حادثاتی اداکار

10 جون 2013

مکرمی! انتخابات 2013ءکا اعلان ہوتے ہی جہاں ہر پارٹی نے لوگوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے اپنے منشور پیش کئے اور عوام سے براہ راست رابطہ کرنے کے لئے جلسوں کا سہارا لیا وہاں پی پی پی نے چیئرمین شہید اور محترمہ شہید کی خدمات گنوانے پر ہی اکتفا کیا۔ سابقہ وزیر داخلہ جن کے بارے میں عوام کی رائے یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولنے میں پاول جوزف گوئبلز کے ہم پلہ ہیں انتخابات سے چند روز قبل پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں کے خلاف کرپشن کے بھاری بھر کم اور فرسودہ ثبوت پیش کر کے عوام کی ہمدردی اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر پارٹی کے شعبدہ باز سارا وقت مسلم لیگ (ن) کی خامیاں تلاش کرنے اور کرپشن کے ثبوت ڈھونڈنے میں صرف کرنے کی بجائے اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں کئے جانے والے مثبت اقدام (چند ہی سہی) نمایاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آج پارٹی لاوارث اور بے یارومددگار نہ پڑی ہوتی۔ ملک کے چاروں صوبوں میں وجود اور مقبولیت رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی 2013ءکے انتخابات کے بعد صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ اس مقصد کے لئے کسی بھی سقراطی یا افلاطونی عقل کی ضرورت نہ تھی سیاست کا تھوڑا سا بھی ادراک رکھنے والا شخص اس بات سے آگاہ تھا کہ پی پی پی اسی انجام سے دوچار ہوگی۔ آخر حادثاتی اداکار سے اس سے بہتر کس کارکردگی کی توقع کی جا سکتی تھی۔(ظفر یٰسین چوہان روڈ اسلام پورہ ساندہ روڈ لاہور)