2 ہفتہ وار چھٹیوں کا احمقانہ فیصلہ بھی ختم کریں!

10 جون 2013

عام انتخابات کے بعد معرض وجود میں آنے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جہاں عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کا ہنگامی بنیادوں پر آغاز کردیا ہے اور خصوصاً بجلی اور گیس کے سنگین بحران، کمر توڑ مہنگائی، دہشت گردی اور بیروزگاری دور کرنے کے منصوبوں پر فوری کام شروع کردیا گیا ہے، وہاں گزشتہ حکومتوں کے بعض ذیلی سطح کے احمقانہ فیصلوں کو بھی ختم کردیا جائے تو بہتر ہوگا۔ خاص طور پر سرکاری دفاتر میں ہفتے میں 2 چھٹیوں کا تو ٹنٹا ہی ختم کردینا چاہئے۔ ہفتے میں 2 تعطیلات رکھنے کا فیصلہ تو ہم سب کو خوب یاد ہے کہ سوا 2 سال قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں ہوا تھا اور بہانہ یہ بنایا گیا تھا کہ اگر اتوار کے علاوہ ہفتے کو بھی دفتروں میں چھٹی کردی جائے تو بجلی کی بچت ہوجائے گی۔ انہوں نے ہفتے کی چھٹی کا حکم لاہور میں منعقدہ قومی توانائی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی کیا تھا۔ دراصل یہ کانفرنس توانائی بحران کو کم کرنے اور خصوصاً بجلی کی قلت کے مسئلے کے حل کے لئے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے طلب کی تھی اور وزیراعظم کو اس لئے بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی تھی کہ خیال تھا کہ وہ توانائی بحران سے نمٹنے کے بارے میں ماہرین کی مفید تجاویز پر موقع پر ہی بحث کرکے عمل میں لے آئیں گے اور بجلی کی کمی سے سخت تنگ آئے ہوئے عوام کو ریلیف مل سکے گا۔ کانفرنس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی اس شکایت کو جائز تسلیم کیا گیا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا زیادہ تر شکار آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو بنایا جارہا ہے لہذا اس کی تلافی ہونی چاہئے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے کانفرنس کے دوران حکومت پنجاب کی اس شکایت کو تسلیم کرلیا اور موقع ہی پر لوڈشیڈنگ کو منصفانہ اور متوازن بنانے کا حکم دے دیا جس پر دانستہ عملدرآمد نہ کیا گیا، ساتھ ہی یہ احمقانہ فیصلہ بھی دے دیا کہ دفتروں میں بجلی کی بچت کی خاطر ہفتے کو بھی چھٹی کردی جائے۔
سابق وزیراعظم گیلانی نے اپنے دونوں فیصلوں میں سے ایک یعنی ہفتے میں 2 چھٹیوں سے متعلق فیصلے کو فی الفور نافذ کردیا جبکہ حقیقت میں اس کا مقصد ہفتے میں 5 دن ڈیوٹی نہیں بلکہ ساڑھے 4 روز کام کی عادت ڈالنا تھا۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ تقریباً سبھی سرکاری دفاتر میں پہلے ہی پبلک ڈیلنگ سے متعلق کاموں میں سرکاری ملازمین خصوصاً حکام کی جانب سے غفلت کا ارتکاب تو عام ہوچکا ہے اوپر سے ایک چھٹی بڑھا کر لاکھوں ملازموں کو بجلی بچانے کے بہانے ایک اور چھٹی دے دی گئی۔ چند ہفتوں بعد توانائی سے متعلق محکموں اور شعبوں کے ماہرین سے رائے لی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہفتے میں 2 تعطیلات کا فیصلہ نہ صرف بیکار ثابت ہوا ہے بلکہ بجلی زیادہ ضائع ہونے لگی ہے۔ وہ اس طرح کہ لاکھوں سرکاری ملازمین ہفتے کو گھروں میں بیٹھ کر سخت گرمی میں نہ تو پنکھے اور نہ ہی لائٹس بند کرسکتے ہیں بلکہ صاحب استطاعت لوگ تو گھر میں چھٹی گزارتے ہوئے ائیر کنڈیشنز کا بھی استعمال بڑھا دیتے ہیں۔ لہذا سابق وزیراعظم کا بجلی بچت کا فیصلہ جتنا احمقانہ تھا اتنا ہی بیکار ثابت ہوا۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اس قومی توانائی کانفرنس میں کئے گئے اس لغو فیصلے کو کانفرنس کے منتظم اعلیٰ میاں شہباز شریف نے صوبہ پنجاب میں نافذ کرنے سے انکار کردیا۔ جب پنجاب کا ذکر ہورہا ہے تو ذرا نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کی حماقت بھی ملاحظہ فرمایئے کہ انہوں نے چارج سنبھالتے ہی بجلی کے بحران سے تنگ شہریوں کے پرتشدد مظاہروں سے خوفزدہ ہوکر اپنی جانب سے یوسف گیلانی والا احمقانہ فیصلہ دیا کہ پنجاب بھر میں بھی وفاق کی طرح بجلی بچانے کی خاطر ہفتے میں 2 چھٹیاں کردی جائیں۔ یعنی نگران حکومت نے بھی سابقہ وفاقی حکومت جیسی حرکت ہی کی اور یہ نہ دیکھا کہ کیا لاکھوں سرکاری ملازمین ہفتے کی چھٹی کے دن گھروں میں پنکھے، روشنیاں اور ائیر کنڈیشنز وغیرہ بند رکھیں گے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہفتے کے تجربے سے ماہرین کا یہ تجزیہ آیا کہ بجلی کی بچت کے بجائے صوبے بھر میں بجلی کا شارٹ فال 600 میگاواٹ کی شرح سے مزید بڑھ گیا ہے۔
11 مئی کے انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کو نہ صرف وفاق میں بلکہ دو صوبوں میں بھی عوام الناس کی جانب سے حکمرانی کا مینڈیٹ ملا ہے اور ظاہر ہے کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف خلوص نیت سے وطن عزیز کی فلاح و بہبود کے لئے اقتدار میں آچکے ہیں لہذا انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سرکاری دفاتر میں جتنی زیادہ چھٹیاں ہوں گی، ملازمین اپنے گھروں میں بیٹھ کر دفتر سے کئی گنا زیادہ بجلی خرچ کریں گے۔ لہٰذا بجلی بچت کا ایک مو¿ثر اور مفید اقدام یہی ہے کہ ملک بھر کے سرکاری دفاتر میں ہفتے میں 2 چھٹیوں کی بجائے ایک ہی چھٹی دی جائے۔ بلکہ اس کا خوش آئند آغاز تو ہفتہ 8 جون کی تعطیل ختم کرنے سے متعلق وزیراعظم نواز شریف کے نوٹیفکیشن ہی سے ہوگیا ہے۔