”وزارتِ فروغ ِ خُوشامدیات!“

10 جون 2013

دوسروں کی دیکھا دیکھی دو افسروں نے بھی خوشامدی اشتہارات چھپوائے ہیں، ان دو اعلیٰ افسروں کے خلوص اور میاں صاحب سے اُن کی عقیدت پر‘ شُبہ کرنا مناسب نہیں ۔یہ الگ بات کہ‘ انہوں نے اِس خلوص اور عقیدت کا اظہار کرنے میں دیر لگا دی۔اُن کی جیبوں سے۔ ”خُوشامدی اشتہارات“۔ کی رقم نکلوانا بھی ناانصافی ہو گی۔ جب ان دونوں اعلیٰ افسروں کی صوابدید پر‘ کروڑوں (شاید اربوں) روپے کے فنڈز (اور سیکریٹ فنڈز بھی) ہوتے ہیں تو وہ اپنی جیب سے‘ اِس طرح کے اخراجات کیوںبرداشت کریں؟۔ یوں بھی اِس طرح کے اعلیٰ افسران ۔ ” نواب ابنِ نواب“ تو نہیں ہوتے۔ نوابی کا شوق تو اُنہیں کوئی بڑا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہوتا ہے۔ 1973ءکے متفقہ آئِین اور بعد میں اُس میں ہونے والی ترامیم میں ۔ ”خوشامد“۔ پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ اِس لئے کہ۔ ”خوشامد“۔ اِظہارِ رائے کی ہی ایک شکل ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ۔ آئِین میں اِس طرح کے الفاظ لِکھے ہیں یا نہیں؟ کہ۔ ”کوئی اعلیٰ آفیسر نومنتخب وزیرِاعظم کو مبارکباد دینے کے لئے سرکاری خزانے سے رقم لے کر۔ ”خوشامدی اشتہار“ نہیں چھپوا سکتا“۔ بے جا تعریف اور چاپلوسی کو۔ ”خوشامد“۔ کہتے ہیں اور انگریزی میں۔ " Flattery" ۔ خوشامد کا کلچر یا فن بہت پرانا ہے۔ ہر کمزور شخص اپنے سے طاقتور انسان کی اور ہر حاجت مند اپنے حاجت روا کی، خوشامد کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
 انسان نے، سب سے پہلے دیوتاﺅں کی خوشامد کرنا شروع کیاور پھِر بادشاہوں کی؟۔ کئی بادشاہوں کو دیوتا قرار دِیا گیا یعنی۔"Two In One " ۔ کے طور پر اُن کی خُوشامد کی گئی۔ہندوﺅں کے عقیدے کے مطابق۔”وِ شنو دیوتا “۔ کے دو۔ اوتار۔ ”بھگوان رام“۔ اور۔ ”بھگوان کرشن“۔ راجا بھی تھے۔ ”رام راج“۔ مثالی حکومت کو کہا جاتا ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں۔ انڈین نیشنل کانگریس کے قائدین ہندوﺅں کو ۔ ”رام راج“۔ کی نوید دیتے تھے، جبکہ قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے ذہن میں، مدینہ کی فلاحی مملکت کا نقشہ تھا اور انہوں نے کہا تھاکہ۔ ”پاکستان ایک اسلامی، جمہوری اورفلاحی مملکت ہو گا“۔ مقدونیہ۔ ( یونان) کا سکندرِ اعظم اپنی ماں۔ ”المپیاس“۔ اور باپ۔ ”فیلقوس“۔ کی طرف سے خود کو، دیوتاﺅں کی اولاد کہتا تھا۔ جب وہ قریب اُلمرگ تھا تو، اُس کی خواہش پر ،اُس کے جرنیلوں اور درباریوں نے اُسے بھی ۔” دیوتا“۔ تسلیم کر لیا تھا۔" Divine Right Of Kings " یعنی بادشاہوں کو خُداوندیا کُلّی اختیارات ہونے کا عقیدہ ۔ہر قوم میں صدیوں سے رائج ہے ۔عربی زبا ن کے ۔”ظِلّ“۔ یعنی سایہ کو عُلماءوفُضلاءنے بادشاہوںکی خوشامد کرنے کے لئے ، ظِل اللہ ۔ظلِّ الہیٰ ۔