مسلم لیگی حکومت، قرض کے انبار مشکلوں کے پہاڑ

10 جون 2013

2008ءکے بعد 2013ءمیں بھی پرامن انتقال اقتدار کا مرحلہ خوش اسلوبی اور احسن طریقہ سے انجام ہوا،نیک ارادوںاور وعدوں کے ساتھ عوامی خدمت اور وطن سے وفاکا حلف اٹھاےا گےا مگر حلف برداری میںحلف سے روگردانی ہو رہی تھی کیونکہ قومی زبان میں حلف برداری کی وزیراعظم کی خواہش کو رد کرتے ہوئے آئین پاکستان سے تجاوز کر کے صدر پاکستان نے پانچ سالہ آئین سے گرےز کی روایت برقرار رکھی۔ سابقہ حکومت جہاں بے پناہ مشکلوں مصیبتوں کا باعث رہی خلق خدا ضروریات زندگی کے حصول کے معاملے میں انتہائی پریشانی کا شکار رہی ۔ ڈالر بے لگا م تھا ، بجلی ناتمام ، معیشت کا پہیہ جام عام دیہاڑی داڑ کے لئے مزدوری نہ کوئی کام ، بھوک افلاس عام سابقہ پانچ سال میں جتنی خودکشیاں ہوئیں ہماری ملکی تاریخ میں مجموعی طور پر اس تعداد میں ممکن نہیں ۔ امن و امان کے حالات جتنے سابقہ پانچ سال میں ابتر ہوئے ساٹھ سال میں نظیر نہیں ملتی ۔ کراچی ، کوئٹہ اور صوبہ سرحد میں ٹارگٹ کلنگ کا ریکارڈ بھی سابقہ حکمرانوں کے نام ہے ۔بدامنی بے روزگاری نے جرائم میں بے پناہ اضافہ کیا ۔ سٹریٹ کرائم کا یہ حال ہے کہ لوگ جیب میں رقم رکھنے اور قیمتی موبائل کے استعمال سے اجتناب کرتے ہیں ۔ گاڑیاں اٹھانا اور اغوا برائے تاوان باقاعدہ دھندے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کی پشت پناہی بڑی بڑی شخصیات فرماتی ہیں جن کے سامنے پولیس و انتظامیہ بے بس و لاچار نظر آتی ہے ۔ سابقہ گورنرپنجاب سلمان تاثیر کا بیٹا تو اغوا تھا ہی ستم بالائے ستم سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا صاحبزادہ بھی تاوان کی غرض سے سرعام اٹھالیا جائے تو عام پاکستانی کے تحفظ کا کیا عالم ہوگا ؟ سابقہ پانچ سالوں میں مملکت کے بڑے بڑے ادارے کنگال کر دیے گئے ۔پی آئی اے ، اوجی ڈی سی ، ریلوے ، سٹیل ملز سمیت دیگر مالی ادارے اپنا وجود قائم رکھنے سے قاصر ہیں ۔ غور فرمائےے جس ملک کے صدر یکے بعد دیگر وزیراعظم گورنر وزیراعلیٰ تمام وزیر مشیر لوٹوپھوٹو کے اصول کے تحت سرگرم اور سرگرداں ہوجہاں عدالت کے فیصلوں کی روگردانی بڑے بے باک انداز سے ہوتی رہی ۔ عدالت سے سزایافتہ مجرموں کی سز اصدر اپنے اختیار کے استعمال سے معاف کرتے ۔ چوری اور سینہ زوری کا ایسا نظارہ تاریخ میں پہلے کبھی دکھائی نہیں دیا ۔یہی حال قرضوں میں بے تحاشہ اضافہ پچھلے پانچ سالوں میں ملکی قرضوں کا حجم جون 2008ءمیں 60کھرب تھا جو مارچ 2013میں بڑھ کر 136کھرب تک اضافہ ہوگیا یعنی پانچ سال سے کم مدت میں ملکی قرض میں 76کھرب کا اضافہ ہوا ہے ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اندرونی قرضے بیرونی قرضوں کی نسبت زیادہ شرح سود کے حامل ہوتے ہیں بیرونی قرضوں کا حال بھی ایسا ہی ہے ۔پاکستان کے بیرونی قرضوں اور واجب الادارقم (ای ڈی ایل ) کا حجم 2008ءمیں 46ارب ڈالر تھا وہ ستمبر 2012ءتک 66ارب ڈالر ہوگیا ۔اگر 2010میں آئی ایم ایف کا پروگرام معطل نہ ہوتا تو بیرونی قرضوں کے حجم میں 8.9ارب ڈالر کا مزید اضافہ ہوتا ۔ ہمارے سابقہ حکمرانوں نے سیاہ کاریوں میں مغل شہزادوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔آج پیدا ہونے والا ہر بچہ 83000روپے کا مقروض ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں پیدا ہونے والا بچہ سوال کرتا ہے میں دنیا میں آج آیا ہوں مقروض کیوں ہوں ؟ اس سوال کے جواب کا سزاوار کون ہے ؟
