”قاتل“ ڈینگی؟ خسرہ مکا¶ جی!!!

10 جون 2013

ان دنوں ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب خسرہ کے موذی مرض کی لپیٹ میں ہے۔ گوکہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں میں خسرہ کے ٹیکے بھی لگائے جاتے ہیں تاہم بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے باوجود بعض ایسے بچے بھی خسرہ کا شکار ہوئے ہیں جن کوخسرہ کے حفاظتی ٹیکے لگائے گئے تھے اور اس وقت صوبائی دارالحکومت لاہور، فیصل آباد سمیت پورے پنجاب میں خسرہ کامرض نو عمر بچوں کی ہلاکتوں کاباعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں خسرہ کی وباءکسی حد تک 20ویں صدی میںبھی موجود تھی لیکن بعدازاں حفاظتی ٹیکوں میں خسرہ کے ٹیکے لگنے کایہ فائدہ ہوا کہ خسرہ مملکت خداداد سے رخصت ہوگیا لیکن گزشتہ سال دسمبر میں یہ وبائی مرض دوبارہ پاکستان میں رونما ہوا ہے۔ خسرہ وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے جس کااظہار سوزش حلق‘ بخار ‘ نزلہ‘ زکام اور جسم پر سرخ دانوں کے نکلنے کی صورت میں ہوتاہے۔ گزشتہ سال پنجاب میں ڈینگی بخار حملہ آور تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے جنگی بنیادوں پر ڈینگی بخار کا مقابلہ کیا اور اس موذی مرض کو بہت حد تک ختم کردیا۔ خسرہ ان کے گزشتہ دو ر حکومت میں ہی سامنے آگیاتھا لیکن اس میں خوفناک حد تک اضافہ ملک میں موسم گرما کی آمدکے ساتھ ہوا ہے۔ اس وقت پنجاب کوخسرہ سے بہت زیادہ خطرہ ہے اور یہ حسن اتفاق ہے کہ میاں شہبازشریف الیکشن 2013میں بھی بھاری اکثریت سے جیتنے والی پارٹی مسلم لیگ ن کی طرف سے صوبے کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ وہ اس قسم کے چیلنجز سے ہنگامی بنیادوں پر مقابلہ کرنے کے عادی ہیں اور جس طرح آئے روز خسرہ سے نو عمر بچوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب ڈینگی مچھر کو پنجاب سے بھگانے والی ”ڈانگ“ اب خسرہ پھیلانے والے اسباب کے خلاف چلائیں گے۔ 6جون کو فیصل آباد میں نو عمر بچوں نے خسرہ کے خلاف حکومت کی طرف سے حفاظتی اقدامات نہ کرنے پر احتجاجی ریلی نکالی تھی جس میں اس قسم کے بینرز بھی ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے کہ ڈینگی کے ”قاتل“ خادم اعلیٰ پنجاب بچوں کو خسرہ سے نجات دلانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ یہ احتجاجی ریلی مزدوروں کی تنظیم لیبر قومی قوومنٹ کے زیر اہتمام نکالی گئی تھی لیکن اس میں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج بچوں کے رشتے دار بچے بچیاں بھی شامل تھیں جنہیں اپنے پیارے بہن بھائیوں کی زندگیوں کے متعلق بہت زیادہ تشویش تھی۔ اس وقت تک سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 30سے زائد بچے خسرہ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ لیبر قومی موومنٹ کے نونہال گروپ کے ذریعے اہتمام منعقدہ یہ ریلی ضلع کونسل چوک سے شروع ہوئی تھی۔ بچوں کے ہاتھوںمیں پلے کارڈز اور بینرز پکڑے ہوئے تھے جن سے حکمرانوں سے کہاگیاتھا ۔ ظالمو !جواب دو ‘ معصوم بچوں کے خون کاحساب دو اور چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری سے کہاگیاتھا کہ وہ خسرہ کے مرض میں اضافہ اور اس کاہسپتالوں میں مناسب علاج نہ ہونے کا نوٹس لیں۔ گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مامون رشید کی عدالت میں ڈرگ انسپکٹر بلال یاسین نے موقف اختیار کیاتھا کہ چند ہفتے پہلے خسرے کی ویکسین رکھنے والے 40فریزر چوری ہوگئے تھے جس کی وجہ سے صوبے کے اکثر ہسپتالوں میں بر وقت خسرہ کی ویکسین نہیں پہنچائی گئی۔ جسٹس مامون رشید نے ڈرگ انسپکٹر بلال یاسین کو معطل کرتے ہوئے اس کیس کو سماعت کے لئے منظور کرلیاہے اور لکھا ہے کہ ایک طرف خسرہ کے عفریت نے نو عمر بچوں کو نگلنا شروع کررکھا ہے اوردوسری طرف محکمہ صحت کی غیر ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ ویکسین کے40جاروں کی چوری کی خبر سنا رہاہے۔اس وقت پورے صوبے میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دو روز پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ فیصل آباد، پیرمحل، حافظ آباد اورلاہور میں ایک ایک بچہ اس مرض کے ہاتھوں موت کا شکار ہوا جس سے گزشتہ چھ ماہ میں ہلاکتوں کی تعداد 150ہوگئی ہے جبکہ اس وقت بھی 16419 بچے اس مرض میں مبتلا ہو کر مختلف شہروں کے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق پنجاب میں مجموعی طور پر 195نئے مریض سامنے آئے ہیں جن میں گیارہ کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور 19کا تعلق لاہور سے۔ گزشتہ 24گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں میں پنڈی بھٹیاں محلہ حسن پورہ کااڑھائی سالہ گوہر بھی شامل ہے جوالائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے اللہ کو پیارا ہوگیاہے۔ پنجاب میں تقریباً9لاکھ بچوں کو خسرے کی حفاظتی ٹیکے نہ لگائے جانے کاانکشاف ہوا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب کے اکثر اضلاع میں خسرہ کے حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے اور تو اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں 26 لاکھ کے بجائے 15لاکھ بچوں کوحفاظتی ٹیکے لگائے گئے تھے۔ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں جس طرح بہا ر کے موسم میں ہر طرف بکھری سبزے کی ترو تازہ فضا آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اسی طرح ہرگھرکے آنگن میں بچوں کی چہل پہل ماں باپ اور بہن بھائیوں کے موڈ کو درست کرتی ہے لیکن ان دنوں ہر پانچویں گھر میں بچوں کے چہرے خسرہ کے باعث دھند لائے ہوئے ہیں اور ماںباپ کو گلہ ہے کہ ہر کام جنگی بنیادوں پر کرنے کے دعویدار حکمرانوں نے ابھی خسرہ کے موذی مرض کانوٹس نہیں لیا اور ابھی تک خسرہ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کاکوئی اہتمام نہیں ہوا اورہسپتالوں میں اس موذی مرض کی ویکسین تک سپلائی نہیں ہورہی۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب نے ہنگامی بنیادوں پر کوئی خسرہ کے خاتمے کیلئے اقدامات نہ کئے تو یہ ان کی حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہوگی۔ جناب! خادم اعلیٰ پنجاب اب تو آپ کے لئے ڈینگی کی طرح خسرے پر ”ڈانگ“ چلانا زیادہ مشکل کام نہیں بلکہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