ظلِّ حق ،ظلِّ خُدا اور ظلِّ سُبحانی وغیرہ کی تراکیب ایجاد کِیں۔شاعری میں ۔”قصِیدہ“۔ ایک ایسی صِنف ہے جو شاعروں نے بادشاہوں کے لئے ایجاد کی۔عجیب بات ہے کہ ۔کسی شخص کی ۔” مدح“۔اور ۔” ہجو“( مذمت) کو قصیدہ ہی کہا جاتا ہے۔شاعروں نے بادشاہوں ،(بعض اوقات ) فوجی آمروں اور جمہوری حُکمرانوں کی تعریف (یا خوشامد) میں قصِیدے لِکھے ۔فارسی کے بلند پایہ شاعر ۔”فردوسی“، نے سُلطان محمود غزنوی کی فرمائش پر ( فی شعر ایک سونے کی اشرفی مِلنے کے وعدے پر) ۔ ” شاہنامہ“ ۔لِکھا جِس پر، سُلطان کی شان بھی بیان کی گئی تھی ،لیکن جب۔” فردوسی“۔کو حسبِ وعدہ معاوضہ نہ مِلا تو، اُس نے، سُلطان محمود غزنوی کی ۔”ہجو“۔لِکھی اور بھاگ کرایران چلا گیا۔اُس نے اپنی ۔”ہجو“۔ میں سُلطان محمود غزنوی کو مُخاطب کرتے ہُوئے لِکھا تھا کہ۔” اگر تُم کسی بادشاہزادی کے بیٹے ہوتے تو ،مُجھ سے وعدہ خلافی نہ کرتے “۔
مہاراجا بکرم آدتیہ( بکرماجیت) جِس کے نام سے، بکرمی سال جاری ہُوا اور مُغل بادشاہ اکبر کے درباروں میں نو۔نو۔رتن۔ (جواہر) ۔دراصل عُلماءوفضلااور دوسرے ماہرینِ فن ( خُوشامدیوں سمیت) شامل تھے ۔ جمہوری مُلکوں میں۔"Kitchen Cabnet" ۔ کا تصوّرشاید اُنہی ۔” رتنوں “۔ سے ہی لِیا گیا ہے۔ مہاراجا وِکرم ادتیہ اور ۔” مہا بلی“۔اکبر کے ادوار کو ۔مﺅرخوں نے ۔” سنہری زمانہ“۔ (Golden Age) قرار دِیا۔ وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف نے بھی 23دسمبر2012ءکو اپنے مُنہ زبانی قصِیدے میں ۔” صدر زرداری کے دَور کو ۔سنہری دَور قرار دِیا“۔ پاکستانی سیاست میں قصِیدہ گوئی کا آغاز ۔جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کِیا ۔جب انہوں نے صدر سکندر مرزا کو اپنے خط میں لِکھا کہ۔” جنابِ صدر ! آپ قائدِاعظم سے بھی بڑے لیڈر ہیں“۔ جنابِ بھٹو نے ،صدر جنرل ایوب خان کو بھی ۔” ایشیا کا ڈیگال“ ۔اور ۔” غازی صلاح اُلدّین ایوبی ثانی“ ۔مشہور کر دیا تھا۔ خود بھٹو صاحب کو بھی اُن کے عقیدت مندوں نے۔” قائدِ عوام “۔ اور ۔” فخرِ ایشیا“۔ قرار دِیا ۔پھِر چل سو چل ۔
دراصل خُوشامد کا کلچر ۔ ہر معاشرے کی ضرورت ہے ۔عِلم ،سماجی اور سیاسی مرتبے کا ہر کمترشخص ،اپنے سے اعلیٰ مرتبے کے انسان کی خُوشامد کرتا ہے اور ایک چھوٹے مُلک کا بادشاہ/حُکمران اپنے سے بڑے، بادشاہ یا حُکمران کی خُوشامد کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ خُوشامد ۔ہرمعاشرے کی ضرورت ہے کیوں نہ ہم اِس ضرورت کی اہمیت کو تسلیم کر لیں۔ میری تجویز ہے کہ ، مختلف طبقوں کو،خُوشامد کرنے کے آداب سِکھائے جائیں اور تعلیمی اداروں میں ۔’ ’خوشامدیات“۔(Flatterology) کو بطور مضمون پڑھایا جائے اور اگر بجٹ اجازت دے تو۔” وزارتِ فروغِ خُوشامدیات“ ۔(Ministry Of Flatterology Development ) بھی قائم کر دی جائے، کہ۔خُوشامدی کلچر ۔تو پہلے ہی ہمارے ۔” گِٹّوں۔ گوڈوں“۔ میں بیٹھ گیا ہے ۔