فوجی آمروں کے گناہوں پر لعنت ملامت تو ہم سب کرتے نہیں تھکتے ۔ آج سب سے بڑ ا سوال مشرف کی جزا سزا کا مطالبہ زبان زد عام ہے مگر سابقہ پانچ سال لوٹ مار کے جمہوری تماشے سے قوم پر نازل ہونے والی آفات کا ذکر ہے نہ کسی کو سزا کا مطالبہ ۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کا دعوی ہے کہ موجودہ کوئلے کے ذخائر سے آئندہ پانچ سو سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ چین کی ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا جائے تو سستا ترین عمل ہے ۔ حضرت قائداعظم کا سب سے بڑا کارنامہ منتشر گروہوں کی لام بندی کرنا ہے ۔ میاں صاحب لوگوں نے آپ کے گلے میں ووٹ کے ذریعے اعتماد کے ہار ڈالے ہیں ان کو ناامید نہ کرنا رہنما راستے نکالنے والا اور راستہ بتانے والا ہوتا ہے اپنے آپ کو لوگوں کی سطح پر لانا ہوگا ۔ ان کے لئے مارگلہ کی پہاڑی پر ٹینٹ لگانا ہوگا ۔ گورنر ہاﺅس ، وزیر اعظم ہاﺅس سے پرہیز و گریز کرنا ہوگا ۔ قبر کی حقیقت کو پہچانتے ہوئے شان و حشمت ، شوکت و جلالت پر لعنت بھیج کر لوگوں کے دکھوں میں شریک ہونا ہوگا جو ہمارے بزرگوں اور اسلاف کا طریق ہے ۔پاکستان کے پہلے بجٹ کے موقع پر قومی خزانہ خالی تھا ۔ حضرت قائداعظم نے اپنے وکیل سے پوچھا کہ میرے بینک میں شیئر کتنے کے ہونگے ۔ وکیل نے بتایا تقریبا 72لاکھ روپے ۔ حضرت قائد نے شیئر فروخت کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرادی پھر دوسروں سے چندے کی اپیل فرمائی۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کا پہلا بجٹ فاضل بجٹ تھا ۔ ابتدائی دنوں میں چینی کا بحران تھا ۔ وزیر اعظم ہاﺅس کے لئے کوٹہ مقرر ہوا جب کوٹہ ختم ہوتا تو نواب زادہ لیاقت علی جو وزیر اعظم پاکستان بھی تھے ان کے اہل و عیال بغیر چینی کے چائے پیتے تھے ۔ آٹے کا بحران پیدا ہوا تو گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے وعدہ کیا کہ میں بھی ایک وقت روٹی کھاﺅں گا سب سے بڑی مثال میرے آقا تاجدار مدینہ ﷺکی ہے ۔ غزوہ خندق کے دوران ایک صحابی نے اپنا پیٹ دکھایاجس پر پتھر بھوک کی وجہ سے بندھا تھا ۔ میرے آقا ﷺنے جب اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو دو پتھر دکھائی دیے ۔میاں صاحب ملک ہم کو حاصل ہوگیا قوم بنانی ہے جس کےلئے امن کے ساتھ انصاف کی فراوانی اولین شرط ہے ۔ قوم کا لوٹا ہوا مال واپس لائیے۔ سب کے لئے یکساںاحتساب کا عمل جاری کیجئے اور خود بھی احتساب کے لئے تیار رہیے ۔ ملک کی بقا اور استحکام اسی میں مضمر ہے ۔آپ کو وزیراعظم بننے کی مبارک تب دیں گے جب پانچ سال بعداپنے وعدوں کو وفا کرنا میں سرخرو ہونگے۔