بہاﺅ کی مخالف سمت تیرنے والا پیراک

10 جون 2013

ایک نیک نام سے سرکاری افسر کا بیٹا اپنے خاندان کی داستانِ غم یوں سُنا رہا تھا ”ہمیں کیا پوچھتے ہو ہمارا باپ اتنا لالچی ہے، اتنا لالچی ہے کہ اس نے اکیلی اپنی عاقبت کے چکر میں ہم سب گھر والوں کی دنیا خراب کر رکھی ہے۔“ اس افسر بیچارے نے شاید حضرت مولانا طارق جمیل کی تقریریں سُن رکھی تھیں۔ یہ ”جنت کے سفیر“ قسم کے مولانا حور و قصور اور باغ رضواں کا ذکر کچھ یوں بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں کہ اچھے بھلے شاطر اور کائیاں قسم کے لوگ بھی بس سے رہ جاتے ہیں۔ سیدھے سادے، بھولے بھالے لوگ تو پہلے ہی اس چکر میں چکر کاٹتے دکھائی دے رہے ہیں :
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں
لیکن اپنے مرزا اسد اللہ خاں غالب کچھ اور طرح کا ماجرا بیان کر ر ہے ہیں :....
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
ہم نہیں مانتے کہ اتنا باخبر آدمی حوروں کی حُسن و رعنائی اور دلکشی سے بے خبر ہو گا۔ قصہ یوں ہے کہ وہ دراصل اپنے اعمال و اشغال سے بھی بے خبر نہیں تھا۔ اقبالی بیان ملاحظہ ہو ....
جانتا ہوں ثواب طاعت و زُہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی
جب جانتے تھے کہ پلے کیا ہے تو پھر انہوں نے حوروں میں کیڑے ہی نکالنے تھے اور بھلا کیا کرنا تھا۔ ایک نیک نام سے افسر، ان کے جواں سال بیٹے اور حور و قصور کے رنگین تذکرے، یہ سب کچھ ہمیں ایک اخباری تصویر دیکھ کر یاد آ رہا ہے۔ ایک موٹر سائیکل پر دو آدمی سوار ہیں، دونوں باریش ہیں۔ آگے بیٹھے موٹر سائیکل چلانے والے کی داڑھی کالی ہے اور پیچھے بیٹھے ہوئے کی چٹی۔ دونوں باپ بیٹا ہیں۔ تعارف کروا دوں۔ یہ پیچھے بیٹھے ہوئے مولانا غیاث الدین انصاری ہیں یہ حلقہ پی پی 133 شکرگڑھ سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں۔ آپ ان باپ بیٹا کی موٹر سائیکل سواری سے یہ غلط اندازہ نہ لگائیں کہ یہ پہلی مرتبہ ایم پی اے بنے اور یہ ان کی ممبری کا پہلا روز ہے۔ نہیں نہیں، موصوف پہلی مرتبہ 1985ءمیں اور دوسری مرتبہ 1997ءمیں ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اب تیسری بار پنجاب اسمبلی کی ممبری کا حلف اٹھانے آ رہے ہیں۔ مولانا غیاث الدین انصاری کا موٹر سائیکل چلانے والا بیٹا مجھے کچھ مطمئن سا دکھائی دے رہا ہے۔ شاید یہ نظر کا دھوکہ ہو، باقی دلوں کا حال تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ مولانا غیاث الدین فرما رہے ہیں کہ میرا بیٹا مجھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر جہاں میں چاہتا ہوں، لے جاتا ہے۔ موٹر سائیکل پر کوئی ”سکہ بند“ باتنخواہ ڈرائیور نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کام کیلئے عام طور پر کوئی بھائی بیٹا اور بھتیجا ہی کام آتا ہے۔ جو شخص گاڑی نہیں رکھ سکتا وہ بھلا ڈرائیور کیا رکھے گا۔ پھر ڈرائیوروں کے کچھ اپنے ہی نخرے ہوتے ہیں۔ پچھے زمانے کے اردو کے ایک معروف کالم نگار میم شین نے دوسری شادی کروا لی۔ ان کی نئی بیوی گاڑی چلانا جانتی تھی۔ ان کے ایک رازدار دوست ان کی بیوی کو گاڑی چلاتے دیکھ کر بولے، اچھا ہوا آپ نے ڈرائیور کا مسئلہ حل کر لیا، ورنہ اس عمر میں --- آگے ڈرائیوروں کے نہ ٹکنے والا معاملہ تھا یا کوئی اور پوشیدہ سی راز دارانہ بات۔ صاف بات ہے کہ ہم بالکل نہیں جانتے۔ سو ہم اس باب میں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ باقی ہم ڈرائیوروں کے ناز نخروں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ایک ڈرائیور اپنے مالک کو گاڑی کی چابی دیتے ہوئے بولا ”میری تنخواہ کا حساب کر دیں صاحب جی! میں کل سے نہیں آیا کروں گا۔“ کار مالک نے گھبرا کر پوچھا ”اوہو! کیا ہو گیا۔ آپ کو کوئی شکایت ہے میری طرف سے---؟“ ڈرائیور اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا ”آپ سے بالکل کوئی شکایت نہیں لیکن میں اب یہاں نہیں رہ سکتا، بیگم صاحبہ نے مجھے بھی ’صاحب لوگ‘ سمجھ لیا ہے، ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ، تُوں تکرار، نوکا ٹوکی“ میں بس اب یہاں نوکری نہیں کر سکتا۔“ اب کیا یہ لکھنا ضروری ہے کہ گاڑی کا مالک اس ڈرائیور کی آزادی اور قسمت پر رشک کر رہا تھا۔ کالم مولانا غیاث الدین انصاری سے پرے سرکتا جا رہا ہے۔ ان کی جانب لوٹتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں کسی کی گاڑی پر اس لئے نہیں بیٹھتا کہ پھر وہ جائز ناجائز کام کروانے کی فرمائش کرتے لگتے ہیں۔ مجھے (کالم نگار) اپنی عمر کے 66ویں برس ہر بات پر کوئی اور بات یاد آ جاتی ہے۔ مولانا سچ کہہ رہے ہیں کہ کسی کی گاڑی کے ”ہُونٹے“ لینے کے بعد پھر ان کے کئی جائز ناجائز کام تو کرنے پڑتے ہیں۔ جھنگ شہر سے نوابزادہ افتخار احمد انصاری ایک مرکزی وزیر ہُوا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ گوجرانوالہ سرکاری دورے پر آئے ہوئے تھے، میرے والد محترم علامہ عزیز انصاری (مرحوم) نے انہیں ناشتہ کی دعوت دی۔ انہیں ہمارے ہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی تو مجھے انہیں لانے کیلئے کینال ریسٹ ہاﺅس بھجوایا گیا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگے ”پہلے رات کے کھانے کا بل چکا لوں تو پھر آپ کے ہاں ناشتے پر چلتا ہوں۔“ تھوڑی دیر میں ایک صاحب اپنے ہاتھ میں دو تین عرضیاں پکڑے آن پہنچے۔ نوابزادہ صاحب ان درخواستوں پر دستخط کرتے ہوئے مجھے بتانے گے ”یہ صاحب میرے پچھلی رات کے ڈنر کے میزبان تھے۔“ اب آخر میں مولانا غیاث الدین انصاری کا یہ اعلان بھی سُن لیں کہ وہ ہمیشہ اسمبلی موٹر سائیکل پر ہی آیا کریں گے۔ پہلی وجہ تو ظاہر ہے یہی ہو سکتی ہے کہ ان کے پاس اور کوئی سواری ہے نہیں، دوسری وجہ وہ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ اس طرح قوم اور ارکان اسمبلی کو سادگی اور کفایت شعاری کا سبق بھی دینا چاہتے ہیں۔ مولانا دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت سے نہیں لگتے۔ ان کی ذاتی زندگی سادگی، پاکیزگی اور کفایت شعاری کا نمونہ دکھائی دے رہی ہے۔ سوسائٹی کی عام روش کے خلاف زندگی بسر کرنا کتنا مشکل کام ہے اور اب مالی کرپشن کے خلاف ہماری سوسائٹی میں تو نفرت بھی ختم ہو چکی ہے۔ ادھر غور کریں کہ مولانا کیا بتا ر ہے ہیں۔ سُنیے ”مسجد میرا دفتر ہے اور شہر کا ایک مصروف چوک میرا کیمپ آفس‘ واہ! زندہ باد، مزہ ہی آ گیا۔ پانی کے بہاﺅ کی سمت نعشیں تیرتی ہیں اور مخالف سمت پیراک۔ اس بہادر پیراک تک میرا سلام پہنچے : ....
بہ آں گروہ کہ از ساغر وفا مستند
سلام ما بر سانید ہر کجا ہستند
پس تحریر : محترمہ فوزیہ قصوری کے پاس تحریک انصاف چھوڑنے کے علاوہ اور راستہ بھی کیا ہے؟ ان کی پارٹی خدمات سے انکار نہیں کیا جا رہا لیکن انہیں دلاسہ تسلی کچھ یوں دی جا رہی ہے : ....
بنتے ہیں تیرے چارسُو اس وقت چار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
یاد رہے کہ الیکشن کمشن کو بھجوائی گئی فہرست میں ان کا چوتھا نمبر تھا۔