سے فون نہیں کر رہا۔ اور نہ کسی کالم نگار سے بات کر رہا ہوں۔ میرے دل میں ایک دوستانہ لہر کے سوا کچھ نہیں۔ یہ بھی کریڈٹ ہے کہ کسی کا ذکر کسی کالم میں نہ ہو اور وہ فون کرے۔ یہ فون اس نے خود کیا تھا فون آپریٹر نے نہیں ملایا تھا۔ اس طرح کا فون خواجہ سعد رفیق بھی کرتا ہے اور کلثوم نواز نے کیا تھا جب نوازشریف شہباز شریف اٹک قلعہ میں تھے۔ کلثوم نے کہا کہ یہ فون کسی کالم نگار کو نہیں بلکہ اپنے اجمل بھائی کو کر رہی ہوں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتی تھیں۔ پرویز رشید اور میں بھی ایک ساتھ گورڈن کالج پنڈی میں تھے۔ تب شیخ رشید بھی وہاں تھا۔ پرویز کو شاگرد اور دوست ہونے کا احساس تھا۔ شیخ صاحب کو سوڈنٹ لیڈر ہونے کا احساس تھا۔ یہ احساس برتری ہے جو احساس کمتری کی ایک صورت ہوتی ہے۔ پرویز رشید کو پڑھنے لکھنے سے دلچسپی تھی۔ وہ بہترین مقرر تھا مگر عوامی مقرر نہ تھا۔ شیخ رشید عوامی مقرر تھا مگر بہترین مقرر نہ تھا۔ میں یہ موازنہ کر رہا ہوں کہ وزیر اطلاعات شیخ رشید بھی تھا اور اب پرویز رشید ہے۔ وزیر اطلاعات کے طور پر شیخ صاحب سے کبھی ملاقات نہ ہوئی۔ تب پرویز بھٹو کا دیوانہ تھا۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ میں ٹھیک جگہ پر پہنچ گیا ہوں۔ وہ راجہ محمد انور کو بھی اپنے ساتھ لے آیا ہے۔ شہباز شریف فطرتاً بھٹو کے قریب ہے۔ مگر شریف برادران نظریاتی طور پر مجید نظامی کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ شہباز شریف مجید نظامی سے زیادہ محبت رکھتے ہیں۔ ایک محفل میں حجاج بن یوسف کی جلالی تقریر کے کچھ جملے میں نے آگے پیچھے کر دئیے۔ پرویز رشید نے مجھے فوراً ٹوک دیا اور تصحیح کر دی۔ مجھے اچھا لگا کہ یہ ایک قابل اور پڑھے لکھے سٹوڈنٹ کی ادائے دلبری تھی جس میں دلیری بھی تھی۔ پرویز رشید پچھلے دور حکومت میں پی ٹی وی کے چیئرمین رہے اور میں ایک دفعہ بھی اس سے نہ ملا۔ وہ سنیٹر اور مشیر پنجاب حکومت تھے۔ دو ایک بار سرسری ملاقات ہوئی۔ وزیر ہو کے وہ وزیر شذیر نہیں ہوتا تو شاید اس سے کبھی ملاقات ہو جائے۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانے کو ملاقات نہیں کہتے۔ ایک بار ایک ٹی وی چنل پر وہ میرے پروگرام میں آئے سوزوکی مہران گاڑی خود ڈرائیو کرتے ہوئے پہنچے نہ سکیورٹی نہ پروٹوکول۔ ایک آدمی بھی ساتھ نہ تھا۔ نوازشریف کی سادگی کے اعلان سے پہلے ہی یہ حال ہے۔ سادگی میں آسودگی ہے مگر وزیر شذیر تو عیش و نشاط کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ پرویز جانتا ہے کہ قابلیت بھی ضروری ہے اور قبولیت بھی۔ قبولیت بہرحال قابلیت سے آگے کی چیز ہے۔ قریبی کے لئے خوش نصیبی کا ساتھ ہونا ضرور ہے۔ کبھی کبھی غریبی میں یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں۔ بالعموم جو حکمرانوں کے قریب ہوتا ہے وہ قابل نہیں ہوتا۔ کھی کبھی یہ بات کسی ایک شخص میں یکجا ہو جاتی ہے۔ بہت سے دوستوں کے فون آئے۔ اسلم رندھاوا کا فون آیا۔ وہ مجید نظامی کے سکول فیلو ہونے کا ذکر فخریہ کرتے ہیں۔ وہ نظامی صاحب سے عمر میں کچھ بڑے ہیں مگر صحت مند اور توانا ہیں۔ اچھے دل و دماغ اور پرانی ریت روایت کے آدمی ہیں میرے کالم کے لئے ہمیشہ محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ آج انہیں بھی وہ جملے پسند آئے۔ پرویز رشید نے جن کا ذکر کیا ہے۔ ایک دوست نے آفر کی کہ میں فلمسٹار لیلیٰ اور جہانگیر بدر کی صلح صفائی کا اہتمام کرتا ہوں۔ بے شک وہ مسلم لیگ ن میں چلی جائے۔ مگر ہمیشہ مجنوں لیلیٰ کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ یہاں لیلیٰ مجنوں کے پیچھے پیچھے ہے۔ ایک شعر یاد آیا ہے جو کسی اشارے کے بغیر عرض کر رہا ہوں۔ ہم یہ شعر انٹر کالجیٹ مباحثوں میں پڑھا کرتے تھے۔ 
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے۔۔۔ مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
پشاور میں یہ شعر بڑا پسند کیا گیا تھا۔ مگر لیلیٰ اور جہانگیر بدر لاہور میں ہیں۔ اطلاعاً عرض ہے کہ شہباز شریف نے جو شعر پنجاب اسمبلی میں پڑھا۔ شکر ہے کہ یہ نیا شعر ہے اور بہت بامعنی اور خوبصورت ہے۔ یہ شعر ہمارے دوست نامور شاعر لفظ و خیال کے سچے مسافر بلکہ ہمسفر جان کاشمیری کا ہے۔ اُسے ہم محبت سے ”میری جان“ کہتے ہیں۔ مزید اطلاعاً عرض کہ وہ بزرگ آدمی ہے وہ شعیب بن عزیز اور مجھ سے عمر میں تین چار سال چھوٹا ہو گا۔ اُسے انتظار رہتا ہے کہ کوئی محترم خاتون بھی اُسے اسی طرح مخاطب کرے۔ جان کاشمیری نے گوجرانوالہ کو لاہور کے ساتھ شعر و ادب کے راستوں پر جوڑنے کی مسلسل کوشش کر رکھی ہے۔ شہباز شریف نے یہ شعر پڑھا تھا۔ 
تیری پسند تیرگی میری پسند روشنی۔۔۔ تو نے دیا بجھا دیا میں نے دیا جلا دیا
شہباز شریف کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ بہت اچھے اچھے شعر موجود ہیں۔ بے شمار اشعار تو تخلیقی اور دوستانہ خوبیوں سے لبریز دوست شعیب بن عزیز کو یاد ہیں۔ اُسے معلوم تھا کہ یہ جان کاشمیری کا شعر ہے۔ صبح سویرے اس کا فون جان کاشمیری کو گیا ہے۔ یہ سوچنا بھی دوستوں کا کام ہے کہ اس سال جان کاشمیری کا نام پرائڈ آف پرفارمنس کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ اس غزل کے 13 خوبصورت اشعار ہیں۔ چند اشعار عرض کرتا ہوں۔ غور و فکر کی بھی دعوت ہے۔ 
دل سے گذشتہ عہد کا نام و نشاں مٹا دیا۔۔۔ ٹھیک ہوا غلط ہوا جو بھی ہوا بھلا دیا
میرا کہا فریب ہے تیرا کہا فریب ہے۔۔۔ وقت کرے گا فیصلہ کس نے کسے بھلا دیا
جان یہی کمال تھا صدق بھرے مزاج کا۔۔۔ میں نے جسے ہنسا دیا اُس نے مجھے رلا دیا