ڈرون حملے اور پاکستان کا مستقبل

10 جون 2013

1947ءکو معرضِ وجود میں آنے والا ملک پاکستان تاریخ کی کڑی آزمائشوں کے دریا کی منہ زور لہروں کا نشانہ رہا ہے۔ جب کبھی ترقی کے ساحل کے قریب پہنچتا یہ منہ زور لہریں اسے کھینچ کر پھر بھنور میں لے آتیں۔ یوں عجیب سے کھیل میں ملک اور قوم کی قسمت بنتی اور بگڑتی رہی۔ ایٹمی پاور ہونے کے باوجود ہاتھ بندھے اور فیصلہ کرنے سے ذہن معذورہے۔ ہم نے اپنی کچھ کمزوریوں کے عوض اپنی خود مختاری رہن رکھ کر غیروں کی غلامی قبول کر لی۔ پھر جو وہ کہتے رہے ہم کرتے رہے اور آج یہ دن ہے کہ ہمارے اکثر فیصلے ملک سے باہر ہی طے ہوتے ہیں جیسے کسی ڈرامے کے ڈائیلاگ مصنف لکھتا ہے اور کردار صرف اس ڈرامے کو اپنی ادائیگی سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ہم بھی بڑے عرصے سے یہی ڈرامہ کرتے آ رہے ہیں جس کا مصنف سات سمندر پار بیٹھ کر پتلی کی طرح ہمیں نچا بھی رہا ہے اور ہمیں دھمکاتا بھی ہے۔ ہمیں تو یہ بھی حق نہیں کہ ہم ان کے ظلم پر احتجاج کی آواز بلند کر سکیں۔ احتجاج کرنا تو کیا آہ کرنا بھی بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ پچھلے سات آٹھ سالوں سے ہماری سرزمین کو تجربہ گاہ بنانے والوں میں جدید اسلحے سے ہمارے معصوم لوگوں کو ذبح کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جسے کوئی بھی پاکستانی قبول نہیں کرتا۔ اس کی ابتداءایک آمر پرویز مشرف نے کی اور گزشتہ حکومت نے اسے کامیابی سے آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ یہ جانے بغیر کہ ایک دہشت گرد کے ساتھ جو دس پندرہ معصوم بچے، عورتیں اور جوان، وحشیانہ موت جن کا مقدر بنتی ہے، ان کا کیا قصور تھا؟ کیا انسانی جان اتنی سستی ہو گئی ہے یا پاکستان کے لوگوں کی توقیر باقی نہیں رہی۔
الیکشن کے بعد نواز شریف کے حلف لینے سے پہلے ہی انہیں ڈرون کی سلامی پیش کر کے امریکہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ چین سے تعلقات قائم کرنے پر خوشی کے نعرے لگانے والی قوم کو اپنی اوقات میں واپس آ جانا چاہئے لیکن شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب قوم ڈرون کے حملوں کے حوالے سے ایک نقطے پر یکجا ہے۔ روز روز کے مرنے سے ایک دن بیٹھ کر فیصلہ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف اس حوالے سے ایک مقام پر کھڑی ہیں۔ عمران خان نے نواز شریف کو ڈرون گرانے یا روکنے کی کاوش میں بھرپور ساتھ دینے کا جو اشارہ دیا ہے اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے بڑے بھی اب تھک چکے ہیں۔ وہ بھی کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ آخر ہم نے اتنا جدید اسلحہ کسی عجائب گھر یا نمائش کے لئے تو نہیں رکھا۔ یہ اسلحہ معصوموں کی حفاظت اور ظالم کے ہاتھ روکنے کے لئے استعمال نہ ہوا تو لوگوں کا سکیورٹی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا اور اگر اداروں، رہنماﺅں اور فیصلہ سازوں سے اعتماد اٹھ جائے تو پھر ریاست بکھر جاتی ہے اور بکھر جانا تباہی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ اس موقع پر یہ بات بے حد خوش آئند ہے کہ جنرل پرویز کیانی اور میاں نواز شریف نے امریکی خصوصی نمائندے سے ڈرون حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن یہ مطالبہ درخواست نہیں بلکہ ایک لائحہ عمل کی صورت میں ہونا چاہئے اور ان کو بتا دینا چاہئے کہ اب وہ چند رہنماﺅں کو ورغلا کر اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکیں گے کیوں کہ اس وقت قوم جاگی ہوئی ہے اور متحرک بھی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب پوری قوم امریکہ کے خلاف سڑکوں پر ہو اور اس صورتحال میں امریکہ کو عالمی برادری میں اپنا دفاع کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اس دھرتی کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ کوئی بلا اس کے بچوں کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ میں جب بھی دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلتا ہوں تو صدقے کا گوشت بیچنے والے مجبور اور نحیف بابے کے پاس ضرور ٹھہرتا ہوں۔ اس سے ایک لفافہ لے کر نہر میں پھینکتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدایا میرے ملک کی حفاظت کر۔ اسے دشمنوں سے بچا لے۔ لیکن میرے اندر سے ایک آواز آتی ہے کہ دعا کے ساتھ تدبیر بھی ضروری ہے اور آج قوم تدبیر کے ذریعے تقدیر بدلنے کا فیصلہ کر چکی ہے کہ اس سرزمین کو ہر قسم کے بیرونی غلبے سے نجات دلا کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ ملک میں موجود دہشت گردی کا ازالہ صرف ہماری بہادر فوج ہی کر سکتی ہے کیوں کہ اس کے مضر اثرات بھی اسی کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ دہشت گرد پیدا کرنے والے دہشت گردی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